ٹرمپ کی قانونی فتح، فحش اداکارہ پر ایک لاکھ 22 ہزار ڈالر جرمانہ

نیویارک،اپریل۔مین ہٹن میں مقدمے کی سماعت کے لیے لائے جانے کے چند گھنٹے بعد کیلیفورنیا میں امریکی عدالت برائے اپیل نے فحش اداکارہ سٹورمی ڈینیئلز کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہتک عزت کے ایک مقدمہ میں ایک لاکھ 22 ہزار ڈالر قانونی فیس ادا کرانے کا حکم دے دیا۔ اس فیصلے کو ٹرمپ کی قانونی فتح سمجھا جارہا ہے۔منگل چار اپریل کو سابق امریکی صدر ٹرمپ کو مین ہٹن کے کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس مقدمہ میں ان پر 2016 کی اپنی صدارتی مہم کے دوران فحش اداکارہ سٹوری ڈینئلز کو خاموش کرنے کے لیے اسے ادائیگی کرنے کی فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ اس فرد جرم کے عائد ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی ٹرمپ نے ایک اور مقدمہ میں سٹوری ڈینئلز کے خلاف کامیابی حاصل کرلی ہے۔نیویارک پوسٹ کے مطابق نویں سرکٹ کورٹ آف اپیل نے ڈینیئلز کو 2018 میں ٹرمپ کے خلاف دائر ہتک عزت کے ایک مقدمے جسے بعد میں خارج کردیا گیا تھا کے حوالے قانونی فیس کی مد میں ایک لاکھ 21 ہزار 972 ڈالر ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کے علاوہ ٹرمپ کو مزید 5 لاکھ ڈالر دینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔اس حوالے سے ٹرمپ نے اپنیسماجی روابط کی ویب سائٹ ’’ٹروتھ سوشل‘‘ کے اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کیا کہ نائنتھ سرکٹ کورٹ نے مجھے ابھی ایک لاکھ 22 ہزار ڈالر کا انعام دیا ہے۔
کیس کہاں سے شروع ہوا:یہ کیس اس وقت کا ہے جب ڈینیئلز نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک شخص جس کا نام اس نے نہیں بتایا تھا نے اسے اس وقت دھمکی دی اور اسے ٹرمپ کو اکیلا چھوڑنے کے لیے کہا جب اس نے 2011 میں ان ٹچ میگزین کو انٹرویو دیا تھا۔ اس انٹرویو میں ڈینیئلز نے امریکی ارب پتی ٹرمپ سے 2006 میں اپنے تعلقات کے متعلق بات چیت کی تھی۔ یاد رہے کہ میگزین نے ڈینیئلز کا یہ انٹرویو شائع نہیں کیاتھا۔2018 میں ٹرمپ نے ڈینیئلز پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ ڈینیئلز نے دھمکی دینے والے شخص کا نام نہیں بتایا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ڈینیئلز نے دھوکہ دہی کی ہے جس پر میں ڈینیئلز کے خلاف مقدمہ پر مجبور ہوگیا ہوں۔نائنتھ سرکٹ کورٹ آف اپیل نے فیصلہ دیا کہ ٹرمپ نے جو فیسیں مانگی ہیں وہ عدالتی فائلنگ کے مطابق مناسب تھیں۔
کیس خارج کر دیا گیا:کل ٹرمپ کو دی گئی قانونی فیس اس 3 لاکھ ڈالرز کے علاوہ ہے جو ڈینیئلز کو مقدمہ خارج ہونے پر ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ ڈینیئلز نے اپیل کورٹ کی جانب سے ٹرمپ کی اٹارنی فیس ادا کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھنے کے موقع پر کہا تھا کہ میں ایک پیسہ ادا کرنے سے پہلے جیل میں جانا پسند کروں گی۔

Related Articles