ایرانی صدر کی بیٹی زہرا نے برکس بازار کا دورہ کیا
برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے فن، دستکاری اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرنے والی شاندار نمائش دیکھی
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی بیٹی زہرا اور ان کے شوہر حسن مجیدی نے ہفتہ (12 ستمبر) کو نئی دہلی میں ’برکس
بازار‘ کا دورہ کیا۔ انہوں نے برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے فن، دستکاری اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرنے والی شاندار نمائش دیکھی۔ زہرا پیزشکیان اور حسن مجیدی کے ساتھ خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر مملکت اناپورنا دیوی بھی موجود تھیں۔ اس دوران وہ مختلف اسٹالز پر موجود کاریگروں اور دستکاروں سے بات چیت کرتی نظر آئیں۔ انہوں نے برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے کئی پویلین دیکھے، جن میں ہندوستانی پویلین بھی شامل تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تمام ممالک کے روایتی فن، دستکاری اور ثقافتی ورثے کی جھلک بھی دیکھی۔
ہندوستان میں موجود ایرانی سفارت خانہ نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر زہرا پیزشکیان کی ویڈیو شیئر کر لکھا کہ ’’اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کی بیٹی زہرا پیزشکیان نے نئی دہلی میں پردھان منتری سنگرہالیہ کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس عجائب گ
ھر کا جائزہ لیا، جہاں ہندوستان کے وزرائے اعظم کے سفر، خدمات اور ورثے کو پیش کیا گیا ہے۔‘‘ دوسری پوسٹ میں لکھا کہ ’’برکس بازار، نئی دہلی میں ایرانی پویلین میں ثقافتی ربط کی خوبصورت جھلک۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی بیٹی زہرا پیزشکیان اور ان کے شوہر حسن مجیدی نے پویلین کا دورہ کیا اور ایران کے مالا مال فن، دستکاری اور ثقافتی ورثے کو پیش کرنے والے کاریگروں اور نمائندوں سے بات چیت کی۔‘‘
واضح رہے کہ ’برکس بازار‘ رکن اور شراکت دار ممالک کے کاریگروں، ڈیزائنروں اور تخلیقی کاروباری اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش ہے۔ اس کے ذریعے ان ممالک کی متنوع ثقافتوں اور تخلیقی صلاحیتوں سے روبرو ہونے کا موقع ملتا ہے۔ یہ بازار آنے والوں کو اصل دستکاری، ہینڈلوم، ٹیکسٹائل، فن پاروں اور کئی دیگر مصنوعات کو دیکھنے کا موقع دیتا ہے، جو شریک ممالک کی مالا مال ثقافتی روایات کی عکاسی کرتی ہیں۔برکس بازار میں ایرانی ثقافت کی نمائندگی کرنے والے 2 اسٹالز بھی لگائے گئے ہیں، جن میں ملک کی روایتی کڑھائی اور دستکاری کے ورثے کو پیش کیا گیا ہے۔ ایرانی اسٹالز میں سے ایک بلوچ کڑھائی کو پیش کرتا ہے۔ اسے نادیہ کریمی نے لگایا ہے۔ بلوچ کڑھائی، جسے مقامی زبان میں ’دوچ‘ (جس کا مطلب ہے سلائی یا سوئی کا کام) کہا جاتا ہے، ہاتھ سے کی جانے والی ایک قدیم اور باریک سلائی کی فن کاری ہے۔ یہ پاکستان، ایران اور افغانستان میں پھیلے بلوچستان خطے کی خواتین کرتی ہیں۔کریمی روایتی بلوچ کڑھائی کی تکنیک کو جدید ڈیزائنوں کے ساتھ ملاتی ہیں، تاکہ صدیوں پرانے اس فن کو جدید شکل دی جا سکے۔ انہوں نے حال ہی میں کناڈا میں ’تارن‘ نام کا ایک بین الاقوامی برانڈ شروع کیا ہے، جو ایرانی فن اور مصنوعات کو عالمی بازار تک پہنچانے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ ایران کا دوسرا اسٹال آمنہ صدیقی نے لگایا ہے، جس میں رشتی کڑھائی اور ایرانی سوئی کے کام کی دیگر اقسام پیش کی گئی ہیں۔ اس فن میں روایتی ایرانی سوئی کا کام اور کڑھائی شامل ہے، خاص طور پر رشتی کڑھائی (جسے رشتی دوزی بھی کہا جاتا ہے) اور اسی کے ساتھ شیشے کا کام (جسے آئینہ دوزی کہا جاتا ہے)۔ رشت کی دستکاری کو جدید روزمرہ کی مصنوعات، جیسے کپڑوں، جوتوں اور سینڈلوں میں ڈھالا گیا ہے، جبکہ اس خطے کے روایتی فن کے ورثے کی خصوصیات کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔




