ایران کی امریکہ کو دھمکی، یمن میں حوثی باغیوں پر حملے تیز

ٹرمپ کی ایرانی صدر پیزشکیان سے ملاقات کے امکانات

تہران/واشنگٹن، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اس پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایسا کیا تو ایران پوری طاقت کے ساتھ جواب دے گا۔ دوسری جانب یمن میں لڑائی تیز ہوگئی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے ملاقات کے امکان کے اشارے دیے ہیں۔ایران کی مرکزی فوجی کمان خاتم الانبیائ سینٹرل ہیڈکوارٹر نے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ اگر امریکہ یا مشرق وسطیٰ میں اس کے اتحادی ممالک نے کوئی غلطی کی تو انہیں ’’دردناک‘‘ جوابی حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔الجزیرہ، سی بی ایس نیوز اور فاکس نیوز کی رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے تین ممکنہ راستوں کا ذکر کیا ہے۔ ان میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی، اسے معاشی طور پر دباؤ میں لانا اور معاہدے کے ذریعے تنازعہ ختم کرنا شامل ہیں۔ دوسری جانب قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے کہا ہے کہ خلیجی خطے کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں خودمختاری کا احترام ہو اور کوئی ملک دوسرے کے لیے خطرہ نہ بنے۔اس دوران یمن کے صوبہ الجوف میں چار افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی ہے۔ ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق حوثی انتظامیہ سے وابستہ خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ الجوف میں مواصلاتی ٹاورز کو نشانہ بنانے والے فضائی حملوں میں چار افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ سعودی حکام نے فوری طور پر اس دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔یمنی حکومتی فورسز کئی محاذوں پر فوجی کارروائیاں کر رہی ہیں، جن میں زیادہ تر شمالی اور مغربی علاقے شامل ہیں۔ سب سے اہم اور شدید محاذ مغربی ساحلی علاقہ ہے، جو تعز کے مغربی دیہی علاقوں سے لے کر لحج تک پھیلی پہاڑی پٹی کے ساتھ واقع ہے۔ ان علاقوں میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔اندرونی علاقوں میں تاہم کسی بھی فریق کو واضح برتری حاصل نہیں ہوسکی ہے اور کسی فوج کی پیش قدمی کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فضائیہ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں 28 فضائی حملے کیے۔ ان کے مطابق تعز، الجوف اور مأرب صوبوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ دعویٰ دیگر ذرائع نے بھی رپورٹ کیا ہے، تاہم حملوں کی تعداد اور تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔امریکی ریپبلکن اسٹریٹجسٹ اور وائٹ ہاؤس و قومی سلامتی کے محکمے کے سابق عہدیدار مارک فیفل کے مطابق، قطر اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے علاوہ چین بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت آگے بڑھانے میں مدد کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے امریکہ میں صدر ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے ملاقات کے لیے تیار ہوسکتے ہیں۔ پیزشکیان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچنے کی توقع ہے۔ امریکی انتظامیہ نے پیزشکیان اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ ایرانی حکام کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزے بھی منظور کیے ہیں۔مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے امریکی انتباہ کے درمیان سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے اتوار کو قاہرہ کے خصوصی دورے کے دوران مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔ مصری صدر کے دفتر کے مطابق، اجلاس میں مصر کے انٹیلی جنس سربراہ حسن رشاد بھی شریک ہوئے۔ملاقات میں ایران، غزہ پٹی اور سوڈان میں جاری جنگوں کے علاوہ خلیجی ممالک پر حملوں اور بحری سلامتی کو درپیش خطرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز اپنے شہریوں کو تنازع والے علاقوں کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ محکمے نے خبردار کیا کہ سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جاری تنازع مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔ریٹکلف کا یہ دورہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے قاہرہ میں صدر السیسی سے ملاقات کے چند روز بعد ہوا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے باب المندب آبنائے سے محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے پر زور دیا تھا۔

 

Related Articles