کتاب "شتایو سنگھ اور مہیلا سہبھاگیتا” میں خواتین کے تعاون کو اجاگر کرنے کی کوشش
سنگھ کے صد سالہ سفر میں خواتین کا کردار انتہائی اہم ہے: ستیش مہانا
لکھنؤ، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر کتاب "شتایو سنگھ اور مہیلا سہبھاگیتا” پر ایک مباحثے کا اہتمام کیا گیا۔ مہمانِ خصوصی گورنر محترمہ آنندی بین پٹیل، مہمانان اعزازی اسمبلی اسپیکر شری ستیش مہانا، خواتین کی بہبود اور بچوں کی ترقی کی وزیر محترمہ بیبی رانی موریہ، اتر پردیش ریاستی خواتین کمیشن کی نائب صدر محترمہ اپرنا یادو، کہانی کار اور مصنف ڈاکٹر شوبھا وجیندر، اور دیگر معززین موجود تھے۔
اندرا گاندھی پرتشتھان میں منعقدہ تقریب میں اسمبلی اسپیکر شری ستیش مہانا نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے 100 سالہ سفر میں خواتین کا حصہ بہت اہم رہا ہے۔ سنگھ کے کام میں خواتین کے کردار کو کسی بھی طرح کم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ میں بہن کا کردار محبت، پیار، عقیدت اور لگن سے جڑا ہوا ہے۔ جہاں عقیدت ہے وہاں آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا احترام اور ان کی شرکت کو سنگھ کے نظریہ میں ہمیشہ ایک خاص مقام حاصل رہا ہے۔گورنر محترمہ آنندی بین پٹیل نے اپنی زندگی کے تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے گاؤں میں کوئی اسکول نہیں تھا اور ان کی تعلیم آل بوائز اسکول میں ہوئی تھی، جہاں وہ واحد طالبہ تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج لڑکیاں ہر میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں اور اسٹارٹ اپ کے میدان میں بھی اپنی شناخت بنا رہی ہیں۔ معاشرہ کیا کہے گا اس کی فکر کرنے کی بجائے خواتین کو اپنے مقاصد کی طرف مسلسل آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی بڑی تعداد قرض لے کر خود انحصاری کر رہی ہے۔ انہوں نے منشیات سے پاک ہندوستان کی تعمیر کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ڈاکٹر شوبھا وجیندر نے کہا کہ یہ کتاب ایک حد تک سنگھ کے فلسفے کی عکاسی کرتی ہے، خاص طور پر خواتین کے احترام، بااختیار بنانے اور فطری شرکت کو اجاگر کرتی ہے۔محترمہ اپرنا یادو نے خواتین کی سماجی شراکت کی اہمیت اور قوم کی تعمیر میں خواتین کے کردار پر بھی زور دیا۔پروگرام میں کتاب کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی گئی، اور مقررین نے اسے قوم کی تعمیر میں خواتین کے فعال کردار، خدمات، اقدار اور تجربات کو دستاویزی شکل دینے کی ایک اہم کوشش قرار دیا۔



