انگلینڈ اور ویلز میں جانوروں کیساتھ ظلم پر سخت سزائیں دینے کا فیصلہ

لندن،مئی ۔ انگلینڈ اورویلز میں جانوروں پر ظلم پر سخت سزائیں دی جائیں گی اس حوالے سے سزائوں کی نئی گائیڈ لائنز کے تحت عدالتوں کو اختیارات دئے جائیں گے ، انگلینڈ اور ویلز میں سزائوں سے متعلق نئی گائیڈ لائنز کے تحت جانوروں کو غیر ضروری اذیت پہنچانیان کی دم کھینچنے یا جانوروں کی لڑائی پر سزائوں کااطلاق ہوگا، رقم حاصل کرنے کی غرض سے جانوروں پر ظلم منظم جرائز کا ایک حصہ ہیں خاص طور پر جانوروں پر ظلم کرکے اس سے لذت اٹھانے کے معاملات کو بھی انتہائی سنگین جرم تصور کیاجائے گا،2021میں جانوروں پر ظلم کی سزا بڑھاکر زیادہ سے زیادہ 5 سال قید کردی گئی تھی ،سزا دینے سے متعلق کونسل نے گائیڈنس کو ججوں اور مجسٹریٹس کیلئے اپڈیٹ کیاہے جس کے تحت جانوروں پر ظلم کرکے اس سے لذت اٹھانییا کمرشیل مقاصد کے تحت رقم کمانے کیلئے جانوروں پر ظلم یا منظم جرائم کی سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ سزا کامستحق تصور کیاجائے گا،متعدد واقعات میں ملوث ہونا یا طاقت کے استعمال سے بھی ملزم کی ذمہ داری میں اضافہ ہوجائے گا۔نئی گائیڈ لائنز کے تحت سرکس کیلئے جنگلی جانوروں کی سفرپر بھی پابندی عاید کردی جائے گی ،جانوروں پر مظالم پر سزا کیلئے انگلینڈ اورویلز میں قائم کی گئی کونسل کی تیار کردہ تجاویز اب اگست میں عوامی مشاورت کیلئے پیش کی جائیں گی،سزائوں سے متعلق یہ گائیڈ لائنز اس لئے تیارکی گئی ہیں تاکہ جج اور مجسٹریٹس یکساں طریقے سے سزائیں دے سکیں۔عدالتیں سزائیں سناتے ہوئے ان گائیڈ لائنز کو مد نظر رکھیں گی بشرطیکہ ایسا کرنا انصاف کی فراہمی کے اصولوں کے برعکس نہ ہو۔جو دیگر عوامل جوسخت سزائیں دینے میں مد نظررکھے جائیں گے ان میں جانوروںکو اذیت دینے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا ،بچوں کی موجودگی میں جرم کا ارتکاب شامل ہے۔سزائیں دینے والی کونسل کی جج روزا ڈین نے کہا کہ جانوروں پر ظلم ایک سنگین جرم ہے ، جانوروں کو تفریح طبع کیلئے ایک دوسرے سے لڑنے پر مجبور کرنے یا ان کے ساتھ بدسلوکی سے جانوروں کو بہت تکلیف پہنچتی ہے ،جانورنہ تو اپنا دفاع کرسکتے ہیں اور نہ ہی اپنی تکلیف پر دوسروں کی توجہ مبذول کراسکتے ہیں اس لئے یہ ضروری ہے کہ عدالتوں کو یہ جرم کرنے والوں کومناسب سزا دینے کا اختیار دیاجائے۔جانوروں کی بہبود سے متعلق سوسائٹی کی چیف ایگزیکٹو نے کئی سال کی مہم کے بعد بالآخر جانوروں پر ظلم پر سزائوں میں اضافہ کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیاہے۔

Advertisement

Related Articles