وزیراعلیٰ شبھیندو ادھیکاری کے بیان کے بعد جادھوپور یونیورسٹی کی دیواروں سے متنازع نعرے ہٹا ئے گئے، ایس ایف آئی کا احتجاج

کولکاتا، 30 اگست جادھوپور یونیورسٹی کیمپس کی دیواروں پر لکھے مبینہ ’ملک مخالف‘ نعروں کو لے کر جاری تنازع کے درمیان یونیورسٹی انتظامیہ نے کئی دیواروں پر لکھے نعروں اور پیغامات کو مٹا دیا ہے۔ اس کارروائی کو وزیراعلیٰ کے حالیہ بیان سے بھی جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دیواروں کی صفائی اور رنگ و روغن ایک معمول کا عمل ہے اور ماضی میں بھی وقتاً فوقتاً ایسا کیا جاتا رہا ہے۔
گزشتہ چند دنوں سے جادھوپور یونیورسٹی سیاسی بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ مبینہ طور پر بیرونی افراد کے داخلے اور طلبہ کے درمیان ہوئی جھڑپ کے بعد وزیراعلیٰ نے یونیورسٹی کیمپس کی دیواروں پر لکھے کچھ نعروں پر سوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے پوچھا تھا کہ آرٹس ڈپارٹمنٹ کی دیواروں پر ’کشن جی سلام‘ اور ’کشمیر مانگے آزادی‘ جیسے نعرے کیوں لکھے جاتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے ایسے دیوار نویسی کو ’کچرا‘ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ جادھوپور یونیورسٹی اعلیٰ تعلیم اور قابلیت کا مرکز ہے، اس لیے اس بات پر غور ہونا چاہیے کہ نئی نسل کو ایسے نعروں کے ذریعے کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ کی کارروائی کی طلبہ تنظیم ایس ایف آئی نے مخالفت کی ہے۔ ایس ایف آئی لیڈر اور یونیورسٹی کے پوسٹ گریجویٹ طالب علم انجیل داس نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ کیمپس کی دیواروں پر لکھے کئی نعرے سامراجیت اور فاشزم مخالف نظریات کی عکاسی کرتے تھے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ دیواروں پر لکھی تحریروں کو مٹا کر یونیورسٹی کی تاریخی سیاسی روایت کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ایس ایف آئی نے خبردار کیا ہے کہ یونیورسٹی کیمپس میں دیوار نویسی کی روایت دوبارہ شروع کی جائے گی۔




