مودی نے احمد آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی عمارت کو قوم کے نام وقف کیا

احمد آباد ، مارچ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز ملک کے عوام میں پولیس اورسکیورٹی اہلکاروں کی شبیہ کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وردی سے اب لوگوں کو ڈر نہیں سکیورٹی کی یقین دہانی ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے سکیورٹی کے شعبے میں لڑکیوں اور خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ مسٹرمودی نے احمد آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی عمارت کو قوم کے نام وقف کرنے کے بعد ادارے میں پہلا کانووکیشن خطاب کیا ۔ اس موقع پرمرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، گجرات کے گورنر آچاریہ دیوورت اور گجرات کے وزیر اعلی بھوپیندر بھائی پٹیل موجود تھے۔ وزیر اعظم نے پولیس اورسکیورٹی اہلکاروں کی شبیہ کو بدلنے کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں مقبول کلچر میں بھی پولیس کو جس طرح پیش کیا جاتا ہے وہ اس کی شبیہ کےتعلق سے مددگار نہیں ہے۔ مسٹر مودی نے کہا ’’ آزادی کے بعد ملک کے سکیورٹی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت تھی ۔ ایک تصور پیش کیا گیا تھا کہ ہمیں وردی والے اہلکاروں سے محتاط رہنا ہوگا، لیکن اب یہ بدل رہا ہے۔اب لوگ وردی والے اہلکاروں کو دیکھتے ہیں تو انہیں مدد کا حساس ہوتا ہے ۔ انہوں نے اسی تناظر میں کووڈ -19 وبا کے دوران پولیس اہلکاروں کی طرف سے کیے گئے انسانی کاموں پر تبادلہ خیال کیا ‘‘۔ مسٹر مودی نےاس موقع پرکہا ’’ملک کے سکیورٹی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تناؤ سے مبرا تربیتی سرگرمیاں وقت کی ضرورت ہے ‘‘۔ وزیر اعظم نے پولیس اہلکاروں کے لیے نوکری کے تناؤ سے نمٹنے میں مشترکہ کنبے کی کم ہوتی حمایت پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔ انہوں نے فورسز میں یوگاماہرین سمیت تناؤسے نمٹنے کے لیے ماہرین اور آرام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا ’’ملک کے سکیورٹی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تناؤ سے مبرا تربیتی سرگرمیاں وقت کی اہم ضرورت ہیں‘‘۔ وزیراعظم نے پروگرام کے آغاز میں مہاتما گاندھی اور ڈانڈی مارچ میں حصہ لینے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ آج کے ہی دن اس مارچ کا آغاز کیا گیا تھا ۔ وزیر اعظم نے کہا’’ انگریزوں کی ناانصافی کے خلاف گاندھی جی کی قیادت میں چلائی گئی تحریک نے برطانوی حکومت کوہم ہندوستانیوں کی اجتماعی طاقت کا احساس دلایا تھا ‘‘۔ مسٹرمودی نے کہا کہ نوآبادیاتی دور میں داخلی سلامتی کا تصور نوآبادیاتی حکمرانوں کے لیے امن برقرار رکھنے کے لیے عوام میں خوف پیدا کرنے پر مبنی تھا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج کی پولیسنگ کے لئے گفت و شنید اور دیگرسافٹ سکلس جیسی مہارتوں کی ضرورت ہے جو جمہوری منظر نامے میں کام کرنے کے لیے ضروری ہیں ۔ انہوں نے سکورٹی اور پولیسنگ کے کاموں میں ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر مجرم ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں توانہیں پکڑنے کے لیے بھی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی پر زور دینے سے معذور افراد بھی اس شعبے میں اپنا تعاون پیشن کرنے میں صلاحت رکھتے ہیں۔ انہوں نے سکیورٹی کے شعبے میں لڑکیوں اور خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا’’ہم دفاعی شعبے میں خواتین کی زیادہ حصہ داری دیکھ رہے ہیں۔ سائنس ہو، تعلیم ہو یا سکیورٹی، خواتین سب سے آگے ہیں۔ مسٹرمودی نے کہا کہ گاندھی نگر علاقے میں نیشنل لاء یونیورسٹی، ڈیفنس یونیورسٹی اور فارنسک سائنس یونیورسٹی ہے ۔ انہوں نے ان متعلقہ شعبوں میں جامع تعلیم کے قیام کے لیے باقاعدہ مشترکہ سیمینار کے ذریعے ان اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا ’’اسے پولیس یونیورسٹی سمجھنے کی غلطی نہ کریں ۔ یہ ایک ڈیفنس یونیورسٹی ہے جو ملک کی سلامتی کا مکمل خیال رکھتی ہے۔ انہوں نے بھیڑ اور ہجوم کی نفسیات، مذاکرات ، غذائیت اور ٹیکنالوجی جیسے موضوعات کی اہمیت کا اعادہ کیا ۔ حکومت نے 2010 میں حکومت گجرات کی طرف سے قائم کی گئی رکشا شکتی یونیورسٹی کو اپ گریڈ کر کے راشٹریہ رکشا وشو ودیالیہ کے نام سے ایک نیشنل پولیس یونیورسٹی قائم کی ہے۔ جس نے اکتوبر 2020 سے اپنا کام شروع کیا۔

Related Articles