روس کا یوکرین پر حملہ: جنگ کے چوتھے دن روسی فوجیں کہاں تک پہنچیں؟

کیف،فروری۔تاریخ بتاتی ہے کہ جنگ شروع کرنا اسے ختم کرنے سے کہیں زیادہ آسان ہوتا ہے۔اگر آپ امریکہ کی سربراہی میں افغانستان پر سنہ 2001 اور عراق پر سنہ 2003 میں ہونے والے حملے کو دیکھیں تو یہ یقیناً بالکل درست بات ہے۔ور شاید صدر پوتن کے لیے یوکرین میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ایک پرانی کہاوت ہے کہ فوجی منصوبے دشمن کے پہلے رابطے میں قائم نہیں رہتے۔ یہ بالکل یوکرین میں روسی افواج کے لیے درست معلوم ہوتا ہے۔یورپین سکیورٹی کے ماہر ایڈ آرنلڈ جو کہ رائل یونائیڈ سروس انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہیں نے روس کے ابتدائی حملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت کم پراثر اور توقع کی نسبت سست تھا۔وہ اس کی بہت سی وجوہات بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قبضے کے لیے ملٹری ڈاکٹرائن عموماً یہ ہوتی ہے کہ بہت بڑی فورس کے ساتھ جایا جائے۔ اگرچہ روس نے سرحد پر ڈیڑھ لاکھ سے ایک لاکھ نوے ہزار تک فوج لائی ہے لیکن اب تک اس نے اس سب کو استعمال نہیں کیا۔شاید روس کو ان کی حملے کے بعد کے مراحل میں ضرورت پڑے اور فوجوں کے لیے یہ نارمل بات ہوتی ہے کہ وہ اپنے پلان کے مطابق ریزرو فوج رکھے۔مغربی حکام کا اندازہ ہے کہ ابتدائی حملے میں اس میں سے نصف افواج نے حصہ لیا جنھیں اکھٹا کیا گیا تھا۔ ابتدائی حملہ مختلف سمتوں کی جانب سے حملوں کے بعد مزید پیچیدہ ہو گیا۔روس نے اپنی آرٹلری اور فضائی حملوں کو اس طرح شدت سے استعمال نہیں کیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ مگر آرنلڈ کہتے ہیں کہ ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ وہ یوکرین میں بہت سخت مزاحمت کا سامنا کر رہے ہیں اور میرا نہیں خیال کہ انھیں اس کی توقع تھی۔جنرل سر رچرڈ بیرنز برطانوی فوجی کمانڈر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ روسی بہت جلد ہی اپنے فوجی اہداف حاصل کرنے والے ہیں۔جنرل بیرنز کہتے ہیں کہ یہ بالکل واضح ہے کہ روس کا ابتدائی مقصد یہ ہے کہ وہ یوکرینی فوج کو توڑ دیں، مرکزی حکومت کو نکال دیں۔ان میں سے کچھ اہداف تو بظاہر روس نے پورے کر لیے ہیں۔ اس نے جنوب میں پیش قدمی کی ہے۔ اب روس نے کریمیا سے یوکرین تک زمینی پل بنا لیا ہے جس سے انھوں نے سنہ 2014 میں حملہ کیا تھا۔ایڈ آرنلڈ کا کہنا ہے کہ یہ ان کا چھوٹا سا مقصد ہے مگر یہاں سے وہ ان اپنے ملک کا دفاع کرنے والی یوکرینی فوجوں کو مشرق سے گھیر سکتے ہیں۔کچھ سب سے زیادہ تجربہ کار یوکرینی فوجی سرحد پر کھڑے ہیں جہاں وہ پچھلے آٹھ برسوں سے ان علیحدگی پسندوں سے لڑ رہے ہیں جنھیں روس کی حمایت حاصل ہے۔اب تک بظاہر انھوں نے روسی کی جانب سے متنازع علاقوں دونیتسک اور لوہانسک سے رابطوں کو توڑنے کی کوششوں کے سامنے بہادری سے لڑائی کی ہے۔ لیکن اگر وہ گھیرے میں آ جائیں گے تو یہ ان کے لیے بہت مشکل ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ یوکرینی فوج کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی جنگ میں مصروف ہے اور اس کی پوزیشن تبدیل کرنا مشکل ہو گا۔روس نے کیئو میں اہم پیش رفت کی ہے۔ دارالحکومت پر قبضہ کر لینا دوسرا اہم مقصد ہے کیونکہ یہ حکومت کا مرکز ہے اور یہ مزاحمت کی قیادت کر رہا ہے۔صدر پوتن چاہتے ہیں کہ صدر ولادیمیر زیلینسکی جو کہ جمہوری طور پر منتخب حکمران ہیں، ان کی جگہ کوئی اور آ جائے۔ایڈ آرنلڈ جو رائل یونائیڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ہیں کا کہنا ہے کہ کیئو کا قبضہ روسی مقاصد کو پورا نہیں کرتا۔اب سوال یہ ہے کہ یہ کس قدر سہل ہوگا؟ روسی فوجیں بظاہر یہ کوشش کر رہی ہیں کہ وہ شہر کو گھیرے میں لے لیں۔ لیکن وہ شاید جتنا زیادہ شہر کے اندر جائیں گے انھیں اتنی ہی سخت مزاحمت دیکھنے کو ملے گی۔شہری جنگ اکثر دفاع کرنے والوں کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔ حملہ کرنے والی فوجوں کے لیے یہ مشکل ہوتا ہے کہ وہ گلی گلی جنگ کی جائیں جہاں عمارتیں دفاعی پوزیشن میں ہوتی ہیں۔شہری بھی مزاحمت اور ممکنہ ٹارگٹس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ شہری علاقوں میں پیش قدمی کرنے والی فوج کے لیے مشکل ترین اور خونریز ہوتی ہے اور انھیں زیادہ فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔یوکرین کے مشرق اور مغرب کے درمیان دریائے نیپر ایک قدرتی آڑ ہے۔ایڈ ایرنالڈ تجویز دیتے ہیں کہ اگر وہ کیئو اور باقی ملک پر قبضہ کر سکے تو شاید ان کو مزید مغرب میں جانے کا تھوڑا سا فائدہ ہو۔صدر پوتن کو شاید یہ امید ہو کہ ان کی فوجیں جب وفاق کو فتح کر لیں گی اور یوکرینی فوج کو شکست دے دیں گی تو مزاحمت کو بھی کچل دیا جائے گا۔شاید ایک لاکھ نوے ہزار فوجی دستے قبضہ کرنے کے لیے کافی ہوں۔دفاعی ماہرین کو شک ہے کہ کیا اتنی تعداد یورپ کے دوسرے بڑے ملک کو حاصل کرنے کے لیے کافی ہو گی۔یوکرین فرانس سے بڑا ہے۔ جنرل بیرنز جو کہ عراق میں برطانوی فوج کے کمانڈر رہے چکے ہیں کا کہنا ہے کہ اگر پوتن کا ارادہ ہے کہ وہ پورے یوکرین پر ڈیڑھ لاکھ فوج کے ساتھ حملہ کریں گے تو وہ ممکنہ طور پر تب ہی ہوسکے گا جب وہ وہاں کی آبادی کی رضامندی سے ہو گا۔وہ کہتے ہیں کہ آبادی میں ایسا حصہ ہے جو کہ روس کے مشرق سے جڑا ہوا ہے۔ یہاں کوئی بھی روسی حکومت چار کروڑ آبادی کی حمایت سے حکمرانی کی کوشش کرے گی۔جنرل بیرونز کا خیال ہے کہ اگرچہ روس کی فوجیں بلآخر یوکرین کو شکست دینے کے لیے کھڑی ہیں اور اس کی جگہ بہت ہی شدید بغاوت لے سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر پوتن کی جانب سے کسی قسم کی توقع کہ وہ پورے ملک کو کنٹرول کر سکتے ہیں، بہت غلط اندازا ہو گا۔

 

Related Articles