تہران، پرویز تناولی کے مجسمے کا چار کروڑ تومان مالیت کا جوتا چوری

تہران ،اپریل۔ تہران کے شفق پارک میں معروف مجسمہ ساز پرویز تناولی کے مجسمے کے چوری ہونے والے جوتے کی قیمت کم از کم چار کروڑ تومان (یا ایک لاکھ 76 ہزار پاکستانی روپے) تھی۔’تناوولی‘ میوزیم کی انتظامیہ نے بدھ کو اعلان کیا کہ کانسی کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے اس مجسمے کی تزئین و آرائش کی لاگت کا تخمینہ چار کروڑ تومان لگایا گیا ہے۔یہ مجسمہ 1966 میں نصب کیا گیا تھا۔ میوزیم کے مطابق اس مجسمے کی بحالی کے اخراجات تہران کی میونسپلٹی برداشت کرتی ہے۔پرویز تناولی (1937) ایران کے علاقے سقاخانہ اسکول آف آرٹ کی ایک مجسمہ ساز اور سرکردہ شخصیت ہیں، جو 1960 کی دہائی میں ایران کی سب سے زیادہ بااثر تحریک تھی۔31 مارچ 2014 کو اس مجسمے کے جوتے کے چوری ہونے کی خبر سامنے آئی اور تہران میونسپلٹی نے اسی وقت اعلان کیا کہ وہ اس کی بحالی کا کام جاری رکھے گی۔پرویز تناولی ان مشہور ایرانی مجسمہ سازوں اور مصوروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنے فن پاروں کی ایک بڑی تعداد عجائب گھروں کو عطیہ کی ہے۔’تقدیس‘ کا مجسمہ اس مصور کی تخلیقات میں سے ایک ہے، جس کے کچھ حصے اصفہان میں کئی بار چوری ہو چکے ہیں۔’فرہاد کوہکان‘ کے مجموعے میں میسی کی چار راحتیں شامل ہیں جو تناولی نے اصفہان کے لوگوں کو دی تھیں۔ ان چاروں میں سے ایک کئی سال سے گم ہے اور اس کی تلاش فائدہ مند ثابت نہیں ہوئی ہے۔ برسوں میں بڑھتی ہوئی عوامی غربت یا پس پردہ کچھ مذہبی دباؤ کی وجہ سے پارکوں اور ثقافتی کمپلیکس میں مجسموں کی چوری یا گمشدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔2010 میں ستار خان اور باقر خان کے مجسمے، شریعتی کے دو مجسمے ابن سینا کا مجسمہ اور کئی دیگر تاریخی شخصیات کے مجسمے جو تہران کے مختلف علاقوں میں نصب تھے، غائب ہو گئے اور یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کا کیا ہوا۔اس سال تہران کے مختلف حصوں سے کم از کم 12 مجسمے غائب ہوئے، جن میں سے ہر ایک کا وزن 70 سے 700 کلوگرام کے درمیان تھا۔

 

تہران، پرویز تناولی کے مجسمے کا چار کروڑ تومان مالیت کا جوتا چوری
تہران ،اپریل۔ تہران کے شفق پارک میں معروف مجسمہ ساز پرویز تناولی کے مجسمے کے چوری ہونے والے جوتے کی قیمت کم از کم چار کروڑ تومان (یا ایک لاکھ 76 ہزار پاکستانی روپے) تھی۔’تناوولی‘ میوزیم کی انتظامیہ نے بدھ کو اعلان کیا کہ کانسی کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے اس مجسمے کی تزئین و آرائش کی لاگت کا تخمینہ چار کروڑ تومان لگایا گیا ہے۔یہ مجسمہ 1966 میں نصب کیا گیا تھا۔ میوزیم کے مطابق اس مجسمے کی بحالی کے اخراجات تہران کی میونسپلٹی برداشت کرتی ہے۔پرویز تناولی (1937) ایران کے علاقے سقاخانہ اسکول آف آرٹ کی ایک مجسمہ ساز اور سرکردہ شخصیت ہیں، جو 1960 کی دہائی میں ایران کی سب سے زیادہ بااثر تحریک تھی۔31 مارچ 2014 کو اس مجسمے کے جوتے کے چوری ہونے کی خبر سامنے آئی اور تہران میونسپلٹی نے اسی وقت اعلان کیا کہ وہ اس کی بحالی کا کام جاری رکھے گی۔پرویز تناولی ان مشہور ایرانی مجسمہ سازوں اور مصوروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنے فن پاروں کی ایک بڑی تعداد عجائب گھروں کو عطیہ کی ہے۔’تقدیس‘ کا مجسمہ اس مصور کی تخلیقات میں سے ایک ہے، جس کے کچھ حصے اصفہان میں کئی بار چوری ہو چکے ہیں۔’فرہاد کوہکان‘ کے مجموعے میں میسی کی چار راحتیں شامل ہیں جو تناولی نے اصفہان کے لوگوں کو دی تھیں۔ ان چاروں میں سے ایک کئی سال سے گم ہے اور اس کی تلاش فائدہ مند ثابت نہیں ہوئی ہے۔ برسوں میں بڑھتی ہوئی عوامی غربت یا پس پردہ کچھ مذہبی دباؤ کی وجہ سے پارکوں اور ثقافتی کمپلیکس میں مجسموں کی چوری یا گمشدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔2010 میں ستار خان اور باقر خان کے مجسمے، شریعتی کے دو مجسمے ابن سینا کا مجسمہ اور کئی دیگر تاریخی شخصیات کے مجسمے جو تہران کے مختلف علاقوں میں نصب تھے، غائب ہو گئے اور یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کا کیا ہوا۔اس سال تہران کے مختلف حصوں سے کم از کم 12 مجسمے غائب ہوئے، جن میں سے ہر ایک کا وزن 70 سے 700 کلوگرام کے درمیان تھا۔

Related Articles