اسرائیلی جو بائیڈن کے دورہ مشرق وسطیٰ کے بارے میں غیر معمولی پرجوش

یروشلم،جولائی۔امریکی صدر جو بائیڈن ایک تبدیل شدہ مشرق وسطیٰ کے دورے پر آ رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہونے والے معاہدہ ابراہم نے مشرق وسطیٰ کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس لیے جوبائیڈن نے صدر اوباما کے ساتھ نائب صدر ہوتے ہوئے جو مشرق وسطی دیکھا وہ اس سے مختلف ہو چکے علاقے میں آ رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار معروف اسرائیلی خاتون سیاستدان، یروشلم کی ڈپٹی مئیر اور امارات اسرائیلی بزنس کونسل کی شریک بانی رکن فلور حسن ناحوم نے العربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔اسرائیلی سیاستدان نے کہا: مشرق وسطیٰ میں اب ایک بدلا ہوا اور نیا ماحول ہے۔ اس نئے ماحول میں ہم امریکی صدر جو بائیڈن کے دورے کے بارے میں بہت پرجوش ہیں۔ جو بائیڈن نے بطور نائب صر امریکہ جس مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا تھا اب یہ وہ والا خطہ نہیں رہا ہے۔ واضح رہے جو بائیڈن 13 سے 15 جولائی کے دوران اسرائیل اور اس کے بعد مغربی کنارے میں فلسطینی ہیڈ کوارٹر ز کا دورہ کریں گے۔ جہاں ان کی اسرائیلی وزییر اعظم یائر لیپڈ اور فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں ہوں گی۔ بعد ازاں وہ 15 جولائی کو سعودی عرب کے دو روزہ دورے پر سعودی عرب جائیں گے۔ جہاں ان کی سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقاتیں ہوں گی۔ وہ سولہ جولائی 2022 کو سعودی دورہ مکمل کر کے واپس چلے جائیں گے۔فلور حسن ناحوم نے ایک سوال کے جواب میں العربیہ سے کہا جہاں تک میں نے امریکی انتظامیہ کے اسرائیل میں وفد کے ساتھ کام کیا ہے میں جانتی ہوں کہ امریکہ معاہدہ ابراہم کے حوالے سے مزید پیش رفت کے لیے بہت دلچسپی رکھتا ہے۔ ہم بھی تمام سطحوں پر اس حوالے سے کام کر رہے ہیں تاکہ معاہدہ ابراہم پر پیش رفت جاری رہے۔ یہ اسی کام کا نتیجہ ہے کہ مشرق وسطی آج اس بدلے ہوئے ماحول کا اظہار کر رہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا سعودی عرب اور اسرائیل کے وسیع ترتناظر میں ہم بہت پر جوش ہیں کہ امریکہ مشترکہ دلچسپی کے امور اور مشترکہ مفادات پر بات کرے گا اور ان معاملات کا نگران بھی رہے گا۔جب سے جو بائیڈن نے صدارت سنبھالی ہے امریکی انتظامیہ مسلسل معاہدہ ابراہم کے حوالے سے پیش رفت کو مضبوط کر رہی ہے۔ اگرچہ یہ وہ امریکی انتظامیہ نہیں جس نے معاہدہ ابراہم کرایا تھا بلکہ یہ ایک مختلف انتظامیہ ہے۔ جو بائیڈن انتظامیہ پوری طرح معاہدہ ابراہم کی پیش رفت کے حوالے سے آن بورڈ ہے۔امارات اسرائیل بزنس کونسل کی اسرائیلی بانی رکن نے کہا ہم یروشلم میں کثیرالجہتی انداز میں یہودیوں اور عربوں کے درمیان تجارتی اور ثقافتی معاہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ ہر شعبے میں کاروباری مواقع پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں۔بحرین اور امارات کے ساتھ اسرائیلی تعلقات کے نار مل ہو جانے کے بعد مراکش بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں کیے گئے ایک اور معاہدے کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کی طرف مائل ہے۔ اسرائیل بڑا پر امید ہے کہ مشرق وسطیٰ کے کئی دوسرے ممالک کے ساتھ بھی معاہدہ ابرہام میں شمولیت کے لیے بات چیت جاری رہے گی۔ تا ہم ہماری کوشش ہے کہ معاہدہ ابراہم میں دیگر ممالک کو شامل کرنے سے پہلے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے درمیان تعلقات میں گہرائی اور پختگی لائیں۔اسرائیلی خاتون سیاستدان نے مزید کہا معاہدہ ابراہم سے خطے کے ان ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے جن کے ساتھ اسرائیل کے پہلے سے تعلقات قائم ہو چکے ہیں۔ جیسا کہ اردن اور مصر کے ساتھ اسرائیلی تجارت حالیہ برسوں کے دوران دوگنا سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ اسرائیل معاہدہ ابراہم کا شکر گزار ہے کہ اس کی وجہ سے پورے علاقے میں ایک نیا، مثبت اور بدلا ہوا ماحول بنا ہے۔ اب صرف اسرائیل کے ساتھ خطے کے ملکوں کے تجارتی تعلقات نہیں بڑھے ہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی تعلقات کا قیام میں عمل میں آیا ہے۔ فلور حسن ناحوم نے کہا ہمیں امید ہے کہ جو بائیڈن کے دورے کے علاوہ بھی امریکی انتظامیہ اس سلسلہ تبدیلی کو جاری رکھے گی اور معاہدہ ابراہم کا بیانیہ ان ممالک تک بھی پھیلے گا جو اب تک اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔

Related Articles