برکس میں گلوبل ساوتھ کا اعتماد بڑھا، تنوع اور تعاون ہماری طاقت: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو کہا کہ برکس میں گلوبل ساو¿تھ کے ممالک کا اعتماد بڑھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ان کی آواز سنی جاتی ہے اور ان کے تجربات کا احترام کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی مسائل کا حل صرف ان کے لئے نہیں بلکہ انہیں ساتھ لے کر حل تیار کیے جاتے ہیں۔وزیر اعظم نے آج بھارت منڈپم میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس کے دوران مضبوطی، اختراع، تعاون اور پائیدارترقی کے موضوع پر منعقدہ اجلاس میں اپنے استقبالیہ خطاب کے دوران یہ باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ برکس کی طاقت اس کے تنوع اور تعاون میں ہے۔ ایسے میں تنوع ہماری شناخت، تعاون ہماری تحریک اور ہماری ترقی پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا، ”آج یہ اجلاس گاہ مختلف براعظموں، ثقافتوں اور ترقی کے مختلف سفر کو ایک ساتھ جوڑ رہی ہے۔ یہ برکس کی بڑھتی ہوئی طاقت، کشش اور بے مثال اعتماد کا ثبوت ہے۔“مودی نے کہا کہ برکس نے چار ستونوں کے ذریعے جامع عالمی ترقی کو فروغ دینے کی کوششیں کی ہیں۔ بھارت کی صدارت میں برکس کی تمام کوششیں مضبوطی، اختراع، تعاون اور پائیدارترقی پر مرکوز رہی ہیں۔انہوں نے کہا، ”آج دنیا میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس کا عام انسان کی زندگی پر انتہائی منفی اور وسیع اثر پڑ رہا ہے۔ وبائیں، موسمیاتی آفات اور سپلائی چین میں خلل نے دکھایا ہے کہ آج کی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی دنیا میں کوئی بھی بحران صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہتا۔ اسی لیے ہم نے برکس سربراہی اجلاس میں باہمی مضبوطی پر خصوصی زور دیا ہے۔“
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ برکس میں تیار کیے گئے حلوں کا فائدہ گلوبل ساوتھ تک پہنچنا چاہیے۔ ان حلوں کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے ساتھ ساتھ سستا اور آسانی سے قابلِ عمل بنانا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ترقی کا فائدہ پوری انسانیت کو ملنا چاہیے۔وزیر اعظم نے ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی تہذیب میں فطرت کو ماں کا درجہ دیا گیا ہے۔ ترقی اور ماحولیات ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ اس لیے متوازن ترقی کا راستہ اپنانا ضروری ہے۔مودی نے برکس کے تحت ایم ایس ایم ای پورٹل، اربن موبلٹی ہب، اسمارٹ گرڈ اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور برکس ڈیجیٹل سینٹر آف ایکسی لینس جیسی اقدام کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی اقدامات کو وسیع پیمانے پر فروغ دے کر گلوبل ساوتھ کے ممالک کے لیے مفید بنایا جانا چاہیے۔




