روس کے ساتھ لڑائی میں سرخرو یوکرین ہو گا، زیلنسکی

کییف،جون۔یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ گزشتہ چار ماہ سے جاری لڑائی میں سرخرو یوکرین ہو گا۔ یہ بات اہم ہے کہ اس وقت روسی فورسز مشرقی یوکرینی علاقوں پر شدید شلینگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔یوکرینی دارالحکومت کییف پر قبضے میں ناکامی کے بعد روس نے اپنی تمام تر توجہ مشرقی یوکرینی خطے ڈونباس پر مرکوز کر رکھی ہے، جب کہ کئی علاقے شدید روسی شلینگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔روسی فورسز کی کوشش ہے کہ وہ مشرقی یوکرینی علاقے سیویروڈونیٹسک پر قبضہ کر لیں، تاہم یوکرین پر روسی حملے کے بعد اب تک کا یہ سب سے خونریز معرکہ ثابت ہوا ہے۔ فریقین کی جانب سے ان شدید جھڑپوں میں یہ شہر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔اسی تناظر میں یوکرین کی جانب سے مغربی دنیا سے بھاری ہتھیاروں کی فوری ترسیل کی اپیل کی گئی ہے۔ یوکرین کا موقف ہے کہ روسی فورسز کے پاس یوکرین کے مقابلے میں دس گنا زیادہ بڑا توپ خانہ ہے۔تاہم روسی فورسز کے مقابلے میں نہایت قلیل اور کمزور سمجھی جانے والی یوکرینی فورسز نے اس معرکے میں غیرمعمولی قوت اور مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ویڈیو لنک کے ذریعے سنگاپور میں ایک کانفرنس سے خطاب میں یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا، ہم یقینی طور پر اس لڑائی میں سرخرو ہونے جا رہے ہیں، جو روس نے ہم پر مسلط کی۔ یہ یوکرینی میدانِ جنگ ہے، جہاں مستقبل کی دنیا کے ضوابط طے ہو رہے ہیں۔‘‘روس اور یوکرین دنیا کے دو بڑے زرعی برآمدکنندگان ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے یوکرینی سرحدیں بند ہیں، جس سے زرعی اجناس خصوصاً گندم اور کھانے کی تیل کی برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔یوکرین پر روسی حملے کے بعد دنیا بھر میں خوراک کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔ اسی تناظر میں اقوام متحدہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں انیس ملین سے زائد افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔اسی تناظر میں روس پر شدید مغربی پابندیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔یوکرینی صدر نیخوراک کی قلت کے حوالے سے کہا، روس کی وجہ سے ہم زرعی اجناس برآمد کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ اگر ایسا جاری رہتا ہے، تو دنیا بھر میں خصوصاً ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک میں بھوک اور قحط کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔‘‘

Advertisement

Related Articles