تلنگانہ: سری سیلم پروجیکٹ کے زیرزمین ہائیڈل پاور پروجیکٹ میں بڑے پیمانہ پر آگ

تلنگانہ: سری سیلم پروجیکٹ کے زیرزمین ہائیڈل پاور پروجیکٹ میں بڑے پیمانہ پر آگ

حیدرآباد:تلنگانہ کے ناگرکرنول ضلع کے سری سیلم پروجیکٹ کے زیرزمین ہائیڈل پاور پروجیکٹ میں بڑے پیمانہ پر آگ بھڑک اٹھی۔محکمہ آتش فرو کے عہدیداروں کے مطابق لفٹ پاور بینک ہوز کے پاور پینلس میں سے ایک میں لگی اس آگ میں تقریبا7ملازمین بشمول انجینئرس پھنس گئے۔ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ شارٹ سرکٹ آگ لگنے کی وجہ ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پلانٹ میں جمعرات کی رات زبردست آگ بھڑک اٹھی اور زوردار دھماکے کے بعد آگ چاروں طرف پھیل گئی جس کے نتیجہ میں پلانٹ کے 6 یونٹ میں دھواں پھیل گیا۔ ڈی ای پون کمار نے بتایا کہ پلانٹ میں پھنسنے والے 9 ملازمین میں حیدرآباد کی عظمی فاطمہ بھی شامل ہیں جو اسسٹنٹ انجینئر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔اطلاع ملتے ہی فائربریگیڈس وہاں پہنچے اور بچاو کارروائی شروع کی۔وزیربجلی جگدیش ریڈی اور تلنگانہ جینکو کے صدرنشین و منیجنگ ڈائرکٹر ڈی پربھاکر جو وہاں پہنچے نے راحت کاموں کی نگرانی کی۔اس واقعہ کے بعد بجلی کی پیداوار روک دی گئی۔سری سیلم ڈیم دریائے کرشنا پر ہے جو تلنگانہ اور اے پی کی سرحد پر واقع ہے۔اسی دوران وزیراعلی کے چندرشیکھرراو نے اس واقعہ پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔وزیراعلی معمول کی بنیاد پر اس واقعہ کی معلومات حاصل کررہے ہیں۔مسٹر راو نے ہدایت دی کہ پھنسے ہوئے تمام افراد کو محفوظ طورپر نکالا جائے۔انہوں نے وزیر جگدیش ریڈی اور پربھاکرریڈی سے بھی بات کی جو پلانٹ کے مقام پر موجود ہیں اور راحت کاموں کا جائزہ لے رہے ہیں۔اپنے ریلیز میں مملکتی وزیر داخلہ کشن ریڈی نے کہا کہ ان کو اس واقعہ پر کافی دکھ ہوا۔انہوں نے این ڈی آرایف کے اہلکاروں سے بات کی اور ان کو ہدایت دی کہ وہ فوری طورپر راحت کام کریں۔دریں اثنا اے پی کے وزیراعلی وائی ایس جگن موہن ریڈی نے بھی اس واقعہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت،تلنگانہ کے عہدیداروں کوہر قسم کی مدد کرنے کے لئے تیار ہے۔اسی دوران اس واقعہ کے سبب وزیراعلی کے سری سیلم پروجیکٹ کے دورہ کو ملتوی کردیاگیا۔

 

Advertisement

Related Articles