سری لنکا: پٹرول کی قلت کے سبب اسکول اور سرکاری دفاتر بند

کولمبو،جون۔سنگین اقتصادی بحران کے سبب سری لنکا میں حکومت نے سرکاری دفاتر، اسکولوں اور ٹرانسپورٹ کو دو ہفتے کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ زرمبادلہ ختم ہو جانے کے سبب کولمبو ایندھن درآمد کرنے کے لیے ڈالرز ادا نہیں کر پا رہا ہے۔سری لنکا سن 1948 میں برطانوی نوآبادیاتی نظام سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے اپنے بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے۔حکومت گزشتہ برس کے اواخر سے خوراک، ایندھن اور ادویات جیسی ضرورتوں کے لیے بھی غیر ملکی زرمبادلہ ادا کرنے میں ناکام ہے۔سری لنکا کے وزیر اعظم رانل وکرم سنگھے نے باقی ماندہ ایندھن کو ہنگامی ضروریات کے استعمال کے لیے محفوظ رکھنے کے مقصد سے جمعہ 17 جون کو سرکاری چھٹی کا اعلان کیا تھا۔اس کے ایک روز بعد ہفتہ 18جون کو حکومت نے ایک حکم نامہ جاری کرکے تمام اسکولوں، سرکاری دفاتر اور ٹرانسپورٹ کو دو ہفتے کے لیے بند رکھنے کا اعلان کر دیا۔امور داخلہ اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی وزارت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام محکموں، سرکاری اداروں اور مقامی کونسلوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی سنگین قلت کے مدنظر پیر کے روز سے صرف انتہائی ضروری خدمات ہی برقرار رکھیں۔حکم نامہ میں کہا گیا ہے، ”سرکاری ٹرانسپورٹ کی قلت نیز پرائیوٹ گاڑیوں کا بندوبست کرنے میں ناکامی کی وجہ سے کام پر آنے والے ملازمین کی تعداد میں بھاری کمی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پیر کے روز سے انتہائی ضروری اسٹاف ہی دفاتر آئے۔‘‘سری لنکا کی وزارت تعلیم نے جمعرات کو ایک حکم نامہ جاری کرکے کہا کہ طویل لوڈ شیڈنگ کے مدنظر پیر کے روز سے ملک بھر کے تمام اسکول اگلے دو ہفتے کے لیے بند رہیں گے۔ بیان میں تاہم کہا گیا ہے کہ اگر ممکن ہو تو ٹیچر آن لائن کلاسز لے سکتے ہیں۔خیال رہے کہ اس وقت سری لنکا میں بارہ سے تیرہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ روزمرہ کا معمول ہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ پٹرول پمپوں پر طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں اور لوگوں کو پٹرول لینے کے لیے کئی کئی دن انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں ریکارڈ مہنگائی جیسے مسائل کی وجہ سے حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔سری لنکا حکومت کی جانب سے بندش کا اعلان اقوام متحدہ کے اس بیان کے ایک روز بعد کیا گیا جس میں عالمی ادارے نے غیر معمولی معاشی بحران سے دوچار ملک کے لیے عالمی برادری سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔اقوام متحدہ نے کہا کہ سری لنکا میں پانچ میں سے چار افراد کو پیٹ بھر کھانا دستاب نہیں ہے کیونکہ وہ کھانے کا انتظام کرنے کے متحمل نہیں ہیں۔اقوام متحدہ نے اس”سنگین انسانی بحران” کے مدنظر خبردار کیا کہ لاکھوں افراد کو امداد کی فوری ضروری ہے۔ورلڈ فوڈ پروگرام نے بتایا کہ اس نے جمعرات کے روز زندگی بچانے کے لیے مدد کے طور پر کولمبو کے پسماندہ علاقوں میں تقریباً 2000 حاملہ خواتین کو فوڈ واؤچرز تقسیم کرنا شروع کیا ہے۔وزیر اعظم رانل وکرم سنگھے کے دفتر نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ آنے والے مہینوں میں خوراک کی قلت کی وجہ سے ملک میں کم از کم پچاس لاکھ لوگ براہ راست متاثر ہوں گے۔سری لنکا اپریل میں اپنے 51 ارب ڈالرز کے غیر ملکی قرضے پر نادہندہ ہونے کے بعد بیل آؤٹ پیکج کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) سے بات چیت کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں پیر کے روز کولمبو میں آئی ایم ایف کے اہلکاروں سے با ت چیت متوقع ہے۔ادھراقوام متحدہ نے اگلے چار مہینوں کے دوران بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 17 لاکھ سری لنکن باشندوں کو امداد فراہم کرنے کے لیے 47 ملین ڈالرز اکٹھا کرنے کے منصوبے کا خاکہ پیش کیا ہے۔دریں اثنا وزیر اعظم وکرم سنگھے نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے بات چیت کی ہے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق امریکی رہنما نے آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کے نتائج کے بعد سری لنکا کو مالی امداد دینے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

Advertisement

Related Articles