میں ایک ایسے گاؤں سے ہوں جہاں آج بھی کوئی سہولت نہیں: محمد شامی

سنچورین، دسمبر۔تیز گیند باز محمد شامی نے ٹیسٹ کرکٹر کے طور پر اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والد اور اپنے بھائی کے سر باندھا ہے۔ شامی کا تعلق اتر پردیش کے امروہہ ضلع کے ایک گاؤں سہس پور علی نگر سے ہے، اور کہتے ہیں کہ ان کی فیملی نے ان کی بہت حوصلہ افزائی کی تھی جس کی وجہ سے وہ کرکٹ کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہوئے اور بالآخر 200 ٹیسٹ وکٹیں لینے والے پانچویں ہندوستانی تیزگیندباز بن گئے۔ انہوں نے یہ کارنامہ سنچورین ٹیسٹ کے تیسرے دن انجام دیا، شامی نے جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز میں پانچ وکٹیں لے کر یہ سنگ میل عبور کیا۔ شامی نے 44 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں اور اس شاندار کارکردگی کی بدولت ٹیم انڈیا کو 130 رن کی برتری حاصل ہوگئی۔منگل کے روز تیسرے دن کے کھیل کے بعد ایک پریس کانفرنس میں شامی نے کہا کہ میں نے میڈیا میں کئی بار کہا ہے کہ میں اپنی کامیابی کا کریڈٹ اپنے والد کو دینا چاہتا ہوں۔ میں ایک ایسے گاؤں سے آیا ہوں جہاں آج بھی سہولیات نہیں ہیں۔ والد بار بار مجھے کھیلنے کے لیے وہاں سے 30 کلومیٹر کا سفر کرنے کی ترغیب دیتے اور کبھی کبھی میرے ساتھ بھی جاتے تھے۔ وہ ہر جدوجہد میں میرے ساتھ رہے، میں ہمیشہ اپنے والد اور بھائی کو کریڈٹ دیتا ہوں جنہوں نے میری حمایت کی اور اس ان حالات میں میرا ساتھ دیا ۔ میں آج یہاں صرف ان ہی کی بدولت ہوں۔ شامی ان تیزگیندبازوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ٹیم کو ایک نئی سمت دی ہےاور جس کی وجہ سے ٹیم پوری دنیا میں مستقل طور پر ٹسٹ جیتنے میں کامیاب رہتی ہے۔ انہوں نے کہا، اگر ہندوستان کی تیز گیند بازی اتنی مضبوط ہے تو یہ ہماری اپنی صلاحیتوں کے دم پر آئی ہے، ہم سب یہاں اپنی اپنی طاقت کے ساتھ آئے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ محنت ہے جو ہم نے گزشتہ چھ ، سات برسوں میں کی ہے۔یہ سخت محنت کا نتیجہ ہے۔ ہاں، ہمارے پاس اپنی صلاحیتوں کو سپورٹ کرنے کے لیے ہمیشہ معاون عملہ دستیاب ہوتا ہے، لیکن آپ کسی ایک شخص کا نام نہیں لے سکتے۔ یہ پچھلے 6-7 سالوں میں کیے گئے کام کا نتیجہ ہے، اس لیے میں اس سخت محنت کو کریڈٹ دیتا ہوں اور کریڈٹ اس شخص کو جانا چاہئے جس نے سخت محنت کی ہے۔ منگل کو شامی کی کارکردگی خاص طور پر قابل ذکر تھی کیونکہ یہ ایک ہندوستانی گیندبازی قیادت کا نتیجہ تھا جہاں جسپریت زخمی ہوکر میدان سے باہر ہوگئے تھے۔ کافی دیر تک بمراہ گیندبازی کرنے کے لئے میدان پر دستیاب نہیں تھے۔ شامی نے کہا، “یہ کوئی سنگین چوٹ نہیں ہے، میدان پر واپس آکر انہوں نے گیندبازی بھی کی، لیکن بلاشبہ جب آپ کی یونٹ میں کسی گیندباز کی کمی ہوتی ہے تو آپ پر ہمیشہ اضافی دباؤ ہوتا ہے۔ خاص کر ٹیسٹ میچوں میں جہاں آپ کو کافی دیر تک گیندبازی کرنی ہوتی ہے۔بمراہ آخر کار میدان میں واپس آئے اور جنوبی افریقہ کی اننگز کی آخری وکٹ حاصل کی۔شامی نے کہا، ’’بمراہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، وہ واپس آئے اور گیندبازی کرتے ہوئے آخری وکٹ حاصل کی۔

Related Articles