ایک ہی دن میں مکمل قرآنِ کریم کا دورہ

سجاد عزیز نے قائم کیا عالمی سطح کا منفرد ریکارڈ شیخ مولانا عزیز الرحمن سلفی کے پوتے، حافظ سعید الرحمن عزیز کے فرزند کو مبارکباد

اینئی دہلی (رپورٹ: مطیع الرحمن عزیز) — جامعہ سلفیہ بنارس کے سابق شیخ الحدیث و مفسرِ قرآن حضرت شیخ مولانا عزیز الرحمن سلفی کے پوتے اور حافظ سعید الرحمن عزیز سلفی کے صاحبزادے سجاد عزیز نے کوٹہ مانگرول میں اپنے استاد حافظ محمد رافع کی شاگردی میں ایک ہی دن میں مکمل قرآنِ کریم کا حفظ شدہ دورہ سنا کر ایک قابلِ ذکر دینی و تعلیمی کارنامہ انجام دیا ہے۔ ان کی اس غیر معمولی پیش رفت پر خاندان، اعزہ و اقارب اور متعلقین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور اہلِ خانہ و احباب کی جانب سے انہیں مبارکباد پیش کی جا رہی ہے۔ سجاد عزیز نے قرآنِ کریم کا حفظ دو سال کے مختصر عرصے میں مکمل کیا۔ حفظ مکمل کرنے کے بعد ان کے حفظ کی مضبوطی اور پختگی کے لیے مسلسل دور کا اہتمام کیا گیا۔ تیسرے سال میں پہلے ایک ایک پارے کا دورہ کیا گیا، اس کے بعد دو دو پارے، پھر تین تین پارے، پانچ پانچ پارے اور بالآخر دس دس پاروں کا دورہ سنا کر حفظِ قرآن کو مزید مضبوط اور مستحکم کیا گیا۔ اسی مسلسل محنت، باقاعدہ دہرائی اور اساتذہ و والدین کی توجہ کے نتیجے میں سجاد عزیز نے اب ایک ہی دن میں مکمل قرآنِ کریم کا دورہ سنا کر اپنی حفظی استعداد کا نمایاں مظاہرہ کیا ہے۔
سجاد عزیز کا تعلق ایسے علمی و دینی خانوادے سے ہے جس میں قرآن و سنت کی تعلیم، حفظِ قرآن اور علومِ دینیہ سے وابستگی کو ہمیشہ خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ ان کے دادا حضرت شیخ مولانا عزیز الرحمن سلفی جامعہ سلفیہ بنارس کے سابق استاذ اور شیخ الحدیث رہے ہیں اور طویل عرصے تک جامعہ سلفیہ میں درسِ حدیث اور درسِ قرآن کی خدمت انجام دیتے رہے۔ ان کی علمی زندگی کا ایک نمایاں پہلو قرآنِ کریم سے گہری محبت، تلاوتِ کلامِ پاک سے شغف اور علومِ قرآن و حدیث کی تدریس و اشاعت کے لیے مسلسل جدوجہد رہا ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق شیخ مولانا عزیز الرحمن سلفی نے اپنے بچوں کی دینی و علمی تربیت پر خصوصی توجہ دی اور اپنے صاحبزادوں کو قرآنِ کریم کی تعلیم و حفظ کے ساتھ علومِ دینیہ سے وابستہ کیا۔ اسی علمی و قرآنی ماحول کا اثر اگلی نسل میں بھی نمایاں طور پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔
سجاد عزیز کی اس کامیابی کو ان کے خاندان کے لیے خصوصی مسرت اور باعثِ افتخار قرار دیا جا رہا ہے۔ بالخصوص ان کے والد حافظ سعید الرحمن عزیز سلفی اور دیگر اہلِ خانہ نے اس پیش رفت پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ایک ایسے گھرانے میں جہاں قرآنِ کریم کی تعلیم، حفظ، تلاوت اور علومِ حدیث کی خدمت نسل در نسل جاری رہی ہو، وہاں ایک چودہ سالہ بچے کا انتہائی مختصر وقت میں حفظ مکمل کرنا اور پھر مسلسل دور کے ذریعے اسے مضبوط کرتے ہوئے ایک ہی دن میں مکمل دورہ سنا دینا یقیناً خاندان کے لیے خوشی کا موقع ہے۔ اہلِ خاندان اور احباب کا کہنا ہے کہ سجاد عزیز کی یہ کامیابی صرف ایک ذاتی اعزاز نہیں بلکہ قرآنِ کریم سے وابستگی، مسلسل محنت، پابندی، اساتذہ کی رہنمائی اور والدین کی توجہ کا نتیجہ ہے۔ ان کے اس کارنامے سے خاندان کے دیگر بچوں اور نوجوانوں میں بھی قرآنِ کریم حفظ کرنے اور اس کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے کا جذبہ پیدا ہونے کی امید ہے۔
قرآنِ کریم کا حفظ مکمل کرنا جہاں بڑی سعادت ہے، وہیں اسے مضبوط رکھنے کے لیے مستقل تکرار، باقاعدہ دور اور بھرپور محنت بھی ضروری ہوتی ہے۔ سجاد عزیز نے حفظ مکمل کرنے کے بعد مرحلہ وار دور کے ذریعے اپنی تیاری کو آگے بڑھایا اور ایک ایک پارے سے شروع ہونے والا یہ سفر دس دس پاروں کے دور تک پہنچا، جس کے بعد ایک ہی دن میں مکمل قرآنِ کریم کا دورہ سنانے کا مرحلہ مکمل کیا گیا۔اس موقع پر اہلِ خانہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجاد عزیز کے اس سفر کو ان کے والدین، اساتذہ اور پورے خاندان کی مشترکہ محنت اور دعاوں کا ثمر قرار دیا ہے۔
سجاد عزیز کی اس کامیابی پر علمائ، حفاظِ کرام، اعزہ و اقارب اور احباب کی جانب سے انہیں مبارکباد پیش کی جا رہی ہے۔ اہلِ خانہ نے اس موقع پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ رب العالمین سجاد عزیز کو قرآنِ کریم کا سچا خادم بنائے، ان کے حفظ کو ہمیشہ مضبوط و محفوظ رکھے، انہیں علمِ نافع، عملِ صالح اور دینی خدمات کی توفیق عطا فرمائے اور مستقبل میں دین و ملت کے لیے ان سے زیادہ سے زیادہ کام لے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں دن دونی رات چوگنی ترقی، اخلاص، استقامت اور قرآن و سنت کی خدمت کا جذبہ عطا فرمائے، ان کے والدین اور اساتذہ کی محنتوں کو شرفِ قبول بخشے اور پورے خاندان کو قرآنِ کریم سے اسی طرح محبت، وابستگی اور خدمت کی توفیق عطا فرماتا رہے۔

Related Articles