اترپردیش میں کانگریس کی حکومت آنے پر طالبات کواسکوٹی اوراسمارٹ فون: پرینکا

لکھنؤ ، اکتوبر۔کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے اعلان کیا ہے کہ جب ان کی پارٹی اتپردیش میں اقتدار میں آئے گی تو انٹر پاس لڑکیوں کو اسمارٹ فون اور گریجویٹ طالبات کو الیکٹرانک اسکوٹی دی جائے گی۔مسز واڈرا نے جمعرات کو ٹویٹ کیا’’کل میں نے کچھ طالبات سے ملاقات کی۔ اانہوں نے بتایا کہ اسے پڑھنے اور سیکورٹی کے لیے اسمارٹ فون کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا’’مجھے خوشی ہے کہ آج اعلان کمیٹی کی رضامندی سے یوپی کانگریس نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر حکومت بنتی ہے تو انٹر پاس لڑکیوں کو اسمارٹ فون اور گریجویٹ لڑکیوں کو الیکٹرانک اسکوٹی دی جائے گی‘‘۔بدھ کے روز پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے عملہ کے لواحقین سے ملنے آگرہ جاتے ہوئے مسز واڈرا کو لکھنؤ پولیس نے آگرہ ایکسپریس وے کے ’انٹری پوائنٹ‘ پر روک لیا۔ اس دوران مسز واڈرا نے وہاں موجود طالبات سے بات چیت کی اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ ان کے ساتھ سیلفی لینا چاہیں گی؟ اس پر لڑکیوں نے رضامندی ظاہر کی اور موبائل فون نہ ہونے کی مجبوری گنوائیں جس پر کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ اگر ان کی حکومت اقتدار میں آئی تو انہیں موبائل فون دیئے جائیں گے۔پرینکا کے اعلان سے نہال طالبات نے مسز واڈرا کے ساتھ سیلفیاں لیں اور ان کا موبائل نمبر بھی پوچھا تاکہ وہ یادگار لمحے کو اپنے فون پر منتقل کرسکیں۔ اس دوران کچھ خواتین پولیس اہلکاروں نے پرینکا کے ساتھ سیلفیاں بھی لیں۔ بعد میں پولیس مسز واڈرا کو پولیس لائن لے گئی جہاں سے انہیں آگرہ جانے کی اجازت دی گئی۔ڈیوٹی کے دوران سیلفی لینے کے لیے خواتین پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی توقع کرتے ہوئے مسز واڈرا نے ایک اور ٹویٹ پوسٹ کیا جس کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے کیپشن تھا’’خبریں آرہی ہیں کہ یوگی جی اس تصویر سے اتنے پریشان ہوئے ہیں کہ ان خواتین پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے ہیں. اگر میرے ساتھ تصاویر کھینچنا جرم ہے تو مجھے بھی اس کی سزا ملنی چاہیئے ، یہ حکومت کے لیے زیب نہیں کہ وہ ان محنتی اور وفادار پولیس والوں کا کرئیر خراب کرے‘‘۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ یوپی اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی باگ ڈور سنبھالنے والی پرینکا ریاست میں بہت سرگرم ہو گئی ہیں۔ حالیہ لکھیم پور تشدد کے متاثرین سے ملنے کے بعد لکھنؤ میں دلت بستی میں واقع بالمیکی مندر ، صفائی اور خواتین کو 40 فیصد ٹکٹ دینے کے اعلان کے بعد اور اب پولیس تحویل میں بالمیکی سماج کے ایک نوجوان کی موت پر تاج نگری جانا کانگریس کی اسٹریٹجک کا ایک حصہ قرار دیاجارہاہے ۔ کانگریس جنرل سکریٹری کی خواتین ، کسانوں ، دلتوں اور سماج کے ہر طبقے تک ان کی حالت زار جاننے کی کوشش نے بی جے پی ، ایس پی اور بی ایس پی سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کی پیشانی کی لکیریں گہری کر دی ہیں۔

Advertisement

 

Advertisement

Related Articles