ایران میں ہنگامی لینڈنگ کرنے والے مسافر طیارے میں اسرائیلی خاتون فوجی بھی شامل

تل ابیب،نومبر۔اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے کہا ہے کہ ایک غیر ملکی سول طیارے میں سوار ایک اسرائیلی خاتون فوجی نے جمعرات 27 اکتوبرکو ایران میں ہنگامی لینڈنگ کی جب کہ ’یروشلم پوسٹ‘ نے اطلاع دی کہ پائلٹ ہوش کھو بیٹھا جس کے بعد عملے کو جہاز مجبورا ہنگامی طور پراتارنا پڑا۔ادرعی نے ’ٹویٹر‘ پربدھ دونومبرکو دو ٹویٹس میں وضاحت کی کہ طیارے نے ایران میں ہنگامی لینڈنگ کی کیونکہ مسافروں میں سے ایک بیمار ہو گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اسرائیلی فوجی خاندان سے واپسی کے دوران کنیکٹنگ فلائٹ پر طیارے میں اکیلیرہ گئی تھی۔اسرائیلی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ مسافروں نے ہوائی اڈے پر کئی گھنٹے گزارے۔اس کے بعد طیارہ دوبارہ اپنی پرواز پر روانہ ہوگیا۔یروشلم پوسٹ نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ طیارہ فلائی دبئی بوئنگ 737 کا تھا اور یہ ازبکستان سے دبئی جانے والی پرواز پر تھا کہ ایرانی شیراز ہوائی اڈے پر اس کی ہنگامی لینڈنگ کی گئی۔ جہاں 11 گھنٹے مسافر ایران میں ٹھہرے۔اسرائیلی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس فوجی نے اسرائیلی فوج میں اپنے اہلکاروں سے رابطہ کیا اور ان سے عبرانی زبان نہ بولنے اور صرف روسی زبان بولنے کی ہدایت کی تھی۔ تاکہ ایرانیوں کو شبہ نہ ہو،اخبار نے مزید کہا کہ ایرانی سرزمین پر قیام کے دوران خاتون فوجی سے کسی قسم کی پوچھ گچھ نہیں کی گئی اور باقی مسافروں کے ساتھ اس کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا گیا۔’یدیعوت احرونوت‘ کے مطابق فوجی کو اس واقعے کی سنگینی اور اسرائیل میں پیدا ہونے والی بے چینی کا اس وقت تک احساس نہیں تھا جب تک کہ وہ وطن واپس نہیں پہنچ گئی۔کچھ لوگوں نے اس واقعے کو اسرائیلی سیریز تہران کے آغاز سے جوڑ دیا جس کا آغاز اسرائیلی موساد کے استعمال سے ہوتا ہے تاکہ ایران میں اپنے ایک ایجنٹ کو اس ملک میں داخل کرنے کے لیے ایک شہری طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کی جا سکے۔واضح رہے کہ اسرائیلی شہری ایرانی فضائی حدود عبور کرنے کے مجاز ہیں تاہم اسرائیلی فوج کے اہلکاروں کو ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

 

Related Articles