امن عمل کے لیے شامی صدر بشارالاسد سے ملاقات ہو سکتی ہے: طیب ایردوآن

انقرہ،جنوری۔ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ امن عمل کے لیے وہ شام کے صدر بشار الاسد سے ملاقات کر سکتے ہیں۔صدر ایردوآن کا یہ اعلان دونوں ملکوں کے وزرائے دفاع کی ماسکو میں حالیہ ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔وزرائے دفاع کی سطح کا یہ رابطہ دو ہزار گیارہ کے بعد سے اب تک ترکیہ اور شام کے درمیان پہلا اعلیٰ سطح کا رابطہ تھا۔ترک صدر نے کہا ہم نے روس ، شام اور ترکیہ کے درمیان ایک پراسس شروع کر رکھا ہے۔ اس پراسس کے ذریعے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات اور گفتگو ہو گی۔ اگر اس میں کچھ پیش رفت ہوئی تو پھر ہم صدور کی ملاقات بھی ہو سکتی ہے۔ تاکہ معاملات کو آگے بڑھایا جائے۔واضح رہے 2011 سے شروع ہونے والی شام کی جنگ میں روس بشارالاسد کا حامی رہا ہے جبکہ ترکیہ مسلسل شامی اپوزیشن کی حمایت کرتا رہا ہے۔شامی اور ترک وزرائے دفاع کی ماسکو میں ملاقات کے پس منظر میں رواں ہفتے ترکیہ نے شامی اپوزیشن رہنماوں کی انقرہ میں میزبانی کی اور تازہ ترین صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ترکیہ کی طرف سے شامی اپوزیشن کو یقین دلایا گیا کہ شامی حکومت کے ساتھ رابطوں میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جائے گا جو شام میں اپوزیشن کے لیے مشکل پیدا کرنے والا ہو سکتا ہو۔دریں اثنا ترکیہ اور شام کے وزرائے دفاع کی 28 دسمبر کو ماسکو میں ہونے والی ملاقات کے بارے میں ایک ترک ذریعے کا کہنا ہے کہ دوسرے موضوعات کے علاوہ کردوں کی نقل مکانی ایجنڈے میں سر فہرست تھی۔

 

Related Articles