جوہری آبدوز: بظاہر خوش حال جوڑے کی امریکی فوجی راز بیچنے کی کوشش جس نے حکام کو چکرا دیا

میری لینڈ،اکتوبر۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ جوناتھن اور ڈیانا ٹوئیب نہایت عام زندگیاں گزار رہے ہیں۔ پیشہ ورانہ، آرام دہ اور متاثر کْن۔ریاست میری لینڈ کے ساحلی شہر ایناپولس کے پوش علاقے میں سرخ اینٹوں سے بنے گھر میں وہ سارا سامانِ ضرورت تھا جو عام طور پر دو بچوں اور دو کتوں والے گھر میں ہوتا ہے۔ساشا اور فرینکلن نامی کتوں کے نام بیرونی دروازے پر موجود میٹ پر بھی کندہ ہیں۔علاقے کی گلیوں میں سرو کے درخت جابجا لگے ہیں۔ قریبی پارک میں سیپیاں بھی نظر آ جاتی ہیں۔ لوگوں کے باغیچے نفاست سے تراشیدہ ہیں اور گھاس کی بھینی بھینی خوشبو اٹھتی رہتی ہے۔پاس ہی امریکی نیول اکیڈمی اور ایک یاٹ ہاربر بھی ہے۔اس علاقے کے سکون میں نو اکتوبر کو اس وقت خلل پڑا جب وفاقی ایجنٹس نے ٹوئیب ہاؤس پر چھاپہ مارا۔اس سے پہلے وفاقی ایجنٹس نے یہاں سے لے کر مغربی ورجینیا میں جیفرسن کاؤنٹی تک اس جوڑے کا پیچھا کیا تھا۔امریکی حکومت کے مطابق 42 سالہ جوناتھن اور 45 سالہ ڈیانا یہیں مغربی ورجینیا میں بغاوت کرنے والے تھے۔میری لینڈ کے اس جوڑے پر مبینہ طور پر غیر ملکی حکومت کو فوجی راز فروخت کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور اگر یہ ثابت ہو گیا تو اْنھیں تاحیات قید ہو سکتی ہے۔بدھ کو مغربی ورجینیا میں ٹوئیب جوڑے پر عائد الزامات کی ابتدائی سماعت ہو گی۔ قومی سلامتی کے اس غیر معمولی مقدمے نے اس بظاہر عام سے جوڑے کے بارے میں متعدد سوالات کو جنم دیا ہے جو مبینہ طور پر سپر جاسوس بننے کی کوشش میں سب کچھ داؤ پر لگانے کو تیار تھا۔جاسوسی کی یہ کوششیں وزارتِ انصاف کے مطابق اپریل 2020 میں شروع ہوئیں جب امریکی بحریہ کے ملازم جوناتھن نے ایک غیر ملکی حکومت کے اہلکار سے ڈاک میں ایک پیکج بھیج کر رابطہ کیا۔حکام کے مطابق اس پیکج میں ایک نوٹ تھا جس میں تحریر تھا کہ وہ اْنھیں جوہری آبدوزوں سے متعلق معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔اْنھوں نے دعویٰ کیا کہ چونکہ وہ چیف آف نیول آپریشنز کے دفتر میں کام کرنے والے ماہر ہیں، اس لیے اْنھیں ایسی سکیورٹی کلیئرنس حاصل ہے جس کے ذریعے وہ جوہری آبدوزوں میں استعمال ہونے والے جوہری پروپلڑن سسٹمز کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔بظاہر اس حکومت کے امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں اور اس غیر ملکی حکومت کے لیے کام کرنے والے اہلکار امریکی تفتیش کاروں سے مل کر جوناتھن ٹوئیب کے لیے جال بچھا رہے تھے۔اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ یہ کوئی اتحادی ملک تھا، شاید فرانس، مگر روس یا چین تو بالکل بھی نہیں۔مگر کسی بھی ملک نے اب تک اس حوالے سے باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔کچھ ماہ بعد ایف بی آئی کو دسمبر میں یہ پیکج مل گیا اور اْنھوں نے اپنے ایجنٹس کو غیر ملکی اہلکاروں کا بھیس بدل کر جوناتھن سے ملنے کے لیے بھیجا۔ان لوگوں نے جوناتھن کو بتایا کہ وہ جوناتھن کی پیشکش میں دلچسپی رکھتے ہیں۔یہاں سے اس جوڑے نے کئی ماہ پر مشتمل یہ غلط ایڈونچر شروع کر دیا۔ جوناتھن اس دوران میموری کارڈز میں خفیہ فائلز ڈال کر یہ میموری کارڈز جاسوسوں کی بتائی ہوئی جگہوں پر رکھ دیا کرتے تھے۔حکومتی الزامات کے مطابق اس دوران اْن کی اہلیہ نظرداری کیا کرتی تھیں۔جس پروپلڑن ٹیکنالوجی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ جوڑا فروخت کرنے کی کوشش کر رہا تھا، وہ خفیہ ترین فوجی رازوں میں سے ایک ہے اور ایک انتہائی اہم معاہدے میں کلیدی اہمیت کا حامل تھا جو امریکہ اور برطانیہ نے حال ہی میں آسٹریلیا کے ساتھ طے کیا ہے۔تفتیش کاروں کے مطابق ٹوئیب نے چیک پوائنٹس سے گزرنے کے لیے ایک وقت میں کچھ کچھ صفحات باہر سمگل کرنے شروع کیے۔اْنھوں نے اپنے مبینہ سازشی ساتھی کو نوٹ میں لکھا کہ میں اپنے قبضے میں موجود فائلز اکٹھی کرنے میں بہت محتاط تھا اس لیے میں نے انھیں اپنی ملازمت کے معمول کے مطابق آہستہ آہستہ اکٹھا کیا تاکہ کسی کو میرے پلان پر شک نہ ہو۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق اس مواد کو چھپائے رکھنے کے لیے جوناتھن نے یہاں تک کیا کہ ایک میموری کارڈ کو آدھے کھائے ہوئے سینڈوچ میں یا چیونگ گم کے پیکٹ میں چھپایا، یا بینڈیج کے ریپر میں بند کر کے ریفریجریٹر بیگ میں رکھ دیا۔سینڈوچ میں چھپائے گئے کارڈ پر جوناتھن کو کرپٹوکرنسی میں 20 ہزار ڈالر ادا کیے گئے تھے۔شروع میں تو جوناتھن کچھ گھبراہٹ کے شکار تھے مگر بعد میں وہ اس غیر ملکی اہلکار کے ساتھ مانوس ہو گئے جسے وہ معلومات فروخت کر رہے تھے، یہ جانے بغیر کہ وہ شخص ایف بی آئی ایجنٹ ہے۔بظاہر وہ ان لوگوں کے گرویدہ بھی ہونے لگے تھے۔ اْنھوں نے اپنے ایک نوٹ میں لکھا: ایک دن جب یہ محفوظ ہو گا تو دو پرانے دوست کسی کیفے میں ایک دوسرے سے ملیں گے، ساتھ وائن پیئں گے اور اپنے مشترکہ فائدوں کی کہانیوں پر ہنسیں گے۔جب اْنھیں گذشتہ ہفتے پکڑا گیا، تب تک جاسوسی کی کوششوں کے بارے میں ٹھوس کاغذی ثبوت جمع کیے جا چکے تھے۔گرفتاری کے ایک ہفتے بعد ٹوئیب جوڑے کے گھر میں ہر چیز ویسے ہی تھی جیسی وہ چھوڑ کر گئے تھے۔تہہ خانے میں پنکھا ابھی تک چل رہا تھا، بْنائی کا ایک پراجیکٹ ویسے ہی ادھورا پڑا تھا اور بیٹھک کی میز پر ایک جراب ویسے ہی پڑی تھی۔پڑوسی بھونچکے رہ گئے تھے۔کئی لوگوں کو اس بات پر حیرانی تھی کہ وہ جوڑا جس کی زندگی میں سب ٹھیک چل رہا تھا اب ایک غیر ملکی حکومت کو ملک کے خفیہ ترین فوجی رازوں میں سے کچھ فروخت کرنے کے لیے مقدمے کا سامنا کر رہا تھا۔پڑوسیوں کے مطابق ویسے تو یہ جوڑا بہت زیادہ میل جول رکھنے والا نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود یہ خفیہ بھی نہیں رہتا تھا۔جوناتھن کو قرونِ وسطیٰ کے ہتھیاروں میں دلچسپی تھی اور وہ سوسائٹی فار ہسٹاریک سورڈزمین شپ نامی ایک ایسے ہی سوشل میڈیا گروپ کا حصہ تھے جہاں اْن کی طرح اس میں دلچسپی رکھنے والے دیگر لوگ بھی موجود تھے۔جوناتھن کی عمر 45 سال ہے اور وہ اٹلانٹا کی ایموری یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کے حامل ہیں۔ وہ ایک نجی سکول میں پڑھاتے تھے۔اور اگر کسی جاسوس کے لیے ماحول میں گھل مل جانا ایک اہم خاصیت سمجھی جاتی ہے، تو ڈیانا میں یہ خاصیت نہیں تھی۔ اْن کے شوخ بینگنی رنگ کے بال تھے جس کے باعث وہ آسانی سے پہچانی جاتیں۔ایک پڑوسی نے کہا: اْنھیں تو جاسوس ہونا تھا، نہ کہ سب کی نظروں میں آنا تھا۔
اس کام کی وجہ؟:اپنی تمام تر ذاتی اور پیشہ ورانہ کامیابی کے باوجود یہ جوڑا ایسا کیوں کر رہا تھا؟ورجینیا کے شہر ایلگزینڈریا سے تعلق رکھنے والے ماہرِ نفسیات ڈیوڈ چارنی کے مطابق یہ بات کچھ حد تک پراسرار ہے۔اْنھوں نے جاسوسی کے کیسز کا مطالعہ کرتے ہوئے کئی دہائیاں صرف کی ہیں مگر اْن کا کہنا تھا کہ کچھ باتیں ہر کیس میں مشترکہ ہوتی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اکثر و بیشتر لوگ متضاد خواہشات کے حامل ہوتے ہیں۔ کبھی وہ پیسہ چاہتے ہیں تو کبھی صرف بدلہ۔کچھ لوگ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بھلے ہی وہ اوسط سے شخص دکھتے ہیں مگر درحقیقت غیر معمولی لوگ ہیں۔انٹیلیجنس اداروں کے لیے کام کرنے والے حکام جو دغابازی کے پیچھے موجود نفسیات کا مطالعہ کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے ایم آئی سی ای نامی اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں، یعنی پیسہ، نظریات، سمجھوتہ اور انا۔حکام کے مطابق لوگ ان چار باتوں کی وجہ سے غداری کرتے ہیں۔وکلائے استغاثہ کا کہنا ہے کہ جوناتھن پیسہ چاہتے تھے۔وفاقی تفتیش کاروں کے حلف نامے کے مطابق اْنھوں نے جوہری رازوں کے بدلے کرپٹوکرنسی میں ایک لاکھ ڈالر کا مطالبہ کیا۔اور اس بات کے بھی کچھ اشارے ہیں کہ وہ اور اْن کی اہلیہ کچھ مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہوں۔مجسٹریٹ رابرٹ ٹرمبل نے اْن کے مالی گوشواروں کا جائزہ لیا اور کہا کہ وہ عدالت کے مقرر کردہ وکلا کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ وہ اتنے امیر نہیں تھے کہ اپنے خود کے وکیل کر سکتے مگر بالکل غریب بھی نہیں تھے۔اب ڈیانا کی نمائندگی دو وکلا ایڈورڈ میکمیہن اور بیری بیک کر رہے ہیں جبکہ جوناتھن کے وکیل نکولس کومپٹن ہیں جو اسسٹنٹ وفاقی وکیلِ دفاع ہیں۔مذکورہ وکلا نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔مگر چارنی کا کہنا ہے کہ پیسہ پھر بھی اس معاملے کا صرف ایک رخ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ جوڑا بظاہر نسبتاً خوش حال تھا۔وہ کہتے ہیں کہ آپ ان کی زندگی پر نظر ڈالیں اور ان کے اس اچھے سے گھر کو دیکھیں تو آپ کہتے ہیں ارے یہ برا تو نہیں ہے۔ مگر آپ جو سوچتے ہیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اگر اْنھیں نہیں لگتا کہ وہ خوش حال ہیں تو یہ چیز اْنھیں اندر سے کھا سکتی ہے۔ سابق جاسوسوں کو بھی اس بات پر حیرانی ہے کہ جوناتھن کو کیوں لگا کہ اْن کا منصوبہ کام کرے گا۔اْن کے طریقے بہت جدید نہیں تھے اور اس سے ایک اور بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک دفتری ملازم جس کا اس شعبے میں کوئی تجربہ نہیں، وہ کیوں اتنا خطرہ مول لے گا۔سی آئی اے کے ایک سابق سینیئر آپریشنز افسر جیک ڈیوائن کہتے ہیں کہ وہ ایک ناتجربہ کار جاسوس ہیں۔ اْن کے پاس کوئی تربیت نہیں تھی۔ اْنھوں نے کچھ ٹی وی شوز دیکھے اور اْنھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اس سب کے لیے کیا چاہیے ہوتا ہے۔ جیک ڈیوائن کہتے ہیں کہ اگر آپ اس کام میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جاسوسی فلموں پر بھروسہ کر رہے ہیں تو آپ کو بہت ہی ماہر ہونا چاہیے یا پھر بہت خوش قسمت۔ مبینہ طور پر جوناتھن ان میں سے کچھ بھی نہیں تھے۔

Advertisement

Related Articles