مسجد قرطبہ کی تاریخ

تحریر:حافظ عبدالاعلی درانی۔۔۔بریڈفورڈ

اندلس میں اسلامی حکومت کی داستان آٹھ صدیوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ دنیا جب جہالت کے اندھیروں میں غوطے کھا رہی تھی، اس وقت کا مہذب ترین معاشرہ یعنی یورپ جب علم و عالم سے بے بہرہ تھا تب اندلس میں علم کے نئے باب کھل رہے تھے۔ سینکڑوں کتب خانے جن میں لاکھوں کتب موجود تھیں قرطبہ میں موجود تھے۔طب، جراحت، کیمیا، حدیث، فقہ،ریاضی اور آج کی جدید سائنس کے تمام علوم کی بنیاد اندلس میں ڈالی گئی۔اس وقت کی معلوم دنیا میں اندلس علم کے حوالے سے سب سے زرخیز خطہ مانا جاتا تھا۔ دنیا جہان سے تشنگانِ علم یہاں پہنچتے تھے۔ اور پھر یہاں کوئی ایک تہذیب کے افراد نہیں بلکہ متعدد قسم کے افراد تھے جن کو اخوت و مساوات کا سبق مسلمانوں نے پڑھایا اور وہ ایسے ایک ہوئے کہ دنیا کی سب سے ترقی یافتہ قوم بن کر ابھرے۔ آٹھ سو برس میں اسلامی حکومت نے عروج و زوال کے کئی سفر طے کئے اور پھر صفحہ ہستی سے حکومت اندلس سے ایسے مٹ گئی جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔اندلس کی تاریخ ایسی تاریخ ہے جو کسی بھی مسلمان کی آنکھیں نم ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔آج وہاں موجود اسلامی فنِ تعمیر کے شاہ کار ہی ہیں جن کی موجودگی اغیار کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ جو قوم آج خزاں کا شکار ہے اس کی بہار بہت شاندار تھی۔قرطبہ میں جامعہ قرطبہ سے لیکر غرناطہ میں آخری اسلامی حصار الحمراء￿ تک آج سپین جانے والے دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں کہ یہ کیسی قوم تھی کہ جہاں سے بھی گزری اپنا نشاں چھوڑ گئی۔جامعہ قرطبہ اسلامی اور دنیائے فنِ تعمیر کا ایک شاہکار ہیلیکن بد قسمتی ہے کہ جو مسجد علم کا مرکز تھی، جو ماہ رمضان میں ستاروں کی طرح جگمگاتی تھی وہ اب صدیوں سے حرفِ اذاں کو ترس رہی ہے۔وہاں مسلمانوں کو سجدے کی اجازت نہیں۔ جامعہ قرطبہ کی تعمیر عبد الرحمان الداخل نے آٹھویں صدی کے اواخر میں میں شروع کی، وادی الکبیر میں دریا کے پل پر اس جگہ تعمیر کی گئی جہاں سینٹ ونسنٹ کا گرجا موجود تھا۔ اس کا کچھ حصہ تو پہلے ہی مسلمان مسجد کے طور پر استعمال کر رہے تھے لیکن مسجد کی تعمیر کے لئے مسلمانوں نے باقی گرجا حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی، تمام تر بہتر برتاؤ کے باوجود بھی عیسائی اس پر تیار نہ ہوئے۔پھرعبدالرحمان الداخل نے بہت بھاری قیمت ادا کر کے باقی گرجا بھی عیسائیوں سے خرید لیا۔ مسجد کی تعمیر کا کام شروع ہوا تو امیر عبدالرحمان الداخل نے خود کام کی نگراانی کی، تعمیر میں ذوق و شوق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایسی شاہکار مسجد صرف دو برس کے قلیل عرصے میں تیار ہوئی۔ اس وقت جامعہ قرطبہ کی تعمیر پر 80 ہزار دینار خرچ ہوئے تھے۔ دیواریں اس قدر بلند تھیں کہ دور سے شہر کی فصیل معلوم ہوتی تھیں، چھت،تیس فٹ کی بلندی پر تعمیر کی گئی اور یوں ہوا اور روشنی کا بہتر نکاس ممکن ہوا۔چھت کو سہارا دینے کے لئے کئی ستون تعمیر کئے گئے، ان ستونوں کی کثرت سے مسجد میں خود بخود راستے بن گئے۔ہر ستون پر دوہری نعلی محرابیں نصب کی گئیں جو بعد میں اندلس کے فنِ تعمیر کا حصہ بنیں۔ ہر دوسری محراب کو پہلی محراب کے اوپر ایسے نصب کیا گیا کہ وہ چھت سے جا ملی۔چھت میں دو سو اسی ستارے نصب کئے گئے جن میں سے وہ ستارے جو اندرونی دالان میں نصب کئے گئے، خالص چاندی کے تھے۔مرکزی حال میں ایک بہت بڑا جھاڑ نصب کیا گیا تھا جن میں بیک وقت ایک ہزار چراغ روشن ہو تے تھے۔ مسجد میں نصب ستون زیادہ تر اشبیلیہ، اربونہ اور قرطاجنہ سے منگوائے گئے لیکن وہ مستقبل کی ضروریات کے لئے تعداد میں بہت کم تھے، لہٰذا عبد الرحمان الناصر نے بعد میں اندلسی سنگِ مر مر کو ترشوا کر ستون تیار کروائے۔سنگِ مر مر ترشوانے کے بعد ان کو سونے اور جواہرات سے مزین کیا گیا، یہ سارا کام نہایت نفاست کے ساتھ انجام دیا گیا۔ مجموعی طور ستونوں کی تعداد 1400 تھی۔مسجد میں شروع شروع میں نو دروازے نصب کئے گئے جو بعد میں اکیس تک پہنچ گئے۔ ان میں سے نو دروازے مشرق کی جانب اور نو ہی مغرب کی جانب نصب کئے گئے۔ دونون جانب آٹھ دروازے مردوں کے لئے جبکہ ایک ایک دروازہ خواتین کے لئے مخصوص تھا۔شمال کی جانب تین دروازے تھے جن پر پیتل تصب تھا جو سورج کی روشنی میں جگمگا اٹھتا تھا۔جنوب میں قصرِ خلافت سے ملانے کے لئے بھی سونے کا ایک دروازہ موجود تھا۔ ہشام اول نے مسجد میں ایک مینار تعمیر کروایا جس پر جانے کئے لئے ایک زینہ موجود تھا۔یہ مینار بعد میں ایک زلزلے کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔بعد میں عبدالرحمان الناصر نے اس مینار کی جگہ نیا مینار تیار کروایا جس پر جانے کئے لئے دو زینے بنائے گئے۔ اس مینار پر ایک کلس بنایا گیا جس کی شکل تین سیبوں سے ملتی تھی۔ ان میں سے ایک سیب چاندی باقی دونوں سونے کے تھے۔ سیبوں کے اوپر سوسن کا ایک پھول بنایا گیا جس پر ایک سونے کا انار بنایا گیا۔ بعض روایات کے مطابق اس مینار کی اونچائی 72 ہاتھ تھی۔اور اسی مینار سے موزن اذان دیتا تھا۔ مسجد میں خاص دیکھنے کی چیز وہاں بنایا گیا منبر تھا۔ ساتھ ہی مسجد کے اندر موجود محراب بھی مسجد کی خوبصورتی میں بہت اضافہ کرتے تھے۔تمام ستونوں پر، جیسے پہلے بیان ہوا دوہری محرابیں نصب تھیں اور ہر ستوں ایسا لگتا تھا جیسے کھجور کا درخت ہو۔ستون کھجور کے تنے کی مانند تھا جبکہ محرابیں کجھور کی ٹہنیوں کی مانند نظر آتیں تھیں۔منبر کے لئے جس سنگِ مر مر کا استعمال ہوا وہ دودھ سے زیادہ سفید اور نہایت اجلا تھا۔سامنے کی جانب قوس کی شکل میں ایک محراب بنائی گئی جس کے دونوں اطراف دو دو ستوں تھے جن میں ایک سرخ اور ایک نیلا تھا۔قبلہ کی دیوار کے ساتھ جو دروازہ ساباط یعنی قصرِ خلافت کی گزر گاہ کی جانب موجود تھا وہ خوشبو دار لکڑی کے 36 ہزار ٹکڑوں کو جوڑ کر بنایا گیا۔ لکڑی کے ٹکڑوں کو جوڑنے کے لئے سونے اور چاندی کے کیل استعمال کئے گئے۔ مسجد میں روشنی کے لئے استعمال ہونے والے چراغوں کی درست تعداد کا کوئی اندازہ نہیں، ایک روایت کے مطابق ان کی تعداد ساڑھے سات ہزار سے زیادہ تھی۔ روشنی کا انتظام اس قدر بہتر تھا کہ رات کے وقت بھی دن کا گماں ہوتا تھا۔ساڑھے تین من موم اور تین سو من تیل سال بھر میں استعمال کیا جاتا تھا۔مسجد ایک خوبصورت شاہ کار تھی، اس کی خوبصورتی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ وہاں نصرانیوں کی موجودگی کے باوجود کبھی کلیسا بنانے کی حمایت نہیں کی گئی۔ نصرانی کہتے تھے کہ اگر کیلسا بنایا گیا تو مسجد کا حسن خراب ہو کر رہ جائے گا۔بعد میں آرچ بشپ نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے وہاں کلیسا کی تعمیر کا حکم دیا۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد اس نے جب مسجد کی سیر کی تو تاسف کے ساتھ کہنے لگا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ مسجد اتنی حسین ہے تو کبھی کلیسا کی تعمیر کی اجازت نہ دیتا۔ یہ روایت آج بھی قرطبہ کے میونسپل حال میں موجود ہے۔ آج آٹھ سو برس بیت گئے اور بقول اقبال ‘‘آہ کے صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاں’’ وہاں آج تک االلہ اکبر کی صدا نہیں گونجی۔وہ مینار اور اس کا برج اب بھی کسی موذن کا انتظار کرتے ہیں۔یہ تب کی بات ہے جب سلطان سعود نے ہسپانیہ کا سرکاری دورہ کیا۔ پروٹوکول میں موجود افسران سے نماز کی اجازت چاہی تو انہوں نے معذرت کی کہ مسجد اب کلیسا میں تبدیل ہو چکی ہے۔ سلطان کا چہرہ غصے سے تمتما اٹھا اور انہوں نے جواب دیا ‘‘میں اْس رسول کی اْمت سے ہوں جس نے نصرانیوں کے وفد کو مسجد نبوی میں عبادت کرنے کی اجازت دی اور تم مجھے اپنی مسجد میں نماز ادا کرنے سے روکتے ہو؟’’پھر سلطان نے اذان دینے کا حکم دیا اور یوں صدیوں بعد قرطبہ کی فضا اللہ اکبر سے گونج اٹھی۔ آج وہاں کلیسا موجود ہے، اجازت مانگنے پر بھی مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے۔ایک بار وہاں نماز ادا کرنے والوں کو سزائیں بھی ہو چکی ہیں۔ 1931 میں علامہ اقبال نے وہاں آٹھ سو سال بعد نماز ادا کی تھی اور اب پھر وہی خاموشی قائم ہے۔مسلمان وہاں سے ایسے مٹ گئے جیسے تھے ہی نہیں۔آٹھ سو برس پر مشتمل یہ داستان اپنے اندر کئی کہانیاں لئے ہوئے ہے۔ مسلمان ان حالات کو کیسے پہنچے یہ ایک الگ داستان ہے "اے حرم قرطبہ ! عشق سے تیرا وجود” عشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بود تیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیل وہ بھی جلیل و جمیل ، تو بھی جلیل و جمیل۔

 

Related Articles