اسرائیلیوں کے ’فلیگ مارچ‘ سے قبل مسجدِ اقصیٰ کے گرد حالات کشیدہ

یروشلم،مئی۔اسرائیل کے شہر یروشلم میں قوم پرستوں کے اسرائیلی جھنڈوں کے ساتھ ’فلیگ مارچ‘ سے قبل ڈھائی ہزار کے قریب یہودی شہریوں نے ملک کے سب سے مقدس مقام کا دورہ کیا، جس کے ردِعمل میں مسجدِ اقصیٰ میں موجود فلسطینیوں نے اسرائیلی سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں زائرین پرمبینہ طور پر پتھراؤ کیا۔یروشلم میں ہونے والا یہ اسرائیل کے پرچموں کا مارچ 1967 میں اس شہر پر اسرائیلی فورسز کے قبضے کی یاد میں کیا جاتا ہے اور اسے ’یروشلم ڈے‘ کہا جاتا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مارچ کی وجہ سے خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی کو مزید ہوا ملے گی۔خبر وں کے مطابق اس مارچ سے پہلے تین ہزار پولیس اہل کار شہر میں تعینات کیے گئے تھے۔گزشتہ برس یروشلم ڈے کے دوران حماس کی جانب سے اسرائیل میں داغے جانے والے راکٹوں کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی 11 روز تک جاری رہی تھی۔ اس کشیدگی کے دوران 66 بچوں سمیت 260 فلسطینی اور 14 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔ترک وزیرخارجہ مولود چاوش اولو نے اسرائیل کے دورے کے موقع پر مسجد اقصیٰ میں بھی حاضری دی۔غزہ کی پٹی پر حکمرانی کرنے والی فلسطینی تنظیم حماس نے گزشتہ ہفتے مارچ کے مسجدِ اقصیٰ کے احاطے سے گزرنے کے خلاف خبردار کیا تھا۔تنظیم کا کہنا تھا کہ وہ ایسا ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔مارچ کرنے والے اسرائیلی شہریوں کے بارے میں امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ شہر میں دمشقی دروازے سے داخل ہوں گے جس کے بعد وہ مغربی دیوار کی جانب بڑھیں گے۔اسرائیلی حکام نے ابھی تک مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں مارچ کرنے کی اجازت نہیں دی۔اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ایک بیان میں تصدیق کی تھی کہ مارچ اپنے طے شدہ راستے سے گزرے گا۔اسرائیلی روزنامہ یڈویٹ اہورناٹ کے مطابق یہ مارچ اسرائیلی وزیرِ اعظم کے لیے ایک آزمائش ہے کہ آیا انہوں نے سابق وزیرِ اعظم کی جارحانہ پالیسیوں کو ترک کیا ہے یا وہ بھی ان پالیسیوں پر گامزن ہیں۔سیکیورٹی امور کے تجزیہ کار شولومو موفاز کے مطابق نفتالی بینیٹ اس بات پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں کہ ایک اور جنگ حماس کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔خبر وں کے مطابق حماس کی حالیہ حکمتِ عملی یہ ہے کہ اسرائیل کے اندر سے ہی لوگوں کو حملوں کی ترغیب دی جائے اور وہ غزہ کی پٹی میں اپنی تعمیر ی سرگرمیاں جاری رکھیں۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کو مطلع کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے ایرانی پاسداران انقلاب کے کرنل سید خدائی کے قتل کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے۔موفاز کے مطابق ایران اس کے ردِ عمل میں فلسطینی مسلح دھڑوں کو اسرائیل میں راکٹ حملے کرنے کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے۔اقوامِ متحدہ کے مشرقِ وسطیٰ میں ایلچی وینیسلینڈ نے جمعے کو ایک بیان میں اپیل کی تھی کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایک اور پرتشدد تنازع سے اجتناب کریں، جس میں مزید جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔

Advertisement

Related Articles