سبسٹین کرزکا سیاسی کیریئر

ویانا کی ڈائری۔۔۔ اکرم باجوہ

آسٹریا کی تاریخ کے سب سے کم عمر وزیر خارجہ، دنیا کے سب سے کم عمر وزیراعظم اور دنیا کے کم عمر حکومت سے استعفیٰ دینے والے وزیراعظم سبسٹین کرز نے تاریخ رقم کی، سبسٹین کرز اب آسٹریا کے وزیراعظم نہیں رہے، انہیں ڈھائی سال کے اندر دوسری بار ویانا میں اپنے دفتر کو الوداع کہنا پڑا، دسمبر 2013 میں جب انہیں 27 سال کی عمر میں آسٹریا کا سب سے کم عمر وزیر خارجہ مقرر کیا گیا ، سبسٹین کرز نے اپنی کامیابیوں کا تسلسل جاری رکھا، انہوں نے 17 سال کی عمر میں ینگ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور 2010 میں ویانا سٹی کونسل اور ریاستی پارلیمنٹ کے رکن بن گئے، اب تک کے سب سے کم عمر وزیر خارجہ نے صرف ایک سال بعد وفاقی سطح پر چلے گئے اور وزارت داخلہ میں انٹیگریشن کے ریاستی وزیر بن گئے، 2013 میں قومی کونسل کے انتخابات میں انہوں نے ÖVP فہرست میں ایک اعلیٰ مقام حاصل کیا اور فوراً رکن منتخب ہو گئے، ورنر فیمن کی دوسری کابینہ (SPÖ) میں وہ سب سے کم عمر وزیر خارجہ بنے لیکن کرز کی چڑھائی بغیر کسی رکاوٹ سے اور پوری رفتار سے جاری رہی، جب PVP پارٹی لیڈر اور وائس چانسلر رین ہولڈ میترلھنر نے چار سال بعد استعفیٰ دیا تو سبسٹین کرز تیار تھے، یکم جولائی 2017 کو نمائندوں کے 98.7 فیصد ووٹوں کے ساتھ وہ کنزرویٹو پارٹی کے فیڈرل پارٹی چیئرمین بنے لیکن انہوں نے وائس چانسلر کا عہدہ نہ سنبھالنے کا فیصلہ کیا، کرز نے سب سے اوپر امیدوار اور 31.5 فیصد ووٹ کے ساتھ ÖVP نے 2017 کا قومی کونسل کا الیکشن جیتا۔ ÖVP نے دائیں بازو کی FPÖ پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا جو تقریبا ڈیڑھ سال تک جاری رہا۔ سبسٹین کرز کو 18 ستمبر 2017 کو وزیراعظم مقرر کیا گیا تھا – 31 سال کی عمر میں وہ اس وقت دنیا کے سب سے کم عمر حکومت کے سربراہ تھے لیکن ان کی حکومت جلد ہی سکینڈلز میں آکر ہل گئی۔18 مئی 2019 کو ایف پیÖ کے وائس چانسلر ایچ سی اسٹریچ نے آئبیزا معاملہ کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا، جب کرز نے 20 مئی کو اعلان کیا کہ وہ وزیر داخلہ ہربرٹ کِکل کو برطرف کرنا چاہتا ہے تو FPÖ نے نام نہاد کالے نیلے اتحاد کو تحلیل کر دیا چونکہ وہ سمجھوتہ کرنے والی ویڈیو کو اس کے شائع ہونے سے پہلے ہی جانتا تھا، کرز کو اس معاملے میں اس کی طویل غیر فعالیت پر بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیراعظم کی حیثیت سے مختصر ترین مدت میں مذید سکینڈل آنے پرانہیں آسٹریا کے صدر وان ڈیر بیلن نے 22 مئی 2019 کو ایک عبوری حکومت پارلیمانی اکثریت کے بغیر مقرر کی جسے صرف 5 دن بعد 28 مئی کو صدر وان ڈیر بیلن نے کرز کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا لیکن سبسٹین کرز نے دوبارہ وزیراعظم بن کر نئی تاریخ رقم کی۔ نئے انتخابات میں ÖVP نے اکثریت حاصل کرکے بطور اعلی امیدوار دوبارہ جیت لیا۔ 37.5 فیصد ووٹ کے ساتھ انتخابی جیت 2017 کے مقابلے میں اور بھی واضح تھی، کرز دوبارہ وزیراعظم بن گئے اور گرینز پارٹی کے ساتھ اتحاد بنایا اور حکومت بنا لی۔ 2021 میں حالات وواقعات پھر سے گھوم گئے۔ مئی میں یہ معلوم ہوا کہ پبلک پراسیکیوٹر آئبیزا معاملہ میں جھوٹے بیانات کے لیے کرز سے تفتیش کر رہا ہے، ستمبر میں پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے وزیراعظم سے پوچھ گچھ کی 6 اکتوبر کو ÖVP ہیڈ کوارٹر اور وفاقی وزارت خزانہ میں گھروں کی تلاشی لی گئی، سبسٹین کرز اور ان کے سیاسی ماحول سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد پر رشوت اور بدعنوانی کا الزامات لگائے گئے ہیں، دوسری چیزوں کے علاوہ کرز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے پولرز اور میڈیا گروپس کی جانب سے پولس اور بوگس انوائسز کو کمیشن دیا ہے، کرز نے ابتدا میں استعفے کے مطالبات کی مخالفت کی لیکن اپوزیشن اور میڈیا کا پریشر برداشت نہ کر سکے اور اپوزیشن کا مطالبہ تسلیم کر لیا، فیڈرل چانسلری میں ایک مختصر تقریر میں کرز نے تمام الزامات کی تردید کی اور کہا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گرینز اتحادی پارٹی حکومتی شراکت داروں کے طور پر اپنی حمایت واپس لے چکے ہیں لیکن سبسٹین کرز کا سیاسی کیریئر یہی ختم نہیں ہوتا جب کہ الیگزینڈر شالین برگ (PVP) ان کی جگہ لینے والے ہیں اور سبسٹین کرز پْرامید ہیں کہ پارلیمنٹ میں دوبارہ آکر اپنی وزیراعظم کی سیٹ پر براجمان ہوں گے۔

 

 

Related Articles