سروے: تین چوتھائی فلسطینیوں کا صدر عباس سے استعفے کا مطالبہ

راملہ،اکتوبر۔گذشتہ روز ایک فلسطینی رائے عامہ کے جائزے میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی کارکردگی پر عوام کی عدم اطمینان کا انکشاف ہوا ہے، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ان کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ آج تقریباً تین چوتھائی عوام ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی مرکز برائے پالیسی اور سروے ریسرچ کی طرف سے 14 سے 23 اکتوبر 2021 تک کرائے جانے والے سروے میں اس زبردست نتائج کی وجوہات کو واضح کرتے ہوئے کہا گیا کہ سروے کے انعقاد سے چھ ماہ قبل اس کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔ اندرونی فلسطینی سطح پر قابل ذکر پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔مئی کے مہینے میں طے شدہ قانون سازی کے انتخابات کا ملتوی ہونا، مقدس مقامات پر قابض دشمن کے حملے اور فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی دھمکی کے پس منظر میں مقبوضہ القدس میں عوامی محاذ آرائی۔ شیخ جراح میں فلسطینیوں کی ان کے گھروں سے بے دخلی، غزہ کی پٹی کے خلاف چوتھی جارحیت، فلسطینی عوامی رائے عامہ کو دبانا اور فلسطینی سیکیورٹی سروسز کے ارکان کے ہاتھوں سیاسی کارکن نزار بنات کے قتل جیسے اسباب صدرعباس کے حوالے سے عوام میں مایوسی میں اضافے کا باعث بنیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ سروے کے دوران سامنے آنے والے نتائج میں سے مغربی کنارے کے 71 فیصد باشندوں کا خیال ہے کہ وہ بلا خوف و خطر فلسطینی اتھارٹی پر تنقید نہیں کر سکتے۔

Related Articles