گنگولی کے بعد دھونی نے ٹیم کو اگلی سطح پر پہنچایا: دیپ داس

جے پور ،  ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق وکٹ کیپر اور کمنٹیٹر دیپ داس گپتا نے کہا ہے کہ سورو گنگولی نے ٹیم کو ایک خاص سطح پر لے گئے اس کے بعد مہندر سنگھ دھونی نے ٹیم کو اگلی سطح پر پہنچایا اور اب وراٹ کوہلی ٹیم کو اس سطح سے آگے لے جارہے ہیں۔
گنگولی کی سربراہی میں کھیلنے والے دیپ داس گپتا نے اسپورٹس ٹائیگر کے شو ‘آف دی فیلڈ’ میں وراٹ اور دھونی میں بہتر کپتان کون کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ سورو نے ٹیم کو ایک خاص سطح تک پہنچایا ، اس کے بعد دھونی ٹیم کو اگلے درجے پر لے گئے اور اب وراٹ ٹیم کو اس سطح سے آگے لے جارہے ہیں۔ یہ ایک سلسلہ وار ردعمل ہے۔
داس گپتا نے یہ بھی کہا کہ جب ہم کپتانی کی بات کرتے ہیں تو ہم اجیت واڈیکر جیسے کسی کے بارے میں بات نہیں کرتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ 1971 میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم باہر گئی اور انگلینڈ کے خلاف انگلینڈ میں اور ویسٹ انڈیز میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دو بڑی سیریز جیتیں۔ اس لئے غیر رسمی طور پر ہندوستان ٹیسٹ میچوں کے معاملے میں 1971 میں ہی نمبر ایک بن گیا تھا۔
انہوں نے سابق کپتانوں جیسے کپل دیو ، سنیل گواسکر اور منصور علی خان پٹودی کو بھی یاد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس کئی عظیم کپتانوں اور کھلاڑیوں کی میراث ہے ، لیکن بعض اوقات ہم ان کی تعریف نہیں کرتے ہیں۔
داس گپتا نے موجودہ عالمی وبائی مرض کی وجہ سے تھوک کے استعمال کے بارے میں آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ نئے رہنما خطوط کے بارے میں کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اس سے بلے بازوں کو یقینی طور پر برتری حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تھوک اس کھیل کا ایک اہم پہلو ہے۔ بالر کے نقطہ نظر سے تھوک کے بہت سے فوائد ہیں۔ اس سے آپ کو گیند کے نئے پن کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے اور جب نئی گیند پرانی ہوجاتی ہے تو یہ ریورس سوئنگ میں مدد دیتی ہے۔ اس کے دو پہلو ہیں جب آپ تھوک کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہیں تو اس سے بالرز کے لئے کافی مشکلات پیدا ہوجائیں گی اور بلے بازوں کو زیادہ فائدہ ہوگا۔
ان کا خیال ہے کہ کھیل میں تھوک کے استعمال پر پابندی لگانے سے بالرز کا ایک بہت بڑا ہتھیار چھین لیا جائے گا اور اس نقصان کو متوازن کرنے کے لئے ان پچوں پر کھیلنا بہتر ہوگا جو بالرز کے لئے بہت مددگار ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہ کھیلوں میں تھوک کے استعمال پر پابندی عائد کرنا بہت منطقی ہے لیکن ہمیں دوسری طرف بھی دیکھنے کی ضرورت ہے اور ہمیں اس یکطرفہ توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
دیپ داس گپتا ایک کامیاب کمنٹیٹر ہیں اور انہوں نے 8 ٹیسٹ اور 5 ون ڈے میچوں میں وکٹ کیپر بلے باز کی حیثیت سے ہندوستان کی نمائندگی کی ہے۔ دیپ داس گپتا کا ٹیسٹ میں اوسط 28.67 ہے اور ان کے نام ایک سنچری اور دو نصف سنچری ہیں۔

Advertisement

Related Articles