یو سی سی کے نفاذ کا موقع، آئینی تاریخ اور ملکی سیکولرزم کے تقاضے

امبیڈکر کے مؤقف، مذہبی آزادی، قبائلی شناخت اور یکساں سول کوڈ پر اہم سوالات

پروفیسر عتیق احمد فاروقی
یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ پر بحث آج کی نہیں ہے، بلکہ آزادی کے وقت سے ہی اس موضوع پر گفتگو ہوتی رہی ہے۔ آئین ساز اسمبلی میں جب اس مسئلے پر بحث ہوئی تھی، تب بھی اختلافات سامنے آئے تھے۔ کچھ ارکان کا ماننا تھا کہ یو سی سی نافذ ہونا چاہیے، جبکہ دوسروں کو خدشہ تھا کہ اس سے پرسنل لا کی جگہ یکساں قانون لے لے گا اور مذہبی آزادی متاثر ہوگی۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یو سی سی کی مخالفت محض مسلمانوں نے کی تھی۔
ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے آئین ساز اسمبلی کو یقین دلایا تھا کہ بے شک یو سی سی کو مستقبل میں نافذ کیا جا سکتا ہے، لیکن فی الحال اسے اختیاری رکھا جانا چاہیے، اسے لازمی نہیں بنایا جانا چاہیے۔ جواہر لعل نہرو کی نظر میں بھی یو سی سی کو فوری طور پر نافذ کرنا ضروری نہیں تھا، کیونکہ اس سے بعض اقلیتوں میں عدم تحفظ اور علاحدگی پسندی کا جذبہ پیدا ہو سکتا تھا۔ انہیںتشویشوں اور مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور سماجی اصلاح جیسے موضوعات پر وسیع بحث کے بعد یو سی سی کو بنیادی حقوق کے بجائے ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں (Directive Principles of State Policy) میں شامل کیا گیا۔
آئین کی دفعہ 44 کہتی ہے کہ ریاست، ہندوستان کے پورے علاقے میں شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یو سی سی ریاستی پالیسی سے متعلق ایک معاملہ ہے، جس کے نفاذ کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے؛ اسے محض دفعہ 44 کی بنیاد پر عدالتوں کے ذریعے نافذ نہیں کرایا جا سکتا۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ جن اہم سماجی قوانین میں ترمیم اور تدوین کی گئی تھی، ان میں ہندو قانون سے متعلق قوانین بھی شامل تھے۔ ہندو کوڈ بل کی متعدد ہندو روایتی تنظیموں نے سخت مخالفت کی تھی۔ اس وقت ساورکر نے کہا تھا کہ ہندو قانون میں الگ الگ تبدیلیاں کرنے کے بجائے حکومت کو تمام فرقوں پر نافذ ہونے والے یکساں سول کوڈ کی جانب بڑھنا چاہیے۔ موجودہ بحث میں اس تاریخی حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
اسی لیے ان ریاستوں میں، جہاں این ڈی اے برسرِ اقتدار ہے، یو سی سی نافذ کرنے کی کوشش کو اقلیتوں کی ثقافتی اور مذہبی شناخت کمزور کرنے اور اکثریت کی بالادستی قائم کرنے کے ایک سیاسی اقدام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ہندوستان کی شناخت، ثقافت اور روایات کا گہرا تعلق کثرتیت سے ہے۔ یہاں مختلف ثقافتیں، رسم و رواج اور روایات موجود ہیں، جن میں سے بعض مذہبی عقائد اور اقدار سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس لیے انہیں آئین کی دفعات 25 اور 26 کے تحت تحفظ حاصل ہے۔
عام طور پر یہ طے کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کسی مذہب کا کون سا حصہ لازمی مذہبی عمل ہے اور کون سا نہیں۔ تاہم، یہ خدشہ اکثر ان لوگوں کی جانب سے ظاہر کیا جاتا ہے جو اسلام کو پوری طرح نہیں سمجھتے۔ اسلام میں اس نوعیت کے مسائل کو سمجھنے کے لیے اس کی مذہبی تعلیمات اور اصولوں کا مطالعہ ضروری ہے، جبکہ دوسرے مذاہب میں بھی ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کون سا عمل مذہبی ہے اور کون سا نہیں۔ ان سوالات کی وجہ سے تصادم کا امکان رہتا ہے، لیکن ان اختلافات کو سلجھانے کی کوشش میں ان بنیادوں کو ختم نہیں کرنا چاہیے جو ہماری حقیقی سیکولر شناخت کو قائم رکھتی ہیں۔
ہمارے ملک میں قبائلی برادریاں بھی آباد ہیں، جن کی اپنی ثقافت اور شناخت ہے۔ ہمارے آئین نے ان کی مخصوص شناخت اور حقوق کو تسلیم کیا ہے۔ نام نہاد برابری کی آڑ میں قبائلی برادریوں پر یکساں قانون مسلط کرنا درست نہیں ہوگا۔ ایسی کوششوں سے نہ صرف عدم مساوات میں اضافہ ہوگا اور قبائلی برادریوں کے وقار کو نقصان پہنچے گا، بلکہ ہمارے سیکولر نظام اور خیالات و ضمیر کی آزادی پر مبنی جمہوری ڈھانچے پر بھی منفی اثر پڑے گا۔
سائرا بانو بنام یونین آف انڈیا (2017) کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے طلاقِ بدعت، یعنی ایک ساتھ تین طلاق دینے کی روایت کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ تاہم، عدالت نے اس فیصلے میں پرسنل لا اور بنیادی حقوق کے درمیان تصادم کے تمام پہلوؤں کا کوئی جامع حل پیش نہیں کیا تھا۔ سبری مالا مندر سے متعلق معاملہ اب ایک بڑی آئینی بنچ کے سامنے زیرِ غور ہے۔ اس میں ریاست کی جانب سے یہ دلیل دی گئی ہے کہ مذہبی روایات کو عدالتی نظرثانی کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا، کیونکہ عدالتوں کے پاس مذہبی اور نجی نوعیت کے بعض پیچیدہ سوالات پر غور کرنے کا اختیار محدود ہے۔
یاد رہے کہ سبری مالا معاملے میں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے 2018 میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ رجیسولاعمر گروپ کی خواتین کو اس مندر میں داخل ہونے سے روکنا آئینی طور پر درست نہیں ہے، کیونکہ یہ مساوات اور مذہبی آزادی کی ضمانتوں سے متعلق آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔ یہاں ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے کہ جو ریاست سبری مالا معاملے میں عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی حمایت کرتی ہے، وہی یو سی سی کے معاملے میں اس کے برعکس مؤقف اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔
اتراکھنڈ میں یو سی سی کے نفاذ سے پہلے گوا کے یکساں سول کوڈ کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ گوا کا قانون، یعنی 1867 کا پرتگالی سول کوڈ، شادی، طلاق، وراثت اور دیگر شہری معاملات سے متعلق قوانین پر مشتمل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قانون مختلف مذہبی برادریوں پر نافذ ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس میں بعض مخصوص مذہبی طبقات کے لیے الگ دفعات بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، عیسائی مذہبی پیشواؤں کو شادی کرانے اور بعض حالات میں شادی سے متعلق قانونی کارروائی میں خصوصی کردار حاصل ہے۔ اسی طرح، اس قانون کی بعض دفعات کے تحت بیوی کے بدسلوکی کرنے پر شوہر کو طلاق لینے کا حق حاصل ہے، جبکہ بعض مخصوص حالات میں ہندو شوہروں کو دوسری شادی کی اجازت سے متعلق دفعات بھی موجود ہیں۔ اس لیے گوا کے قانون کو ہر اعتبار سے مکمل طور پر یکساں اور غیر جانب دار قانون قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
سیکولرزم کا بنیادی ستون یہ ہے کہ مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف ثقافتوں اور اقدار کے حامل لوگ مل کر ہندوستان کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس ہندوستان میں ہر معاملے میں یکسانیت ضروری نہیں، بلکہ تنوع کا وجود اور مختلف فرقوں کے درمیان مسلسل مکالمہ ضروری ہے، تاکہ ان رسم و رواج میں اصلاح کی جا سکے جو امتیاز اور ناانصافی کا سبب بنتے ہیں۔
اسی لیے جب ڈاکٹر امبیڈکر نے کہا تھا کہ یو سی سی کو نافذ کرنے کے لیے یہ مناسب وقت نہیں ہے اور اسے لوگوں کی مرضی سے اپنایا جانا چاہیے، تو ان کا مطلب یہ تھا کہ حکومت کو ایسا ماحول بنانے کی کوشش کرنی چاہیے جس میں لوگ باہمی مفاہمت کے ساتھ اپنے مذہبی اور سماجی رسم و رواج میں موجود امتیازی پہلوؤں کو سمجھ سکیں اور ان میں اصلاح کی ضرورت کو محسوس کریں۔
لہٰذا، بنیادی سوال اب بھی برقرار ہے: کیا ریاست اپنی ذمہ داری مساوی اور غیر جانب دارانہ طریقے سے نبھا رہی ہے؟ اور کیا یو سی سی نافذ کرنے کے لیے ویسا ہی خوشگوار اور سازگار ماحول پیدا کیا گیا ہے، جس کی وکالت ڈاکٹر امبیڈکر نے کی تھی؟

Related Articles