ہم صرف وکیلوں کے بارے میں نہیں سوچ سکتے ، لوگ بھوک سے مر رہے ہیں ، اپنی ملازمت سے محروم ہیں” : بمبئی ہائی کورٹ

ممبئی: مقامی ٹرینوں میں سفر کی اجازت دینے اور عدالتوں میں جسمانی سماعت شروع کرنے کا معاملے میں داخل دو الگ الگ عرضیوں پرکل ہوئی سماعت کے دوران بمبئی ہائی کورٹ نے کہا کہ ” ہم صرف وکیلوں کے بارے میں نہیں سوچ سکتے ، لوگ بھوک سے مر رہے ہیں ، اپنی ملازمت سے محروم ہیں”۔
بمبئی ہائی کورٹ نے کہا کہ ایسے وقت میں جب لوگ بھوک سے مر رہے ہیں ، اپنی ملازمت سے محروم ہو رہے ہیں ، عدالت ان درخواستوں پر سماعت نہیں کرسکتی ہے جس میں صرف وکلاء کو ضروری خدمات کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ وہ لوکل ٹرینوں میں سفر کرسکٰیں۔ عدالت نے کہا کہ ہمیں ایسے فارمولے پر غور کرنا ہوگا ، تاکہ عام لوگوں کو بھی فائدہ ہو سکے۔ چیف جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس جی ایس کلکرنی پر مشتمل ایک ڈویژن بنچ دو الگ الگ عوامی مفاد کی عرضیوں کی ایک ساتھ سماعت کررہا تھا ۔
ایک درخواست میں جو بار کونسل آف مہاراشٹر اور گوا کی جانب سے دائر کی گئی ہے مطالبہ کیا گیا ہے کہ، وکلاء کو ضروری خدمات کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ دوسرئ عرضی کنزیومر کورٹ ایڈوکیٹس ایسوسی ایشن کی طرف سے داخل کی گئی ہے جس میں عدالتوں میں جسمانی سماعت دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت دئے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
کیس کے آغاز میں ہی، چیف جسٹس دیپنکر دتہ نے دونوں درخواست گزاروں کے لئے پیش ہوئے ایڈووکیٹ ادیہ وارونجیکر سے کہا ، “کیا آج آپ نے اخبار دیکھا ہے؟” حکومت اب نجی اداروں کو 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ کھولنے اور کام کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔
ہم غور کررہے تھے کہ مصروف اوقات( پیک اورس) کے دوران جسمانی سماعت کے لئے عدالت کھولنے کے بجائے ہم 2 سے 6 بجے کے درمیان عدالت کھول سکتے ہیں۔ اس دوران تھوڑا دباو کم رہتا ہے۔ جس پر
سرکاری وکیل پورنما کنتھاریا نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت چلنے والی تمام ٹرینیں پوری طرح سے بھری ہوئی چل رہی ہیں اور ان میں لاک ڈاؤن کے پہلے سے زیادہ بھیڑ ہے۔
اس پر ، جسٹس کلکرنی نے کہا- “جب ٹرینوں میں بھیڑ کم ہوتی ہے تو ایسے اوقات جسمانی سماعت کے لئے کیوں نہیں طئے کیے جا سکتے ہیں؟۔ ” ہم سب جانتے ہیں کہ ممبئی میں زندگی کیسی ہے۔ لہذا ہم جوا کرسکتے ہیں وہ یہ کہ کم ٹریفک اوقات میں مقدمات کی سماعت کر سکتے ہیں”
اس کے بعد چیف جسٹس نے اس درخواست پر غور کیا ، جس میں وکلاء کو ضروری خدمات کی فہرست بھی شامل کرنے کی استدعا کی گئی ہے تاکہ وہ لوکل ٹرینوں میں آسانی سےسفر کرسکٰیں۔ عدالت نے کہا کہ – “ہم اسے صرف وکلاء تک محدود نہیں کرسکتے ، یہ متعصبانہ معلوم ہوسکتا ہے۔ ہم صرف وکلاء کے بارے میں نہیں سوچ سکتے۔ آج صورتحال ایسی ہے کہ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں ، اپنی ملازمت سے محروم ہو رہے ہیں۔ لہذا ، ہمیں ایک ایسا فارمولہ تیار کرنا ہوگا جس سے دوسروں کو بھی فائدہ ہو۔ ” عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ریستوراں کھولنے کے بارے میں جو فیصلہ لیا ہے وہ بھی خوش آئند اقدام ہے۔ اس سے ان لوگوں کو فائدہ ہوگا جو اپنا روزگار کھو چکے ہیں۔
چیف جسٹس دتہ نے جسمانی سماعت دوبارہ شروع کرنے میں لوگوں کی پریشانیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ “کیرالا میں صورتحال سنگین ہے۔ اونم کے بعد ، کورونا وائرس کے معاملات میں 126 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ لہذا ، لوگوں کو ریاست اور مرکز کے مقرر کردہ پروٹوکول پر عمل کرنا ہوگا۔ لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ بار کونسل وکالت کے لئے ہے ، اس میں کوئی شک نہیں لیکن آپ ایک قانونی ادارہ ہیں ، لہذا آپ کا بھی دوسروں کے ساتھ فرض ہے”۔

Related Articles