اترپردیش قانون ساز اسمبلی کے مانسون اجلاس میں 28 بل منظور, یوان کی کارروائی غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی

لکھنؤ،  اترپردیش قانون ساز اسمبلی کے مختصر مانسون اجلاس کے آخری دن ہفتہ کے روز حکومت نے کانگریس اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ہنگامے کے درمیان 28 اہم بل منظور کیے جس کے بعد ایوان کی کارروائی کو ملتوی کردیا گیا۔
اجلاس کے تیسرے دن جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی کانگریس اور ایس پی کے ممبران نے قانون و انتظام اور کورونا سمیت مختلف امور پر ہنگامہ شروع کردیا اور سماجی دوری سے قطع نظر، ویل پر آکر حکومت مخالف نعرے لگانے لگے۔
اسمبلی کے اسپیکر ہردیئے نارائن دکشت نے حزب اختلاف کے ارکان کو خاموش کرانے کی کوشش کی لیکن ہنگامہ جاری رہا۔
اس کے پیش نظر ایوان کی کارروائی 25 منٹ کے لئے ملتوی کردی گئی لیکن یہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی حزب اختلاف کی ہنگامہ آرائی جاری رہی۔ دریں اثنا پارلیمانی امور کے وزیر سریش کھنہ نے بلوں کو ایوان میں پیش کیا جسے ایک کے بعد ایک صوتی ووٹوں سے منظور کرلیا گیا۔اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ حکومت 17 بل لائے گی لیکن بعد میں ان میں مزید 11 بل شامل کردیئے گئے۔

ایس پی ممبر اُجول رمن سنگھ نے قانون انتظام کے سلسلے میں التوا کا نوٹس پیش کرکے اس پر بحث کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا کہ ریاست میں امن و قانون سقوط کا شکار ہے اور جرائم عروج پر ہے۔
دوسری طرف پارلیمانی امور کے وزیر سریش کھنہ نے اپوزیشن پر سماجی دوری کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اختلاف کے پاس کوئی معاملہ نہیں ہے اور وہ ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
جمعہ کو ایوان میں 28 بل پیش کئے گئے تھے لیکن بی جے پی کے ممبر جنمے جے سنگھ کے انتقال کے سبب ایوان کی کارروائی اس دن کے لئے ملتوی کردی گئی۔ مانسون سیشن کو کارونا کے پیش نظر تین کاروباری دنوں کے لئے رکھا گیا تھا۔ پہلے دن ایوان کارروائی انتقال کرجانے والے اراکین اسمبلی کے تئیں اظہار تعزیت کرنے کے بعد ملتوی کردی گئی، جبکہ دوسرے دن بی جے پی کے ممبر اسمبلی جنمے جے سنگھ کی موت کی وجہ سے اسمبلی نہیں چل سکی۔
یوگی حکومت نے اسمبلی میں کئی اہم بلوں کو منظور کروایا جن میں اترپردیش کے وزارتی تنخواہ الاؤنس اور متفرق دفعات (ترمیمی) بل 2020 بھی شامل ہے۔ یہ بل وزرا اور قانون ساز اراکین کی تنخواہوں میں کمی کرنے کے لئے لائے گئے آرڈیننس کی جگہ لیں گے۔ حکومت کے ذریعہ پیش کردہ بلوں کو آئینی ذمہ داری کے تحت مقننہ کی منظوری حاصل کرنے کی ضرورت تھی۔ اس کی منظوری حاصل ہونے کے بعد یہ آرڈیننس منظوری کے لئے گورنر کو بھیجے جائیں گے جن کی منظوری کے بعد یہ آرڈیننس عمل میں آجائے گا۔

اس دوران کورونا اور قانون و انتظام کے معاملے پر اپوزیشن کا زبردست ہنگامہ ہوا اور اپوزیشن ممبران ویل تک پہنچ گئے۔ کانگریس اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ممبران نعرے لگارہے تھے۔ بل منظور ہونے سے پہلے ہی کانگریس، بی ایس پی اور ایس پی ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔
یوگی حکومت نے اس دوران اتر پردیش کے سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی وصولی کا بل 2020، اتر پردیش کانٹیجینسی فنڈ (ترمیمی) بل 2020، اتر پردیش کی مالی ذمہ داری اور بجٹ مینجمنٹ دوم (ترمیمی) بل 2020، اترپردیش ریاستی مقننہ کے ممبروں کی حصولیابیاں اور پنشن ( ترمیمی) بل 2020، اترپردیش صنعتی تنازعات (ترمیمی) بل 2020، اتر پردیش فیکٹری تنازعات (ترمیمی) بل 2020، جیل ایکٹ 1894 (ترمیمی) بل 2020، اترپردیش کے وزارتی تنخواہ الاؤنس، اور متفرق دفعات (ترمیمی) بل 2020 وغیرہ بل صوتی ووٹ کے ذریعہ منظور کیے گئے۔
بل کی منظوری کے بعد وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کورونا کے دور میں اپوزیشن کی منفی سیاست کی جم کر تنقید کی اور اپنی حکومت کی کامیابیوں کو گنایا۔ انہوں نے گذشتہ چند روز سے امن و قانون، ذات پات اور خواتین پر ہونے والے جبر سے متعلق اپوزیشن کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کا بےباکی سے جواب دیا۔

Advertisement

Related Articles