بڑھتی آلودگی ہندوستان کے لئے خطرہ کی گھنٹی

عارف عزیز( بھوپال)

Advertisement

گرین پیس جنوب مشرقی ایشیا اور سوئٹزر لینڈ کی تنظیمیں آئی کیو ایئر اور ایئر ویژول، کی ورلڈ ایئر کوالٹی رپورٹ ویسے تو پورے ایشیا کی ہی بے حد خطرناک تصویر پیش کرتی ہے لیکن خاص کر ہندوستان کے لئے یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ دنیا کے تین ہزار سے زیادہ شہروں کے پی ایم 2.5 ڈاٹا کی بنیاد پر تیار اس رپورٹ میں گرو گرام کو دنیا کا سب سے آلودہ شہر قرار دیا گیا ہے تو غازی آباد دوسرے نمبر پر ہے۔ دنیا کے دس سب سے آلودہ شہروں میں بائیس ہندوستان میں ہیں۔ جو لوگ مانتے ہیں کہ آلودگی کے خلاف اپنے یہاں حالیہ برسوں میں اقدامات کئے گئے ہیں، دہلی میں آلودگی کے اعداد و شمار ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہونا چاہیے۔ دوسال پہلے دہلی میں اوسطاً پی ایم 2.5 کی سطح 108.2 تھی جو ایک سال بعد ہی بڑھ کر 113.5 ہوگئی۔ اسی سے پتا چلتا ہے کہ آلودگی کی روک تھام کے لئے جس سنجیدگی اور تسلسل کی ضرورت ہے وہ ہمارے یہاں ہے ہی نہیں۔ پی ایم 2.5 کے خطرناک سطح پر پہنچنے کی وجہ صنعتیانہ، گھریلو کچرا اور گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں ہے۔ قومی دارالحکومت کے علاقہ میں بڑھتی آلودگی کی ایک وجہ اندھا دھند تعمیری سرگرمیاں بھی ہیں۔ تمام رپورٹیں بتاتی ہیں کہ آلودگی سے صحت اور جیب دونوں پر اثر پڑتا ہے۔ عالمی تنظیم صحت کے مطابق فضائی آلودگی سے ہندوستان میں سالانہ 20 لاکھ اموات ہوتی ہیں جو دنیا بھر میں فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات کا تقریباً ۲۵ فیصد ہے۔ آلودگی کم کرنے کے معاملے میں ہم چین سے سبق لے سکتے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ چین میں ۲۰۱۷ء کے مقابلے میں ۲۰۱۸ء میں آلودگی کی سطح میں ۱۲ فیصد گراوٹ آئی تھی۔ وہاں آلودگی روکنے کے لئے سخت قوانین بنائے گئے ہیں۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ دنیا کے دس سب سے زیادہ آلودہ شہروں کی فہرست میں اس مرتبہ بیجنگ یا شنگھائی نہیں بلکہ ژنجیانگ کا ہوٹن ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں دارالحکومت دہلی اور این سی آر ہو یا شمالی ہند کے دوسرے شہر یہاں آلودگی کم کرنے کی ایک بھی مثال نہیں ملتی۔ یہی نہیں سب سے آلودہ شہروں میں جنوبی ہند کے شہروں کا نہ ہونا بھی ہماری ترجیح کے بارے میں بہت کچھ بتا دیتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اب آلودگی کے خلاف جنگی خطوط پر اور تسلسل کے ساتھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ خطرہ بے قابو ہوجائے گا۔

 

Advertisement

Related Articles