اپنے بچوں کو ’بھگوا ٹریپ‘ اوراُن کی شرارتوںسے بچائیں

نوجوان نسل کی دینی، اخلاقی اور سماجی تربیت کے ذریعے ہی تحفظ کی ضمانت دی جاسکتی ہے

انجینئر محمد سمیع خان،لکھنؤ
آج کے بدلتے ہوئے سماجی حالات میں بین المذاہب تعلقات اور شادیوں کا معاملہ ایک اہم معاشرتی موضوع بن کر سامنے آ رہا ہے۔ جدید تعلیم، سوشل میڈیا، مخلوط تعلیمی اداروں، مشترکہ ملازمتوں اور تیزی سے بدلتے سماجی ماحول نے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے درمیان میل جول کے مواقع بڑھا دیے ہیں۔ ایسے ماحول میں والدین اور معاشرے کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ نوجوان نسل کو جذباتی فیصلوں کے بجائے شعور، اخلاق، دینی تربیت اور مستقبل کی ذمہ داریوں کے ساتھ زندگی کے اہم فیصلے کرنے کی رہنمائی فراہم کریں۔
ایک عرصے سے مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے ’لو جہاد‘ جیسی اصطلاحات استعمال کی جاتی رہی ہیں اور بعض مسلم نوجوانوں پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ غیر مسلم لڑکیوں کو محبت کے نام پر اپنے قریب لاتے، ان سے شادی کرتے اور بعد ازاں مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔ مختلف اوقات میں بعض معاملات میں تشدد، دھوکہ دہی اور ہراسانی کے الزامات بھی سامنے آئے، جن کے باعث ایسے معاملات پولیس اور عدالتوں تک پہنچے۔ ان تمام معاملات میں ہر واقعے کی حقیقت اس کے مخصوص شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر ہی طے کی جا سکتی ہے، تاہم اس بحث نے معاشرے میں مذہب، شادی، رضامندی اور نوجوانوں کی تربیت جیسے سوالات کو ضرور نمایاں کیا ہے۔
اب اسی مسئلے کا ایک دوسرا پہلو بھی زیر بحث آ رہا ہے، جس پر مسلمانوں کو سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ مسلم نوجوانوں، خصوصاً ہونہار، تعلیم یافتہ اور مستقبل میں معاشرے کے لیے اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے نوجوانوں کو غیر مسلم لڑکیوں کے ذریعے جذباتی تعلقات اور بین المذاہب شادیوں کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔ یہاں کسی مذہب یا کسی مخصوص طبقے کے تمام افراد کو ایک ہی نظر سے دیکھنا درست نہیں، لیکن اگر کہیں کسی نوجوان کو دھوکے، دباؤ، جذباتی استحصال یا کسی منظم کوشش کے ذریعے اپنے مذہبی اور خاندانی ماحول سے دور کرنے کی کوشش ہو تو اس پر سنجیدہ سماجی توجہ ضرور ہونی چاہیے۔
بین المذاہب شادی کا معاملہ محض دو افراد کی پسند اور باہمی جذبات تک محدود نہیں رہتا۔ شادی کے بعد مذہب، عبادات، تہذیب، خاندانی روایات، معاشرتی تعلقات، بچوں کی تربیت، نام، تعلیم اور مستقبل کے خاندانی فیصلے جیسے متعدد مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ اگر دونوں فریق ان بنیادی اختلافات پر پہلے سے واضح اور سنجیدہ گفتگو نہ کریں تو وقت گزرنے کے ساتھ معمولی سمجھے جانے والے اختلافات بھی پیچیدہ صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس لیے نوجوانوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ شادی زندگی کا ایک طویل مدتی فیصلہ ہے، جسے صرف وقتی جذبات، ظاہری کشش یا سوشل میڈیا کے تعلقات کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔
اسی تناظر میں شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سے منسوب ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر زیر گردش رہی، جس میں ایک ہوائی سفر کے دوران آر ایس ایس سے وابستہ مسلم راشٹریہ منچ کے رہنما اندریش کمار سے ملاقات اور گفتگو کا ذکر کیا گیا۔ ویڈیو میں شنکراچاریہ کے مطابق اندریش کمار نے مسلم راشٹریہ منچ کے ذریعے بڑی تعداد میں ہندو لڑکیوں کی مسلم نوجوانوں سے شادیاں کرائے جانے کا دعویٰ کیا اور یہ تعداد تقریباً دس لاکھ بتائی گئی۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق الگ معاملہ ہے، تاہم ایسے بیانات نے بین المذاہب شادیوں کے پس پشت کسی منظم کوشش کے امکان سے متعلق بحث کو ضرور نمایاں کیا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے دعووں کو جذباتی نعروں کے بجائے حقائق، شواہد اور ذمہ دارانہ سماجی گفتگو کے ذریعے سمجھا جائے۔
مسلمانوں کو اس مسئلے پر جذباتی ردعمل کے بجائے اپنے گھروں اور تعلیمی ماحول میں اصلاح کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ اگر ہمارا نوجوان اپنی دینی شناخت، اسلامی تہذیب، خاندانی اقدار اور اخلاقی ذمہ داریوں سے واقف ہوگا تو وہ کسی بھی قسم کے جذباتی دباؤ یا وقتی کشش کے سامنے زیادہ مضبوطی سے فیصلہ کر سکے گا۔ اس کے برعکس اگر والدین اپنے بچوں کو صرف اعلیٰ تعلیم، اچھی ملازمت اور مالی کامیابی تک محدود رکھیں اور ان کی فکری و اخلاقی تربیت سے غافل ہو جائیں تو زندگی کے اہم مرحلوں پر نوجوان بیرونی اثرات کا آسانی سے شکار ہو سکتے ہیں۔
خاص طور پر مسلم والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے ہونہار بیٹوں کے ساتھ دوستانہ اور اعتماد پر مبنی تعلق قائم کریں۔ نوجوانوں سے صرف ڈانٹ ڈپٹ کے ذریعے بات کرنا کافی نہیں۔ انہیں سننے، سمجھنے اور ان کے سوالات کا مدلل جواب دینے کی ضرورت ہے۔ محبت، دوستی، شادی، مذہب، کیریئر اور مستقبل سے متعلق ان کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کو دبانے کے بجائے ان پر کھلے ماحول میں گفتگو کی جانی چاہیے۔ والدین اگر بچوں کے قریب رہیں گے تو وہ اپنے جذبات اور مسائل کو دوسروں کے بجائے سب سے پہلے اپنے گھر والوں کے ساتھ شیئر کرنے میں زیادہ اطمینان محسوس کریں گے۔
اس کے ساتھ مسلم تعلیمی اداروں، دینی مدارس، سماجی تنظیموں اور مذہبی رہنماؤں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوان نسل کو عصر حاضر کے مسائل سے باخبر کریں۔ صرف روایتی نصیحت کافی نہیں، بلکہ نوجوانوں کو یہ بھی بتایا جائے کہ سوشل میڈیا پر جعلی شناخت، جذباتی وابستگی، آن لائن دوستی، بلیک میلنگ، مالی استحصال اور نفسیاتی دباؤ جیسے مسائل کس طرح سامنے آ سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں سے واقف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی نوجوان کو محض اس بنیاد پر مشکوک سمجھنا درست نہیں کہ وہ دوسرے مذہب کے کسی فرد سے تعلیم یا ملازمت کے سلسلے میں رابطے میں ہے۔ مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان احترام، حسن سلوک اور پرامن سماجی تعلقات ایک صحت مند معاشرے کی علامت ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی تعلق میں دھوکہ دہی، زبردستی، فریب، استحصال یا کسی فرد کی آزادانہ مرضی کو متاثر کرنے کا عنصر شامل ہو۔ اس لیے اصل توجہ مذہبی نفرت پھیلانے کے بجائے نوجوانوں کے تحفظ، باخبر رضامندی اور مضبوط کردار کی تعمیر پر ہونی چاہیے۔
مسلمانوں کی اپنی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل اپنی دینی اور تہذیبی شناخت سے وابستہ رہے تو ہمیں اسے محبت، علم اور عملی کردار کے ذریعے دین سے جوڑنا ہوگا۔ محض پابندیاں عائد کرنے یا خوف پیدا کرنے سے دیرپا نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ بچوں کو دین کی خوبصورتی، اخلاق کی اہمیت، والدین کے حقوق، خاندان کی ذمہ داری اور ازدواجی زندگی کی حقیقتوں سے واقف کرانا ضروری ہے۔
خصوصاً ہمارے ہونہار بیٹے خاندان اور معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ وہ مستقبل میں ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، استاد، افسر، تاجر اور سماجی رہنما بن کر اپنے خاندان اور قوم کی خدمت کر سکتے ہیں۔ اس لیے ان کی تربیت صرف امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے اندر فیصلہ کرنے کی صلاحیت، اخلاقی استقامت، خود اعتمادی، دینی شعور اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان والدین اپنے بچوں کی نگرانی کے ساتھ ان کے ساتھ رفاقت بھی قائم کریں، ان کے دوستوں اور مصروفیات سے واقف رہیں، ان کی آن لائن سرگرمیوں کے حوالے سے مناسب رہنمائی کریں اور انہیں زندگی کے بڑے فیصلوں کے نتائج سمجھائیں۔ نوجوانوں کو یہ شعور دیا جائے کہ وقتی جذبات اور ظاہری کشش ہمیشہ مستقل خوشی کی ضمانت نہیں ہوتیں۔ زندگی کے فیصلوں میں کردار، مزاج، ذمہ داری، خاندان، مذہبی اقدار اور مستقبل کے تقاضوں کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔
اپنے بچوں کی حفاظت کا بہترین راستہ خوف، نفرت یا سماجی تنہائی نہیں بلکہ علم، شعور، محبت، دینی تربیت اور مضبوط کردار ہے۔ اگر ہماری نئی نسل اپنے دین پر مطمئن، اپنے کردار میں مضبوط اور اپنے مستقبل کے بارے میں باشعور ہوگی تو وہ مختلف سماجی حالات میں بہتر اور متوازن فیصلے کر سکے گی۔
لہٰذا ’بھگوا ٹریپ‘ ہو یا کسی بھی قسم کا جذباتی، سماجی یا فکری دباؤ، مسلمانوں کو اس کا جواب نفرت اور اشتعال سے نہیں بلکہ اپنی نسل کی مضبوط تربیت سے دینا چاہیے۔ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کو سنجیدگی سے لیں، ان کی دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی و اخلاقی تربیت کا اہتمام کریں اور انہیں ایسا مضبوط کردار دیں کہ وہ زندگی کے ہر موڑ پر صحیح اور غلط میں فرق کر سکیں۔ یہی آنے والی نسلوں کے تحفظ اور ایک متوازن، باوقار اور پرامن معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

Related Articles