چیئرمین پی سی بی رمیز راجا کا مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ

کراچی،اپریل۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین رمیز راجا نے عمران خان کے خلاف کامیاب تحریک عدم اعتماد کے بعد شہباز شریف کے ملک کے وزیراعظم منتخب ہونے پر عہدے سے مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈان اخبار کی خبر کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ رمیز راجا بطور چیئرمین پی سی بی عہدے پر کام جاری رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ نئے وزیر اعظم کا ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے برتاؤ کی بنیاد پر کریں گے، وزیراعظم پاکستان کے پاس پاکستانی کرکٹ بورڈ کا سربراہ مقرر کرنے کا اختیار ہے۔سابق ٹیسٹ کپتان رمیز راجا کو گزشتہ سال ستمبر میں عمران خان کی جانب سے اس عہدے کے لیے نامزد کیے جانے کے بعد پی سی بی کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا، تاہم تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد سابق وزیراعظم کی برطرفی کا مطلب ہے کہ رمیز راجا کی بطور چیئرمین پی سی بی پوزیشن خطرے میں ہے۔رمیز راجا نے پی سی بی کے سابق سربراہ احسان مانی کی جگہ لی تھی، جو 2018 کے عام انتخابات کے نتیجے میں عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ عہدہ سنبھالا تھا، احسان مانی کو نجم سیٹھی کے مستعفی ہونے کے بعد مقرر کیا گیا تھا، نجم سیٹھی نے اس وقت استعفیٰ دے دیا تھا جب انہوں نے محسوس کیا تھا کہ عمران خان انہیں اپنی مدت کے باقی تین سال مکمل نہیں کرنے دیں گے۔مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں نجم سیٹھی پی سی بی کے سربراہ تھے اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اب اقتدار میں ہیں، نجم سیٹھی ایک بار پھر کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بننے کے لیے موزوں افراد میں سے ایک ہیں۔نجم سیٹھی نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل ) کے آغاز میں ایم کردار ادا کیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے ابتدائی اقدامات کیے تھے۔پی سی بی کے سربراہ کے طور پر ان کے دور میں آئی سی سی ورلڈ الیون، سری لنکا اور زمبابوے کی کرکٹ ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔بین الاقوامی ٹیموں کو پاکستان کا دورہ کرنے پر راضی کرنے کے عمل نے احسان مانی اور وسیم خان کی قیادت میں مزید رفتار پکڑی تھی جو اس وقت پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو تھے، ان دونوں نے 2019 میں پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے کو بھی بہتر بنایا تھا۔اس سلسے میں انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں محکموں کی شرکت بند کر کے 6صوبائی ایسوسی ایشنز کو متعارف کروایا تھا جس کے نتیجے میں سینکڑوں کرکٹرز اور عملہ ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔صوبائی ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں کا تقرر بھی پی سی بی کے ذریعے کیا جاتا ہے جبکہ ان کے انتخابات ابھی باقی ہیں۔رمیز راجا کے بطور پی سی بی کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے دور میں پاکستان نے آسٹریلیا کی ایک مکمل سیریز میں میزبانی کی ہے جبکہ اس سے قبل ستمبر میں راولپنڈی میں پہلے میچ کے موقع پر نیوزی لینڈ کے اپنے دورے سے دستبردار ہونے کے بعد انگلینڈ نے بھی اپنا شیڈول منسوخ کر دیا تھا، دونوں ٹیمیں 2022-23 کے پاکستان کا دورہ کرنے والی ہیں۔پاکستان کرکٹ ٹیم رمیز راجا کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک مختلف روپ میں نظر آنے لگی، بطور ایک با اختیار کپتان کے بابر اعظم کی قیادت میں پاکستان نے ورلڈ کپ میں روایتی حریف بھارت کے خلاف اپنی پہلی کامیابی حاصل کی اور روایتی حریف کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی، پاکستان عالمی ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں پہنچ گیا تھا جہاں اسے ایونٹ کے چمپئن آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

چیئرمین پی سی بی رمیز راجا کا مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ
کراچی،اپریل۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین رمیز راجا نے عمران خان کے خلاف کامیاب تحریک عدم اعتماد کے بعد شہباز شریف کے ملک کے وزیراعظم منتخب ہونے پر عہدے سے مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈان اخبار کی خبر کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ رمیز راجا بطور چیئرمین پی سی بی عہدے پر کام جاری رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ نئے وزیر اعظم کا ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے برتاؤ کی بنیاد پر کریں گے، وزیراعظم پاکستان کے پاس پاکستانی کرکٹ بورڈ کا سربراہ مقرر کرنے کا اختیار ہے۔سابق ٹیسٹ کپتان رمیز راجا کو گزشتہ سال ستمبر میں عمران خان کی جانب سے اس عہدے کے لیے نامزد کیے جانے کے بعد پی سی بی کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا، تاہم تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد سابق وزیراعظم کی برطرفی کا مطلب ہے کہ رمیز راجا کی بطور چیئرمین پی سی بی پوزیشن خطرے میں ہے۔رمیز راجا نے پی سی بی کے سابق سربراہ احسان مانی کی جگہ لی تھی، جو 2018 کے عام انتخابات کے نتیجے میں عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ عہدہ سنبھالا تھا، احسان مانی کو نجم سیٹھی کے مستعفی ہونے کے بعد مقرر کیا گیا تھا، نجم سیٹھی نے اس وقت استعفیٰ دے دیا تھا جب انہوں نے محسوس کیا تھا کہ عمران خان انہیں اپنی مدت کے باقی تین سال مکمل نہیں کرنے دیں گے۔مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں نجم سیٹھی پی سی بی کے سربراہ تھے اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اب اقتدار میں ہیں، نجم سیٹھی ایک بار پھر کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بننے کے لیے موزوں افراد میں سے ایک ہیں۔نجم سیٹھی نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل ) کے آغاز میں ایم کردار ادا کیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے ابتدائی اقدامات کیے تھے۔پی سی بی کے سربراہ کے طور پر ان کے دور میں آئی سی سی ورلڈ الیون، سری لنکا اور زمبابوے کی کرکٹ ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔بین الاقوامی ٹیموں کو پاکستان کا دورہ کرنے پر راضی کرنے کے عمل نے احسان مانی اور وسیم خان کی قیادت میں مزید رفتار پکڑی تھی جو اس وقت پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو تھے، ان دونوں نے 2019 میں پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے کو بھی بہتر بنایا تھا۔اس سلسے میں انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں محکموں کی شرکت بند کر کے 6صوبائی ایسوسی ایشنز کو متعارف کروایا تھا جس کے نتیجے میں سینکڑوں کرکٹرز اور عملہ ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔صوبائی ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں کا تقرر بھی پی سی بی کے ذریعے کیا جاتا ہے جبکہ ان کے انتخابات ابھی باقی ہیں۔رمیز راجا کے بطور پی سی بی کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے دور میں پاکستان نے آسٹریلیا کی ایک مکمل سیریز میں میزبانی کی ہے جبکہ اس سے قبل ستمبر میں راولپنڈی میں پہلے میچ کے موقع پر نیوزی لینڈ کے اپنے دورے سے دستبردار ہونے کے بعد انگلینڈ نے بھی اپنا شیڈول منسوخ کر دیا تھا، دونوں ٹیمیں 2022-23 کے پاکستان کا دورہ کرنے والی ہیں۔پاکستان کرکٹ ٹیم رمیز راجا کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک مختلف روپ میں نظر آنے لگی، بطور ایک با اختیار کپتان کے بابر اعظم کی قیادت میں پاکستان نے ورلڈ کپ میں روایتی حریف بھارت کے خلاف اپنی پہلی کامیابی حاصل کی اور روایتی حریف کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی، پاکستان عالمی ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں پہنچ گیا تھا جہاں اسے ایونٹ کے چمپئن آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

 

Related Articles