کیا جموں وکشمیر میںبے روزگاری مسئلے کا یہی حل ہے…؟

5اگست سے قبل کی جموں وکشمیر ریاست جس کو اب یونین ٹیراٹری کا درجہ حاصل ہے، میں بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ رہا ہے جوکہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ سنگین رُخ ہی اختیار کرتا جارہا ہے۔ ہمارے ہاں معاشرے کی سوچ کچھ اِس طرح کی بن چکی ہے کہ سرکاری ملازمت رکھنے والے کو ہی عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے اور اُس کی بات بھی مقدم سمجھی جاتی ہے۔آپ کتنے تعلیم یافتہ ہوں اورکم ہی سہی مگر باعزت طریقہ سے اپنا روزگار کما رہے ہوں لیکن آپ کو معاشرے کے اندر وہ قدر ومنزلت حاصل نہ ہوگی جب تلک کہ آپ سرکاری نوکری پیشہ ہوں۔سماجی وازدواجی زندگی میں بھی اِس سوچ کا کافی خاصا عمل دخل ہے۔سماج کی اِس سوچ نے یہاں کے طلبا اور نوجوانوں کے ذہنوں پر بھی ایسے اثرات مرتب کئے کہ زمانہ طالبعلمی سے ہی اُنہوں نے من بنالیاہوتا ہے کہ ’سرکاری نوکری‘ ہی ہو، چاہئے آنگن واڑی ورکر یا مڈ ڈے میل پکانے کی ملے۔تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا یہاں کی حکومتوں کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج رہا ہے کیونکہ نجی سطح پر محدود مواقعے ہونے کی وجہ سے روزگار کا زیادہ انحصار سرکاری ملازمتوں پر ہی ہے۔جو بھی حکومت اقتدار میں آتی رہی، اُس کے سامنے ’بے روزگاری‘ایک سنگین مسئلہ ہوتا رہا اور وقتاًفوقتاً حکومتوں کی یہ کوشش رہی کہ ایسی پالیسیاں اپنائی جائیں جس سے زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو کسی نہ کسی طرح با روزگاربنایاجائے۔ اس مقصد سے مختلف محکمہ جات میں کنسالیٹیڈیٹ، کیجول، نیڈ بیسڈ، کنٹریکچول، ڈیلی ویجرز، لینڈ ڈونرز کو تعینات کیاگیا۔ رہبرِ تعلیم، رہبر ِ کھیل، رہبرِ زراعت، رہبر جنگلات کے تحت ہزاروں تقرریاں عمل میں لائی گئیں۔ڈگری وڈپلومہ ہولڈرز انجینئرز کو باروزگار بنانے اور اُن کی تکنیکی صلاحیتوں کا فائیدہ ا ُٹھانے کی غرض سے سال 2004-25کو ’سیلف ہلپ گروپ‘اسکیم متعارف کی گئی۔سال 2009-10میں شیر ِ کشمیر ایمپلائمنٹ اسکیم ، اُڑان، حمایت وغیرہ درجنوںاسکیمیں اور پروگرام متعارف کئے گئے۔ سال 2015-16کے دوران ایس آر او202متعارف کیاگیا۔اِن سبھی اسکیموں کا مقصد تعلیم یافتہ نوجوانوں کو سرکار کی طرف سے روزگار فراہم کرناتھا اور یہ گنجائش بھی رکھی گئی تھی کہ وقت گذرنے کے بعد اِن کی کارکردگی وخدمات کو دیکھتے ہوئے مستقلی بارے بھی سوچاجاسکتا ہے۔ مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار ضمانتی قانون(منریگا)کے تحت جی آر ایس، ڈاٹا آپریٹرزکی صورت میں کافی نوجوانوں کو روزگار ملالیکن سال 2018میں منتخبہ عوامی حکومت کے گرنے کے بعد اور خاص طور سے 5اگست2020کے بعد حالات یکسر تبدیل ہوگئے ہیں،لیفٹیننٹ گورنر سربراہی والی جموں وکشمیر یوٹی انتظامیہ جس کی راست ڈور مرکزی وزارت داخلہ کے ہاتھ میں ہے، نے بجائے کوئی جامع روزگار پالیسی مرتب کرنے کے متذکرہ بالا اسکیموں اور پروگراموں کے تحت جن تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار ملا تھا، اِنہیں بھی باہر کا راستہ دکھانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اب بیروکریسی کو اِن اسکیمیں اور پروگراموں میں کئی خامیاں ، کمیاں نظر آنے لگیں جنہیں صرف ’گھوٹالہ اور بے ضابطگیوں‘کا نام دیکر بجائے تصحیح اور اصلاحات کے سرے سے ہی خارج کردینے کا رویہ اپنا یاجارہاہے جس کی ایک مثال ’سیلف ہلپ گروپ‘ہے۔سابقہ پی ڈی پی۔ بی جے پی دورِ حکومت میں مختلف محکمہ جات میں عارضی بنیادوں ویومیہ اُجرت پر کام کرنے والے ملازمین جن میں ’نیڈ بیسڈ، ڈیلی ویجرز، کیجول لیبرزز، کنٹریکچول، کنسالیڈیٹیڈ، لینڈ ڈونرز‘وغیرہ شامل ہیں، کی مستقلی کیلئے پالیسی مرتب کی تھی،اُس کے تحت ریگولر آئزیشن کا جوعمل شروع کیاگیاتھا، وہ بھی مکمل طور ٹھپ کر دیاگیا ہے۔ آئے روزعارضی ملازمین صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں کہ کم سے کم اُنہیںیہ تو بتا دیاجائے کہ حکومتی سطح پر اُن کے مستقبل کو لیکر کیا موقف ہے، مگر جواب کہیں سے مل نہیں رہا۔2018کے بعد دو گورنر (این این ووہرا، ستیہ پال ملک)اور دو لیفٹیننٹ گورنر(گریش چندر مرمو اور اب منوج سنہا)جموں وکشمیر انتظامیہ کی بھاگ ڈور سنبھال چکے ہیں، اِن میں سے ستیہ پال ملک اور گریش چندر مرمو سے یہ اعلان کروائے گئے کہ ہزاروں میں نوکریاں دی جائیں گی لیکن ایسا ہوا نہیں۔ آئین ِ ہند کی دفعہ370اور35-Aکے تحت خصوصی درجے کو جموں وکشمیر کی تعمیر وترقی اور ہرمسئلے میں بڑی رکاوٹ قرار دیکر اِس کو ہٹاکر مرکزی ِ حکومت کو توقلبی تسکین ملی لیکن اِس کے ہٹنے کے بعد دودھ کی ندیاں بہنے اور تعمیر وترقی کے جوسنہرے خواب دکھائے گئے تھے، ایک سال گذرجانے کے بعد وہ کہیں نظر نہ آئے۔ اُلٹا ایسے اقدامات اور فیصلے لئے گئے کہ سماج کے ہر طبقہ جات کو ذہنی طور پریشان کر دیاگیاہے، ہرکوئی نفسیاتی طورتناؤ کا شکار ہے۔ منصوبہ بندی وفیصلہ سازی سے قبل متعلقین سے صلاح ومشورہ اور مشاورت کے عمل کو ترک کر دیاگیا ہے اور بیروکریسی سطح پر ہی دفتروں میں بیٹھ کر کاغذی کارروائی کی جارہی ہے جس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بھرپور ریاستی طاقت کا استعمال ہوتا ہے۔پچھلے چند سالوں میں جموں وکشمیر پبلک سروس کمیشن یا جموں وکشمیر سروس سلیکشن ریکروٹمنٹ بورڈ، جموں وکشمیر بینک یا اداروں کی طرف سے جوبھرتی عمل شروع کیاگیاتھا، اُس سب کو خارج کر کے جموںوکشمیر بھرتی ( خصوصی بھرتی) قواعد 2020 ء کے تحت مختلف محکموںمیں ضلع /صوبائی /یونین ٹریٹری کیڈر کے لئے اِشتہاری نوٹیفکیشن نمبر 1آف 2020 ،بتاریخ26.06.2020کے تحت مشتہر8575 درجہ چہارم اَسامیوں کی تقرری اور اکاؤنٹ اسسٹنٹوںکو ہی پبلسٹی دی جارہی ہے جنہیں جموںوکشمیر سروس سلیکشن بورڈ کے ذریعے پُر کیاجانا ہے۔ ہر دن سرکاری طور باضابطہ بلیٹن جاری کیاجاتا ہے جس میں دعویٰ کیاجاتا ہے کہ اِتنے اُمیدواروں نے فارم بھر لئے۔ اِس عمل میں بھی بارہویں سے اوپر تعلیمی قابلیت کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی جارہی۔ سال 1920 میں سابقہ جموں وکشمیر ریاست میں بھی صورتحال تھی کہ مقامی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو درجہ چہارم میں بھی بمشکل نوکری مل پاتی تھی جس کے لئے انہوں نے جدوجہد شروع کی اور مہاراجہ ہری سنگھ کو سال 1927میں ’اسٹیٹ سبجیکٹ قانون‘لانے پر قائل کیا جس کے تحت اراضی اور نوکریوں کے حقوق صرف ریاستی پشتنی باشندگان کے لئے ہی مخصوص رکھے گئے اور اِس تحریک کو شروع کرنے میں کشمیری پنڈتوں کا خاصا عمل دخل تھا اور اُنہیں کے اثر رسوخ سے مہاراجہ یہ قانون لانے پر تیار بھی ہوئے۔ ٹھیک ایک سوسال بعد آج بھی یہی صورتحال دکھائی دے رہی ہے۔ آج یہ ہوا کہ ’نوکریاں‘اور اراضی کے حاصل حقوق ختم ہوکر پھر سے درجہ چہارم نوکری کے لئے جدوجہد کرنا پڑرہی ہے۔حکومت کی کسی بھی پالیسی اور پروگرام میں خامیاں ہوسکتی ہیں اور تصحیح واصلاحکات کی گنجائش رہتی ہے مگر اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اِن کو سرے سے خارج کر دیاجائے۔ حکومت مختلف اسکیموں وپروگراموں کے تحت کام کررہے ملازمین یا تعلیم یافتہ نوجوانوں کو باہر کا راستہ دکھا کراگر یہ سوچتی ہے کہ کچھ بہتر ہوگا تویہ احمقانہ ہے۔حکومت بے روزگاری کے سنگین مسئلہ سے جوجھ رہی جموں وکشمیر یوٹی میں ایسی غلطی کی متحمل نہیںہوسکتی۔جموں وکشمیر یوٹی کے حالات یکسر مختلف ہیں، اس لئے یوٹی انتظامیہ کو بے روزگاری کے معاملہ کو انتہائی سنجیدگی سے لینا ہوگا کیونکہ اگر وقت رہتے اس سے نپٹا نہ گیا تو یہی کئی مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔آج ہر ذی عقل اور تعلیم یافتہ نوجوان کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ کیا لیفٹیننٹ گورنر سربراہی والی موجودہ حکومت تمام سابقہ روزگار پالیسیوں اور پروگراموں کو غلط ٹھہرا کر صرف کلاس فورتھ ریکروٹمنٹ سے بے روزگاری مسلے پر قابوپالے گی، یا یہی بے روزگاری کا سدباب ہے؟
٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ:کالم نویس پیشہ سے صحافی اور وکیل ہیں۔
altafhussainjanjua120@gmail.com

Advertisement
Advertisement

Related Articles