چھتیس گڑھ اور بہار سمیت چھ ریاستوں میں شدید بارش کا الرٹ جاری
چترکوٹ کے ہوٹلوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بچایا گیا۔ راجستھان کے 17 اضلاع میں خشک سالی جیسے حالات۔
پٹنہ/بھوپال۔بہار میں دریائے گنگا میں اضافہ ہورہا ہے۔ پٹنہ کا دیگھا گھاٹ پانی میں ڈوب گیا ہے۔ دریں اثنا بگاہا کے ڈومریا گھاٹ پر دریائے گنڈک خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے۔ پندرہ اضلاع کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔مدھیہ پردیش کے ستنا، چترکوٹ، ٹکم گڑھ، چھتر پور اور پنا میں سیلاب جیسی صورتحال ہے۔ چترکوٹ میں منداکنی ندی خطرے کے نشان سے 26 فٹ اوپر بہہ رہی ہے۔ گھاٹوں کے
ساتھ لگ بھگ 400 دکانی
ں پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ لوگ گھروں اور ہوٹلوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں دو ہیلی کاپٹروں کے ساتھ بچاؤ کاموں میں مصروف ہیں۔
راجستھان میں جے پور سمیت 15 شہروں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیس سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سال کے کمزور مانسون کی وجہ سے جے پور سمیت 17 اضلاع میں خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔محکمہ موسمیات (IMD) کے مطابق اروناچل پردیش، آسام، میگھالیہ، چھتیس گڑھ اور مغربی بنگال کے گنگا کے میدانی علاقوں میں بھاری سے بہت زیادہ بارش کی توقع ہے۔
مدھیہ پردیش میں موسلادھار بارش کی وجہ سے کئی اضلاع میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ چترکوٹ میں دریائے منداکنی تقریباً 30 فٹ تک بڑھ رہی ہے۔ چیف منسٹر موہن یادو نے اتوار کو چترکوٹ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا معائنہ کیا، پناہ گاہوں میں متاثرہ لوگوں سے ملاقات کی اور امدادی سامان تقسیم کیا۔ دریں اثنا، ستنا میں اسکول 31 اگست سے یکم ستمبر تک بند کردیئے گئے ہیں۔نینی تال کی مرکزی سڑک پر ایک پہاڑی میں شگاف پڑ گیا ہے، جس سے نینی تال-کاٹھ گودام روٹ پر ٹریفک جام ہو گیا ہے۔چھتیس گڑھ میں اگلے پانچ دنوں تک بارش متوقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے شروع ہونے والی بارشوں کی شدت میں اضافہ ہوگا۔ اس دوران کئی علاقوں میں ہلکی سے درمیانے درجے کی بارش ہوگی جب کہ کچھ علاقوں میں موسلادھار بارش ہوسکتی ہے۔




