بولٹن میں کلین ایئرزون کامسئلہ

بولٹن کی ڈائری۔۔۔ ابرار حسین

بولٹن میں کلین ائر زون کا مسئلہ ابھی تک حل طلب ہے اور اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے بھی بولٹن میں ڈرائیورز نے ہڑتال کی۔ مقامی میڈیا کے مطابق کلین ائر زون کی پالیسیوں کے خلاف بولٹن ٹاؤن سینٹر میں ٹیکسی ڈرائیورز کا یہ دوسرا بڑا احتجاجی مظاہرہ تھا، ٹیکسی ڈرائیورز نے کونسل کے خلاف بولٹن ٹاؤن سینٹر میں اپنا احتجاج ریکار ڈ کرایا، یہ مظاہرہ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا،مظاہرین کے منتشر ہوتے ہی پولیس کی گاڑی اور کونسل کی گاڑی آگئی تاہم مظاہرہ پرامن رہا، ٹیکسی ڈرائیورز مارکیٹ سے لی مینس کریسنٹ کے گرد چکر لگاتے ہوئے گزرے، یہ احتجاج پچھلی بار کے مقابلے میں بڑا تھا جس کی وجہ سے بلیک ہارس اسٹریٹ اور لی مینس کریسنٹ پر گہما گہمی رہی،ٹیکسی ڈرائیور ز کے احتجاجی مظاہرے CAZ کلین ائر زون کی تجاویز کی مخالفت میں کئے جارہے ہیں،یہ احتجاج بھی بولٹن ٹاؤن سینٹر میں ایک گوسلؤپالیسی کے تحت کیا جس سے ٹاون سنٹر کے اندر جانے اور آنے والی ٹریفک متاثر ہوئی، ہونے والے دوسرے احتجاج کا مطلب یہ تھا کہ ٹیکسیاں صبح 11 بجے سے ایک بجے تک نہیں چلیں گی، ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ ان کی بنیادی پریشانی روزانہ CAZ چارجز پر ہے جو انہیں ادا کرنا ہوں گے اور یہ کہ ٹیکسی کو ذاتی گاڑی کے طور پر بھی استعمال کرنے کی وجہ سے، اگر وہ کام نہیں کررہے ہیں تو بھی انہیں یہ چارجز ادا کرنا پڑیں گے جو نکتہ بار بار سننے میں آیا وہ یہ تھا کہ ٹیکسی پیشے سے تعلق رکھنے والوں پر عائد ہونے والے چارجز کو عوام کو منتقل کر دیا جائے گا۔ بولٹن میں 25 سال سے ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کرنے والے ایک شخص کا کہنا تھا کہ وہ یہ پیغام براہ راست عوام تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ کلین ائر زون چارجز تجارت کے لیے ہیں بلکہ یہ براہ راست عوام کو متاثر کریں گے ، اگر ہم کسی وقت اپنی گاڑی بدلتے ہیں تو اس کا ہم پر کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن جب ہم نئی گاڑی خریدتے ہیں تو ظاہر ہے کہ اس کا اثر مسافروں پر جاتا ہے، آج آپ 5 پاؤنڈ ادا کر رہے ہیں، کل آپ کو 10 پاؤنڈ ادا کرنا پڑیں گے،اس مظاہرے میں تقریباً 100 گاڑیاں موجود تھیں، شاید اس سے زیادہ ٹاؤن ہال کے باہر پیدل لوگ موجود تھیجو احتجاج کر رہے تھے، اس سے ایک ہفتہ پہلے بھی ہڑتال کی جاچکی ہے،بولٹن کی رکن پارلیمنٹ یاسمین قریشی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کلین ائر زون سے لوگوں کو مشکلات میں نہیں ڈالنا چاہئے، انہوں نے مذید کہا کہ متنازع کلین ائر زون کے منصوبوں کو عوام کے سر پر ڈالنے کی ہر گز اجازت نہیں دی جا سکتی جس پر حکومت کو اپنی پالیسی پر تبدیلی لانا ہوگی، کوویڈ 19کے باعث عوام پہلیہی شدید قسم کی پریشانیوں کا شکار ہیں، ایسی صورتحال میں وہ اپنے سر پر ایک نیا بوجھ برداشت نہیں کرسکیں گے ، یہ منصوبے دراصل ٹیکسی ڈرائیورز، تاجروں اور دیگر گاڑیوں کے مالکان کیلئے اضافی چارج ادا کرنے کے لیے بنائے جائیں گے جب تک ان کی گاڑیوں کو اَپ گریڈ کرنے کی گرانٹ نہ ملے، پہلے ہی احتجاج کی فضا کو بھڑکایا جا چکا ہے، اب بولٹن ساؤتھ ایسٹ کی ایم پی یاسمین قریشی نے اپنا نام پارلیمنٹ کے 15 ممبران کے دستخط شدہ ایک خط میں شامل کیا ہے جس میں سیکرٹری ماحولیات جارج یوسٹیس کو مخاطب کیا گیا ہے جس میں ان تجاویز میں تبدیلیوں پر زور دیا گیا ہے، دوسری طرف مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم نے اس معاملے پر سٹی ریجن کی تجاویز پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خط حکومت پر حملہ کرنے کی کوشش نہیں ہے لیکن ہمارے حلقوں اور ان کے ذریعہ معاش کو صاف فضائی زون میں منتقلی کا انتظام کرنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے، ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہوا کے معیار پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہم سنجیدگی سے یہ توقع نہیں کر سکتے کہ ہمارے حلقے کسی مشکل کا شکار نہ ہوں کیونکہ حکومت یہ تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے کہ اسے اس عمل کی حمایت کرنی چاہئے، گزشتہ ہفتے مسٹر برنہم کی بڑے پیمانے پر مخالفت کا سامنا کرنے کے بعد اسکیم کو حکومت کو واپس بھیجنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے، پیر کے روز ٹیکسی ڈرائیورز نے کلین ائر زون کے خلاف احتجاج کرنے والے 100 سے زائد گاڑیوں پر مشتمل ایک مظاہرے کے ساتھ بولٹن ٹاؤن سینٹر کو دوسری بار بند کیا۔ بولٹن کونسل نے کلین ائر زون کو معطل کرنے کی کالز کی ہیں لیکن صرف قومی حکومت کے پاس اس اسکیم کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اختیار ہے۔ ممبران پارلیمنٹ کے خط میں کہا گیا ہے کہ جولائی 2021 میں جب سے اس منصوبے پر اتفاق ہوا تھا، شواہد بتاتے ہیں کہ مہنگائی اور سپلائی کے مسائل کی وجہ سے گاڑی کو اَپ گریڈ کرنے کی لاگت میں 60 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے افراد اور کاروباری اداروں کی اپنی گاڑیوں کو اَپ گریڈ کرنے کی صلاحیت پر اثر پڑے گا۔ ائر کوالٹی ایڈمنسٹریشن کمیٹی کی میٹنگ کے بعد جی ایم کلین ائر چارجنگ اتھارٹیز کمیٹی کی میٹنگ سے پہلے GM ائر پلان (GM CAP) کی تازہ ترین صورتحال کے ساتھ ای میل کی گئی ہے جس میں سب سے پہلے ان خدشات کو بیان کیا گیا ہے اور یہ یقین دلایا گیا ہے کہ ہم کلین ائر پلان کے ساتھ ہونے والی پیش رفت اور متاثرہ ڈرائیورز،آپریٹرز پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بروقت اَپ ڈیٹ فراہم کرنے کے لیے اس سارے عمل کے ساتھ کام کرنے اور تجارت کے ساتھ منسلک رہنے کے لیے پْرعزم ہیں، سپلائی شواہد کا جائزہ لینے کے لیے فنڈنگ کو روک دیں، جی ایم ائر کوالٹی ایڈمنسٹریشن کمیٹی نے سیکرٹری آف سٹیٹ کو خط لکھنے پر اتفاق کیا ہے جس میں اس ماہ کے آخر میں کلین ائر فنڈز کے اگلے مرحلے کے افتتاح کو روکنے کے معاہدے کی درخواست کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ حکومت کے ساتھ ایک فوری اور بنیادی مشترکہ پالیسی کا جائزہ لیا جا سکے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس طرح ترمیم شدہ سپلائی کے مسائل اور مقامی کاروباری اداروں کی GM CAP کی تعمیل کرنے کی صلاحیت سے نمٹنے کے لیے پالیسی پر اتفاق کیا جا سکتا ہے۔ ممبران نے یہ بھی درخواست کی کہ جن گاڑیوں کے مالکان نے پہلے ہی جنوری کے آخر میں فنڈنگ کھولنے کے لیے زیر التوا آرڈرز دے رکھے ہیں وہ کلین ائر کے جی ایم سے مشورہ کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ فنڈز کھولنے کو روکنے کے فیصلے سے نقصان دہ طور پر متاثر نہیں ہوئے ہیں اور یہ کہ جہاں مناسب ہو ایوارڈ دیا جا سکتا ہے۔ اراکین نے یہ بھی درخواست کی کہ جائزہ جی ایم لائسنس یافتہ ہیکنی اور پرائیویٹ ہائر مالکان کے لیے گاڑی کی موجودہ ملکیت کے تقاضوں میں ترمیم کرنے پر غور کرے جب کسی گاڑی کو لائسنس کی ضروریات کی وجہ سے اَپ گریڈ کیا گیا ہو تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ فنڈز کھولنے کو روکنے کے فیصلے سے نقصان دہ طور پر متاثر نہ ہوں۔ تاہم GM ابھی بھی حکومت کی طرف سے ایک قانونی ہدایت کے تحت ہے تاکہ کم سے کم وقت میں اور 2024 تک نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی قانونی حدیں حاصل کی جائیں۔ لہٰذا کمیٹی نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ کلین ائر زون کا پہلا مرحلہ 30 مئی 2022 کو متعارف کرایا جائے گا، غیر تعمیل شدہ بسوں، کوچوں، HGVs اور ٹیکسی اور نجی کرایہ پر لینے والی گاڑیوں کے لیے درخواست دینا جو جی ایم میں لائسنس یافتہ نہیں ہیں۔ دریں اثنا، جی ایم کلین ائر چارجنگ اتھارٹیز کمیٹی اس تجویز پر غور کرے گی کہ غیر تعمیل نہ کرنے والی جی ایم لائسنس یافتہ ٹیکسیوں اور پی ایچ وی کے لیے استثنیٰ کی اہلیت کی تاریخ میں ترمیم کی جائے گی، اس تجویز کے ساتھ کہ وہ تمام گاڑیاں جو 26 جنوری کو یا اس سے پہلے لائسنس یافتہ ہیں، 2022 کو 1 جون 2023 تک عارضی چھوٹ کا فائدہ ہوگا،جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے، ہم اَپ ڈیٹس فراہم کرنا جاری رکھیں گے اور مزید تفصیلات کے لیے cleanairgm.com ویب سائٹ اور تازہ ترین پریس ریلیز یہاں دیکھیں، ساتھ ہی لائسنسنگ کا تنازع بھی جو کھڑا کر دیا گیا ہے، اس پر بھی کمیونٹی میں سخت تحفظات پائے جاتے ہیں۔ خیال رہے کہ بولٹن میں کم از کم لائسنسنگ کیمعیار کے مطابق گاڑیوں کی عمر کے اصول کا مقصد بھی بولٹن ٹیکسی ڈرائیورز کے لیے سر درد اور مالی نقصان کا باعث بن سکتا ہے، اس منصوبہ کے ناقدین کا دعویٰ ہے کہ لائسنسنگ کے کم از کم معیار کے منصوبوں کا مطلب ٹیکسی ڈرائیورز کے لیے ناقابل برداشت حد تک مالی نقصان ہوگا کہ جنہوں نے پرانی گاڑیوں پر زیادہ رقم خرچ کی ہے، بولٹن بارو کے لیے گریٹر مانچسٹر کے وسیع قوانین کے نفاذ کا مطلب یہ ہوگا کہ ٹیکسی گاڑیاں پہلی رجسٹریشن پر پانچ سال سے کم پرانی ہوں گی اور 10سال کے کم عرصے سے سڑک پر ہوں گی تب ہی چارجز سے بچا جا سکے گا تاہم ابھی مزید مشاورت کے لیے فیصلہ 7 فروری تک موخر کر دیا گیا ہے لیکن اس تجویز کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے پرانی کاروں کے ڈرائیورز کو جرمانہ کیا جا سکتا ہے جنہوں نے اپنی گاڑیوں کو اگرچہ اعلیٰ معیار پر برقرار رکھا ہے جب کہ نئی کاروں کے لیے کوئی جرمانہ نہیں ہوگا، چاہے جن کی اچھی طرح دیکھ بھال نہ بھی کی گئی ہو جو کہ تعجب انگیز بات ہے جس پر بولٹن لیبر گروپ لیڈر کونسلر نک پیل نے بجا طور پر کہا ہے کہ ایک حقیقی مالی نقصان کا امکان ہے جس کے بارے میں ٹیکسی ڈرائیورز کو تشویش لاحق ہے ،تاہم بولٹن کونسل کے لیڈر مارٹن کاکس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس دوران ان خدشات کو دور کرنے کی کوشش کرنے کے لیے بارو میں ٹیکسی پیشہ سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ مزید بات چیت ہوگی ، قارئین کرام، مختصر طور یہی کہا جا سکتا ہے کہ نارتھ ویسٹ میں ٹیکسی سے متعلق معاملات دن بدن مشکل بنائے جارہے ہیں جس کے باعث پچھلے دنوں بولٹن پرائیوٹ ہائر ایسوسی ایشن کے ٹیکسی ڈرائیورز نے بولٹن کونسل کی جانب سے کلین ائرزون چارجز کے خلاف ایک پرامن ریلی بھی نکالی تھی جس میں سخت سردی اور بارش کے باوجود ایک قابل ذکر تعداد میں متاثرین ٹیکسی ڈرائیورز نے شمولیت اختیار کی تھی اور تقریباً چار گھنٹے تک اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور اب پچھلے ہفتے پھر احتجاج کیا ہے، اس پس منظر میں ہم سمجھتے ہیں کہ ڈرائیورز نے مذکورہ چارجز کے خلاف جمہوریت کے مروجہ طریقہ کار کے مطابق جو جدوجہد شروع کی ہے اس کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے دیگر سول سوسائٹی کے لوگ بھی اپنا حصہ ڈالیں تاکہ جہاں ماحولیاتی آلودگی سے بچنے کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے ساتھ ہی محنت کش ڈرائیورز کو بھی سکون سے روٹی روزی کمانے دی جائے۔

Advertisement

 

Advertisement

Related Articles