ماہی گیری پر کھینچاتانی، فرانس نے برطانوی کشتی کو جانے کی اجازت دیدی، برطانیہ کا خیرمقدم

راچڈیل،نومبر۔بریگزٹ کے بعد برطانوی پانیوں میں ماہی گیری کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے فرانس کی طرف سے روکے گئے برطانوی ٹرالر کو جا نے کی اجازت دیدی ہے۔ برطانوی وزراء نے ماہی گیری کے معاملے پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی طرف سے سخت موقف سے پیچھے ہٹنے کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ سیکرٹری ماحولیات جارج یوسٹیس نے تصدیق کی ہے کہ سکیلپ بحری جہاز کارنیلیس گیرٹ جان کو لائسنس کے بغیر مچھلی پکڑنے کے الزام میں اور لی ہاورے میںزبردستی روکا گیا تھا کو فری ہینڈ دیدیا گیا ہے بریگزٹ کے بعد ماہی گیری کے حقوق پر فرانس اور برطانیہ کے درمیان کچھ عرصہ سے کھینچا تانی چل رہی ہے۔ برطانیہ کی طرف سے فرانسیسی مچھیروں کو لائسنس ایشو نہ کرنے پر معاملے نے تول پکڑا جس کے بعد فرانس کی طرف سے برطانیہ کیخلاف مختلف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے ڈیڈلائن دی گئی جس کے جواب میں برطانیہ نے ڈیڈ لائن کو مسترد کرتے ہوئے سخت موقف اپنایا اور فرانس کو متنبہ کیا کہ دھمکیوں سے گریز کیا جائے۔ سیکرٹری ماحولیات جارج یوسٹیس نے فرانس کی طرف سے دی جانیوالی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ہمیشہ معاملات میں بہتری کے خواہاں رہے ہیں ہمارے پاس کسی بھی ثبوت پر بات کرنے کیلئے ایک دروازہ کھلا ہے۔برطانیہ کا موقف ہے کہ فرانسیسی ماہی گیر لائسنس کے خواہشمند ہیں تو بریگزٹ سے قبل برطانوی پانیوں میں مچھلی پکڑنے کے شواہد سامنے لائیں۔ فرانسیسی صدر میکرون نے گلاسکو میں ہونیوالی سی او پی 26سربراہی اجلاس میں برطانیہ اور فرانس کے درمیان جاری معاملات پر لب کشائی تھی فرانس کے یورپی وزیر کلیمنٹ بیون نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ پیرس میں جمعرات کو بریگزٹ وزیر لارڈ فراسٹ سے ملاقات کر کے معاملے پر تبادلہ خیال کرینگے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ فرانس برطانیہ اور جرسی کے اپنے پانیوں میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے متعدد فرانسیسی جہازوں کی درخواستوں کو مسترد کرنے کے فیصلے پرسخت نالاں ہے اور فرانس واضح طور پر ماہی گیروں کو لائسنس جاری نہ کرنے پر برطانوی کیخلاف اقدامات کا اعلان کر رہا ہے برطانیہ کے ذمہ داروں نے فرانسیسی عمل پر بھر پور رد عمل کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فرانس دھمکیوں پر عمل کرتا ہے تو ہم قانونی کاروائی کیلئے تیار ہیں۔فرانسیسی صدر اور برطانوی وزیر اعظم کے درمیان ہونیوالی سی او پی 26سربراہی کانفرنس میں ملاقات سرد مہری کا شکار رہی۔شمالی فرانسیسی ماہی گیری کمیٹی کے چیئرمین اولیور لیپریٹری نے کہا ہمیں ایک ایسے معاہدے کی ضرورت ہے جو فرانسیسی اور برطانوی ماہی گیری دونوں کیلئے مفید ہو اور تمام بنیادی مسائل سے نمٹا جا سکے۔

Advertisement

Related Articles