بلیک میل کر کے لوگوں کو مخصوص جماعتوں میں شامل ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے: محبوبہ مفتی

سری نگر، نومبر۔ پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا الزام ہے کہ حکومت طاقت کے بل پر جموں وکشمیر کے لوگوں کی آواز کو دبا رہی ہے اور پھر اسی خاموشی کو امن کا نام دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بلیک میل کر کے یا لالچ دے کر مخصوص سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہاں نئی سیاسی جماعتیں بنائی جا رہی ہیں جس کے لئے نینشل کانفرنس اور پی ڈی پی کی توڑ پھوڑ کی جا رہی ہے۔موصوف صدر نے ان باتوں کا اظہار یہاں پیر کے روز یہاں سابق رکن اسمبلی ایڈوکیٹ عبدالمجید میر کا پارٹی میں استقبال کرنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔بتا دیں کہ موصوف سابق رکن اسمبلی نے اپنے حامیوں سمیت پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی۔انہوں نے کہا: ’وزیر داخلہ امت شاہ کے یہاں آنے سے پہلے اور اس کے بعد نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور سی آر پی ایف کی نئی نئی بٹالینز یہاں لائی جا رہی ہیں اور سیکورٹی فورسز کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے‘۔ان کا کہنا تھا: ’اگر حالات ٹھیک ہیں تو سیکورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ کیوں کیا جا رہا ہے دراصل جموں و کشمیر کے زمینی حالات مختلف ہیں یہاں لوگوں کو طاقت کے بل پر خاموش کرایا جا رہا ہے اور یہاں کی خاموشی کو امن کا نام دیا جا تا ہے‘۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ لوگوں کو بلیک میل کر کے یا لاچ دے کر مخصوص سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا: ’لوگوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے یا انہیں لالچ دیا جاتا ہے کہ یا جیل جاؤ یا اُس پارٹی میں شمولیت اختیار کرو یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں نے جیلوں سے نکلنے کے بعد پارٹیوں میں شمولیت اختیار کی‘۔ان کا کہنا تھا: ’یہاں نئی سیاسی جاعتیں بنائی جا رہی ہیں جس کے لئے نینشل کانفرنس اور پی ڈٰ پی کی توڑ پھوڑ کی جا رہی ہے اور موجودہ حالات میں پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے‘۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک طرف یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہاں حالات ٹھیک ہیں دوسری طرف نئے نئے قوانین لائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ ملازموں کو نوکریوں سے فارغ کیا جا رہا ہے تو کچھ کو قبل از وقت ہی سبکدوش کیا جا رہا ہے اس طرح یہ لوگ خود ہی جج بھی بن جاتے ہیں اور وکیل بھی۔ان کا کہنا تھا کہ یہاں رشوت ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ وزیر اعظم کیئر فنڈ کے تحت کرپشن جا ی ہے۔موصوفہ نے کہا کسان حکومت سے ناراض ہیں اور آنے والے وقت میں لوگ بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کریں گے لہذا بی جے پی کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔

Advertisement

Related Articles