مکھی اور کورونا ویکسین ریسرچ

آپ لکھنے کے ارادے سے بیٹھے ہوں۔ قلم ہاتھ میں اور پیپر سامنے ٹیبل پر رکھا ہواس وقت کوئی مکھی اڑتی پھرتی ہوئی آئے اور آپ کے ارد گرد گھومنا شروع کر دیاور بڑے موڈ میں ہو اوراپنی بھنبھناہٹ سے آپ کو مکمل انٹرٹین کرنے کا ارادہ رکھتی ہو۔اس صورتحال کا تجربہ بہت سے لوگوں کو ہوا ہوگا، جتنی زیادہ خاموشی اور سیریس نیس سے کام کر رہے ہیں اتنی ہی زیادہ آپ کو بھن بھن کی آواز ڈسٹرب کرے گی۔ حد تو یہ ہے کہ جو کام آپ بے حد دلچسپی اور توجہ سے کر رہے ہو مکھی بھی اتنا ہی زیادہ تنگ کر سکتی ہے۔ کئی مرتبہ تو آپ اس کو نظر انداز کرتے ہیں کئی مرتبہ اٹھ کر مکھی کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے تاکہ پہلے اس سے جان چھڑائیں تو پھر کچھ کام ہو۔ یوکے میں آج کل موسم میں کافی موٹی تازی مکھیاں آ جاتی ہیں۔چند ایک کمروں تک بھی پہنچ جاتی ہیں موسم بہتر ہونے کی وجہ سے کوئی نہ کوئی کھڑکی دروازہ ان کو دخل اندازی کا موقع فراہم کر دیتا ہے۔ایسا نہیں کہ یہ آج کے کالم کا موضوع ہے لیکن مکھی نے آج حکمت کی بات بتائی کہ انسان کیا چیز ہے۔ ایک مکھی آپ کی توجہ سبوتاڑ کر سکتی ہے۔اصل کام سے توجہ ہٹا سکتی ہے یوں تو آج کل کورونا وائرس ایسا موضوع ہے جس پرلوگوں کی توجہ ہے۔ احتیاط بھی ہے اور خوف بھی۔ اچھی خبریں کورونا وائرس سے متعلق سننے میں میں آ رہی ہیں۔بہت سے ممالک میں کورونا کیسز کم ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے ضمنی طور پر بنیادی ضروریات سے متعلق کاروبار اور تجارتی مراکز کھل رہے ہیں لیکن ایسی بہت سی جگہوں کو دوبارہ بند بھی کرنا پڑا ہے۔ لوگ احتیاط کا دامن چھوڑ دیتے ہیں اور وائرس اپنا کام دکھانے لگتا ہے۔ایک اور چیز بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ جب انسان اپنے آپ کو سمجھا رہا ہوتا ہے کہ اب حالات بہتر ہو چکے ہیں انہی دنوں کسی عزیز یا مشہور شخصیت کی کورونا وائرس سے وفات کی خبر مل جاتی ہے۔ زندگی ایک مرتبہ پھر سے خوف کے حصار میں واپس چلی جاتی ہے۔خوف ایک منفی جذبہ ہے لیکن اس کا استعمال حفاظت کے لئے “ہتھیار ” ہے۔ بہت سے لوگ بے خوفی کا اظہار کرتے ہیں اور کورونا وائرس کی حقیقت کو ماننے کو تیار نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی ایسا کنٹریکٹ ہے جس کی وجہ سے یہ مرض لاحق نہیں ہوگا۔اس وائرس کے ہاتھوں کتنی ہی نوکریاں، چھوٹے اور بڑے کاروبار ٹھپ ہوگئے ہیں۔وہ غریب افراد جو دوسرے ملکوں میں کام کاج کر کے اپنے گھروں کو پال رہے تھے کام پر واپس جانے کے لیے بے تاب ہیں کچھ ممالک امیگرنٹس کو کہہ رہے ہیں کہ وہ کووڈ 19 فری سرٹیفکیٹ فراہم کریں اور واپس اپنے کام پرآجائیں۔ بے ایمان لوگ یہاں بھی حرکت میں آ گئیہیں اور بغیر ٹیسٹ کے سرٹیفکیٹ بیچنے کا دھندہ شروع کر لیا ہے۔ایسے لوگوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوچکی ہے۔جب تک اس مرض کی ویکسین تیار نہیں ہوتی زندگی کے سلسلے درست نہیں ہوسکتے۔ 150ملکوں میں ویکسین پر کام ہو رہا ہیورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن دنیا بھر میں اپنے آفسسز کے ذریعے کورونا سے فائٹ کر رہی ہے۔ دنیا سے غربت اور بیماری کا خاتمہ ہو رہا ہے یا نہیں ! لیکن وبا کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوشش جاری ہیں۔صحت کے اہم عہدے پر فائز اشخاص بھی وبا سے نہیں بچ سکے۔ دنیا کے فائدے میں یہی ہے کہ وبا کا خاتمہ ہوخواہ کوئی بھی ملک ویکسین تیار کرے۔ حال ہی میں امریکن فارماسیوٹیکل کمپنی نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایسی ویکسین تیار کی ہے جو صحت مند والنٹیرز نے استعمال کی ہیاس آزمائشی ویکسین نے antibodies Protective پیدا کیے ابھی تک کسی ” فائنل فاتح ملک “کا نام سامنے نہیں آیا ہیمگر یہ ضرور ہے کہ ملکوں کے درمیان اس ویکسین کی تیاری کی دوڑ لگی ہوئی ہے جو اس دوڈ میں جیتے گا وہی سکندر ہوگا۔فارماسیوٹیکل کمپنیاں اس کا کریڈٹ لینا چاہیں گی یہاں ایک اور بحث بھی چھڑ چکی ہے کہ جو میڈیکل ریسرچ انسانیت کی بھلائی کے لیے ہو، اس کو اوپن ٹو پبلک ہونا چاہییلیکن سابق سپر پاور روس پر کورونا وائرس ویکسین ریسرچ، چوری کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ امریکی، برٹش اور کینیڈین گورنمنٹ کی طرف سے گزشتہ روز کہا گیا کہ سافٹ ویئر کے استعمال سے ویکسین ریسرچ کو ہیک کیا جا رہا ہے۔ برٹش نیشنل سائبر سکیورٹی سنٹر نے کہا ہے کہ چوری کی کوشش کی گئی تھی لیکن شواہد نہیں مل سکے۔گورنمنٹ آفیشلز نے اشارہ دیا ہے کہ ہیکنگ کا نشانہ آکسفورڈ اور سوئیڈش فارماسیوٹیکل کمپنی ہے۔ اس کے جواب میں Russia نے کہا ہے کہ وہ لا علم ہے کہ کن لوگوں نے برطانیہ میں لیبارٹریز اور ریسرچ سینٹرز کو ہیک کیا ہے مگر یہ ضرور ہے کہ اس سے ماسکو میں ہونے والی ریسرچ کو Discredit کیا جا رہا ہے۔امریکن انٹیلی جنس افسر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے کہ Russia نے اس لیے ریسرچ چوری کی ہوگی کہ وہ اس کو اپنی ریسرچ کے ساتھ ملا کر جلد از جلد ویکسین تیار کرنا چاہتا ہے۔ ان کا ارادہ دوسرے ملکوں کی کوششوں کو سبوتاڑ کرنا نہیں ہے۔کچھ بھی ہو تحریر کے شروع میں آج جس مکھی نے میرے کام میں مداخلت کی اس سے وقت بھی ضائع ہوا اور نقصان بھی ہوانقصان ایسے کہ مکھی کی مداخلت کو ختم کرنے کے لیے میں نے کھڑکی کھولی اور کسی وجہ سے کھڑکی پر لگی ہوئی بلائنڈ ٹوٹ گئی نقصان تو ہوا مگر مداخلت دور ہوگئی۔ دعا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین ریسرچ پر مداخلت اثر انداز نہ ہو اورویکسین مارکیٹ میں آئے اور وبا قصہ پارینہ بن جائے۔

Related Articles