ایران کے پاس بھی معاشی ہتھیار موجود ہیں
مسعود عالم
دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان جنگ اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی۔ جدید دور میں کسی ملک کو کمزور کرنے کے لیے توپ، ٹینک اور میزائل کے ساتھ ساتھ معیشت، تجارت، بینکاری، توانائی اور مالیاتی نظام کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی اسی بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملی کی ایک واضح مثال ہے۔ واشنگٹن نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ بڑھاتے ہوئے اس کے مالیاتی اور تجارتی راستوں کو محدود کرنے کی کوشش تیز کردی ہے۔ مقصد بظاہر یہ ہے کہ ایران کی آمدنی کم ہو، اس کی تیل کی تجارت متاثر ہو، بین الاقوامی مالیاتی نظام تک اس کی رسائی محدود ہو اور تہران پر اتنا دباؤ بڑھے کہ وہ اپنی پالیسیوں میں تبدیلی پر مجبور ہوجائے۔ لیکن اس پوری صورتحال کا دوسرا رخ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایران کے پاس بھی ایسے معاشی ہتھیار موجود ہیں جنہیں نظرانداز کرنا امریکہ کے لیے آسان نہیں۔
ایران دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں شمار نہیں ہوتا، لیکن اس کی اہمیت اس کی مجموعی قومی دولت سے کہیں زیادہ اس کے جغرافیائی محل وقوع، توانائی کے ذخائر اور علاقائی اثر و رسوخ سے پیدا ہوتی ہے۔ ایران کے پاس دنیا کے بڑے تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں اور یہی توانائی اس کی معیشت کا بنیادی سہارا بھی ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کا ایک اہم ذریعہ بھی۔ کئی برسوں سے امریکی پابندیوں کے باوجود ایران اپنی تیل کی تجارت مکمل طور پر ختم ہونے سے بچانے میں کامیاب رہا ہے۔ اس نے مختلف ممالک کے ساتھ تجارت، متبادل مالیاتی ذرائع اور پیچیدہ تجارتی راستوں کے ذریعے اپنی معیشت کو زندہ رکھا ہے۔ یہی تجربہ آج تہران کو امریکی معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی کچھ صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
ایران کے لیے سب سے اہم معاشی سہارا چین کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں۔ چین ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت نے تہران کو امریکی پابندیوں کے باوجود عالمی معیشت سے مکمل طور پر کٹنے سے بچایا ہے۔ اگر چین ایرانی تیل خریدتا رہتا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے راستے کھلے رہتے ہیں تو ایران کو عالمی معاشی نظام سے مکمل طور پر الگ کرنا امریکہ کے لیے مشکل ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کی موجودہ حکمت عملی میں چین کا کردار انتہائی اہم ہوگیا ہے۔ امریکہ اگر ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے چینی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو بھی بڑے پیمانے پر نشانہ بناتا ہے تو اس کے نتیجے میں امریکہ اور چین کے درمیان ایک نئی معاشی کشمکش پیدا ہوسکتی ہے، جس کی قیمت خود عالمی معیشت کو ادا کرنا پڑے گی۔
ایران کا دوسرا بڑا معاشی ہتھیار آبنائے ہرمز ہے۔ خلیج فارس سے دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچنے والی تیل اور گیس کی ایک بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اس لحاظ سے آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایران اس جغرافیائی حقیقت سے بخوبی واقف ہے اور اسی لیے ہرمز کو اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی میں اہم مقام دیتا ہے۔ اگر اس راستے میں طویل عرصے تک رکاوٹ پیدا ہوجائے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں، بحری نقل و حمل مہنگی ہوسکتی ہے، بیمہ کی لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے اور دنیا کے کئی ممالک میں مہنگائی کا نیا دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔
لیکن ایران کے لیے آبنائے ہرمز ایک ایسا ہتھیار ہے جسے استعمال کرتے ہوئے اسے انتہائی احتیاط کی ضرورت ہوگی۔ اس راستے کو غیر محفوظ بنانے کا نقصان صرف امریکہ یا مغربی ممالک تک محدود نہیں رہے گا۔ چین، بھارت، جاپان اور دیگر ایشیائی ممالک بھی خلیجی تیل پر انحصار کرتے ہیں۔ خود ایران کی اپنی تجارت اور توانائی کی برآمدات بھی خطے کے استحکام سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر تہران ہرمز کو طویل عرصے تک عالمی تجارت کے لیے خطرناک بناتا ہے تو اس کے نتیجے میں عالمی دباؤ ایران پر بھی بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے ہرمز ایران کے لیے طاقت ضرور ہے، مگر ایسی طاقت ہے جس کا استعمال آخری حد تک پہنچ کر خود ایران کے لیے نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے۔
امریکہ کی معاشی حکمت عملی کا اصل مقصد ایران کی آمدنی کے ذرائع کو محدود کرنا ہے۔ ایران کے تیل کے خریداروں، جہاز رانی کے اداروں، مالیاتی سہولت کاروں، بینکوں اور تجارت سے وابستہ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرکے واشنگٹن یہ کوشش کررہا ہے کہ ایران کے لیے ایک طرف تیل فروخت کرنا مشکل ہو اور دوسری طرف اس سے حاصل ہونے والی رقم کو بین الاقوامی مالیاتی نظام میں منتقل کرنا بھی دشوار ہوجائے۔ یہ حکمت عملی اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں براہ راست فوجی کارروائی کے بجائے مالیاتی دباؤ کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
مگر اقتصادی پابندیوں کی اپنی حدود بھی ہیں۔ کئی دہائیوں کے تجربے نے ایران کو یہ سکھایا ہے کہ جب ایک تجارتی راستہ بند ہوتا ہے تو دوسرا تلاش کرنا پڑتا ہے۔ تہران نے مختلف ممالک کے ذریعے تجارت، متبادل کرنسیوں، غیر رسمی مالیاتی ذرائع اور پیچیدہ تجارتی نیٹ ورک کا سہارا لیا ہے۔ اس عمل نے ایران کی معیشت کو ضرور کمزور کیا، لیکن اسے مکمل طور پر مفلوج نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ نئی پابندیوں کے باوجود ایران کے لیے کچھ معاشی راستے اب بھی موجود ہیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر امریکی معاشی دباؤ ایران کو کس حد تک جھکا سکتا ہے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ پابندیاں کسی ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں، لیکن معاشی مشکلات ہمیشہ سیاسی ہتھیار ڈالنے میں تبدیل نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات بیرونی دباؤ حکومت اور عوام دونوں میں مزاحمت کا جذبہ پیدا کردیتا ہے۔ ایران میں بھی یہی صورتحال دیکھی گئی ہے۔ مہنگائی، کرنسی کی کمزوری اور معاشی مشکلات کے باوجود ایرانی قیادت نے کئی مواقع پر امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دی ہے۔
اس معاشی جنگ کا سب سے حساس پہلو عام ایرانی شہری ہے۔ جب پابندیاں بڑھتی ہیں تو ان کا اثر صرف حکومتی اداروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ روزمرہ استعمال کی اشیا، روزگار، کرنسی اور کاروبار پر بھی پڑتا ہے۔ اگر معاشی دباؤ بہت زیادہ بڑھ جائے تو عوامی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ لیکن یہی صورتحال امریکہ کے لیے بھی ایک سیاسی سوال پیدا کرتی ہے کہ کیا عام شہریوں کو معاشی مشکلات میں مبتلا کرکے مطلوبہ سیاسی نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے؟ اگر اس سوال کا جواب منفی ہو تو طویل پابندیاں ایک ایسے چکر میں تبدیل ہوسکتی ہیں جس میں معاشی نقصان تو بڑھتا رہے لیکن سیاسی مقصد حاصل نہ ہو۔
ایران کے پاس ایک اور اہم طاقت اس کا علاقائی اثر و رسوخ ہے۔ عراق، خلیجی ممالک اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اس کے تجارتی اور معاشی روابط نے اسے مکمل تنہائی سے بچانے میں کردار ادا کیا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے تیسرے ممالک پر بھی دباؤ بڑھاتا ہے تو یہ معاملہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان نہیں رہے گا بلکہ کئی دوسرے ممالک بھی اس کشمکش کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال عالمی تجارت میں مزید تقسیم پیدا کرسکتی ہے اور دنیا کو مختلف معاشی حلقوں میں تقسیم کرنے کے عمل کو تیز کرسکتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں امریکی طاقت کی سب سے بڑی خوبی اس کی ممکنہ کمزوری میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ امریکہ کے پاس عالمی مالیاتی نظام پر غیر معمولی اثر و رسوخ ہے، لیکن اگر مختلف ممالک مسلسل امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے متبادل مالیاتی اور تجارتی راستے اختیار کرنے لگیں تو طویل مدت میں عالمی مالیاتی نظام میں تبدیلی کا عمل تیز ہوسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی ڈالر کی بالادستی فوری طور پر ختم ہوجائے گی، لیکن یہ ضرور ہے کہ مسلسل پابندیاں دنیا کے کئی ممالک کو متبادل راستوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرسکتی ہیں۔
دوسری طرف ایران کے لیے بھی یہ سمجھنا خطرناک ہوگا کہ وہ اپنی جغرافیائی اور توانائی کی طاقت کو بلاحدود استعمال کرسکتا ہے۔ عالمی تجارت کو شدید متاثر کرنے کی صورت میں تہران کو اپنے قریبی تجارتی شراکت داروں کی ناراضی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر وہ ممالک جو خلیجی توانائی پر انحصار کرتے ہیں، ایران کی سخت پالیسیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس لیے تہران کو اپنے معاشی ہتھیار استعمال کرتے ہوئے طاقت اور دانش مندی کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ کشمکش میں امریکہ کے پاس ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ مالیاتی طاقت ہے، لیکن ایران کے پاس ایسی جغرافیائی اور توانائی کی اہمیت ہے جسے مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ عالمی مالیاتی نظام کے ذریعے ایران کی معاشی سانس محدود کرسکتا ہے، جبکہ ایران تیل، تجارت اور آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی منڈی پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جنگ صرف دو ملکوں کی معیشتوں کا مقابلہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کے استحکام کا امتحان بھی ہے۔
آنے والے دنوں میں اصل فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ کون سا فریق اپنے وسائل کو زیادہ دیر تک مؤثر انداز میں استعمال کرسکتا ہے۔ امریکہ کے پاس مالیاتی طاقت، پابندیوں کا نظام اور عالمی بینکاری پر اثر ہے، جبکہ ایران کے پاس تیل، جغرافیہ، علاقائی اثر و رسوخ اور متبادل تجارتی راستوں کا تجربہ ہے۔ اگر واشنگٹن ایران کی آمدنی کو نمایاں طور پر کم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو تہران پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن اگر ایران اپنے تیل کے خریداروں، تجارتی شراکت داروں اور متبادل مالیاتی راستوں کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو امریکی پابندیاں ایک طویل معاشی جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔
اصل حقیقت یہی ہے کہ ایران بے بس نہیں ہے، مگر وہ ناقابلِ شکست بھی نہیں۔ اس کے پاس معاشی ہتھیار موجود ہیں، لیکن ان ہتھیاروں کی طاقت ان کے محتاط استعمال میں ہے۔ آبنائے ہرمز کو دباؤ کا ذریعہ بنانا، تیل کی تجارت کو جاری رکھنا اور متبادل مالیاتی راستے تلاش کرنا ایران کو وقتی طور پر سہارا دے سکتے ہیں، مگر طویل مدت میں اسے اپنی معیشت کے بنیادی مسائل بھی حل کرنا ہوں گے۔
امریکہ ایران کی معاشی زندگی کو محدود کرنے کی کوشش کررہا ہے، لیکن ایران کے پاس بھی دنیا کی توانائی اور تجارت کے اہم راستوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ کشمکش کو صرف پابندیوں اور جوابی اقدامات کی جنگ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ دراصل اس سوال کا امتحان ہے کہ عالمی سیاست میں پیسہ، تیل، تجارت اور جغرافیہ میں سے کون سی طاقت زیادہ دیر تک فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔
میزائلوں کی گھن گرج وقتی ہوتی ہے، مگر معاشی جنگ کے اثرات برسوں باقی رہ سکتے ہیں۔ اگر امریکہ ایران کو مالی طور پر گھیرنے کی کوشش کررہا ہے تو تہران کے پاس بھی ایسے معاشی ہتھیار ہیں جن کا استعمال عالمی منڈی کو ہلا سکتا ہے۔ اسی لیے اس تنازع کا سب سے سمجھ دار راستہ طاقت کے مکمل استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور ایسے حل کی تلاش ہے جس میں کسی ایک فریق کی مکمل شکست کے بجائے خطے اور دنیا کو ایک بڑے معاشی بحران سے بچایا جاسکے۔ کیونکہ اگر معاشی جنگ بے قابو ہوگئی تو اس کی قیمت صرف تہران یا واشنگٹن نہیں، دنیا بھر کے عام شہری ادا کریں گے۔




