کولن پاول کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین

دعائیہ تقریب میں بائیڈن، اوباما اور بش کی شرکت

واشنگٹن،نومبر۔امریکہ کے سابق وزیر خارجہ اور اولین سیاہ فام جوائنٹ چیفس آف سٹاف کولن پاول کو جمعہ کے روز واشنگٹن ڈی سی میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس سے قبل ان کے تابوت کو امریکی جھنڈے میں لپیٹ کر واشنگٹن ڈی سی کے نیشنل کیتھڈرل میں رکھا گیا تھا ، جہاں ان کی یاد میں ایک خصوصی دعائیہ تقریب ہوئی، تقریب میں انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔کولن پاول وہ پہلے سیاہ فام تھے، جو امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر، چئیرمین جوائنٹ چیفس آف دا جوائنٹ سٹاف، اور وزیر خارجہ بنے۔ انہوں نے امریکی فوج میں پینتیس سال تک خدمات انجام دیں۔ وہ تین ریپبلکن صدور کے ادوار میں ترقی کرتے ہوئے اعلی ترین عہدوں پر فائز ہوئے۔ وہ گزشتہ مہینے اٹھارہ اکتوبر کو چوراسی سال کی عمر میں کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے ہلاک ہو گئے تھے۔کولن پاول کی یاد میں ہونے والی خصوصی تقریب میں شرکت کرنے والوں میں امریکی صدر جوبائیڈن ،خاتون اول ڈاکٹر جِل بائیڈن، سابق صدر براک اوباما، سابق خاتون اول مشیل اوباما، سابق صدر جارج ڈبلیو بش ، سابق خاتون اول لارا بش اور سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سمیت کئی سابق فوجی عہدے دار اور احباب شامل تھے۔رچرڈ آرمیٹیج جنھوں نے کولن پاول کے ہمراہ معاون وزیر خارجہ کے فرائض انجام دیے انہیں اس وقت سے جانتے تھے جب دونوں پینٹاگان میں ایک ساتھ کام کرتے تھے۔ انھوں نے پاول کی صلاحیتوں کے بارے میں تفصیل سے ذکر کیا اور کہا کہ ان کی ذات میں ایک قدرتی کشش تھی، ملنے والے کے ساتھ گرمجوشی سے پیش آتے تھے۔آرمیٹیج نے کہا کہ کئی معاملات میں دونوں کے خیالات ملتے تھے، ماسوائے موسیقی کے شعبے کے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ سویڈن کے پاپ گروپ ‘ایبا’ کے گرویدہ تھے۔ جب وہ وزیر خارجہ تھے انھوں نے سویڈن کے سفیر کے سامنے ”ماما میا” کا مکمل گانا سنایا۔ جمعے کو جب خصوصی تقریب کے شرکا کیتھڈرل آ رہے تھے، سازوں پر اْسی گروپ کا گانا ‘ڈانسنگ کوئین’ پیش کیا گیا۔سابق وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ نے، جو کولن پاول کی پیش رو تھیں، بطور ایک جنرل اور سیاستدان ان کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاول کا سیاسی حربوں سے دور دور کا واسطہ نہیں تھا، وہ صرف نتائج پر نظر رکھتے تھے ، انہوں نے عملیت پسندی کے اندازکو کرشماتی بنا دیا”۔اس موقعے پر اپنے خطاب میں، پاول کے بیٹے، مائیکل نے اپنے والد کی زندگی کے سفر کو بیان کیا۔ اپنے والد کی کتاب ‘مائی امریکن جرنی’ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ جمیکا کے ایک تارک وطن کا بیٹا اقتدار کی اونچی دہلیز تک جا پہنچا۔ انھوں نے کہا کی ان کے والد ”شیر کا جگر رکھتے تھے اور بڑے دل کے مالک تھے۔”انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ ہم اس ملک (امریکہ)کو ویسا ہی بنانے کا عزم کریں، جہاں اب بھی ان کے والد جیسے افراد سامنے آ سکیں۔خبروں کے مطابق بعض افریقی امریکیوں کا کہنا ہے کہ اپنی زندگی میں اتنی ترقی کرنے کے باوجود اپنی نسل کے دیگر افراد کے لئے پاول کی آواز اس قدر بلند نہیں تھی، جتنی ہونی چاہئے تھی۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاول نسلی تفریق کے بارے میں بات کرنے میں دشواری محسوس کرتے تھے۔نیویارک میں مقیم ایک مصنف اور انسانی حقوق کے کارکن کیون پاول ، جن کا کولن پاول سے کوئی رشتہ نہیں ہے، اور جن کی 1990میں پاول سے ملاقات ہوئی تھی، کہتے ہیں کہ سیاہ فام امریکیوں میں پاول کے لئے یہ احساس موجود نہیں تھا، کہ وہ انہیں اپنے میں سے ایک سمجھتے۔سابق امریکی فوجی اور ڈیٹرائٹ میں مقیم سیاسی کارکن سام ریڈل کے مطابق، کولن پاول کی متانت اور مزاج کے ٹہراو سے یہ اندازہ قائم کرنا درست نہیں کہ انہیں امریکہ میں اپنی نسل کے افراد کی مشکلات کا اندازہ نہیں تھا۔نیویارک کے سٹی کالج میں قائم کولن پاول سکول آف سیوک اینڈ گلوبل لیڈرشپ کے ڈین اینڈریو رچ کہتے ہیں کہ کولن پاول ہر لحاظ سے ایک مشعل بردار تھے ۔

Advertisement

Related Articles