اگر حکومت اتفاق رائے سے کام کرتی تو کووڈ-19 کے ایسے بدتر حالات کا سامنا نہیں ہوتا: اپوزیشن

نئی دہلی، حزب اختلاف نے آج الزام لگایا کہ عالمی وبا ‘کووڈ-19’ سے نمٹنے کے لئے حکومت کی مشینری پوری طرح ناکام رہی ہے۔ اگر حکومت یکطرفہ فیصلہ کرنے کے بجائے سیاسی اتفاق رائے سے اس بحران کا سامنا کرتی تو صورتحال اس قدر خراب نہیں ہوتی۔
کانگریس کے ششی تھرور نے لوک سبھا میں ضابطہ 193 کے تحت کووڈ 19 کی صورتحال پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ “صرف ایک ہی چیز یہ صورتحال سازگار ہوپائی ہے۔ حکومت کو اس بیماری کی وجہ سے اپنا چہرہ چھپانے کا بہانہ مل گیا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان ایک ایسا ملک بن گیا ہے جہاں دنیا میں سب سے زیادہ متاثرین اور اموات کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ صورتحال انتہائی غیر معمولی ہے۔ اس سے معاشرے کے ہر طبقہ کے لوگ متاثر ہوئے ہيں۔ سرکاری مشینری مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ ہم دراصل تیار نہیں ہیں۔ ایک اندھیرا ہے۔ اس اندھیرے سے کیسے نکلا جائے۔
مسٹر تھرور نے کہا کہ جنوری میں ہی ووہان میں وبائی وائرس کے اشارے آچکے تھے۔ عالمی ادارہ صحت نے اسے مارچ میں عالمی وبا قرار دیا تھا۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی فروری سے متنبہ کر رہے تھے۔ لیکن حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی۔ وزیر اعظم نے صرف ساڑھے تین گھنٹے کی مہلت دے کر پورے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کردیا۔ حکومت نے ایک سنگین غلطی کردی۔ اچانک گروسری کی دکانوں پر ہجوم تھا۔ راتوں رات مہاجر مزدور پیدل سفر کرتے ہوئے آبائی شہر روانہ ہونے لگے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوئی تیاری نہیں تھی۔ اگر حکومت تمام جماعتوں کے ساتھ مل جل کر اس آفت کا مقابلہ کرتی تو صورتحال بہت بہتر ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ غیر منظم شعبے کے لاکھوں افراد کو ہزاروں کلو میٹر پیدل سفر کرنا پڑا۔ ہم ان لوگوں کی بھوک مٹانے اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکام رہے۔ اگر ان مہاجر مزدوروں کو پہلے ہی اپنے گھروں تک پہنچنے کا موقع فراہم کیا جاتا، تو کورونا وائرس پر قابو پاسکتے اور مزدوروں کو پریشانی بھی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 کی وجہ سے ملک میں دو کروڑ 10 لاکھ ملازمتیں ختم گئیں۔ 80 فیصد مزدورون کی تنخواہوں میں کمی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 سے ملک میں تین نقصانات ہوئے ہیں۔ بے روزگاری میں اضافہ ہوا، مائکرو، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور کاروباری اداروں کو نقصان ہوا اور کووڈ کے معاملے اب بھی تیزی سے بڑھ رہے ہيں۔ حکومت کو 16 مشورے دیئے گئے لیکن قبول نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت غریبوں اور کسانوں کو ٹی وی دکھا کر گمراہ نہیں کرسکے گی۔

Related Articles