میگھالیہ میں کوئلے کی غیر قانونی کانکنی روکنے کے لیے سی آئی ایس ایف کی 10 کمپنیاں کافی: ہائی کورٹ

شیلانگ، مارچ۔میگھالیہ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ سنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کی 10 کمپنیاں ریاست میں کوئلے کی غیر قانونی کانکنی اور نقل و حمل کو روکنے کے لیے کافی ہیں۔ میگھالیہ حکومت نے، تاہم، اس سے پہلے سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی تعیناتی کے لیے ایک خاکہ تیار کیا تھا۔ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سنجیو بنرجی کی سربراہی میں ایک فل بنچ نے پیر کو ایک مفاد عامہ کی عرضی کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کا منصوبہ ظاہری ہے کیونکہ اس نے مشرقی رینج میں 100 اور مغربی رینج میں 60 کمپنیاں تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ ایک کمپنی میں 135 کارکن ہوتے ہیں۔عدالت نے کہا ’’اگرچہ ریاستی حکومت نے 12 اضلاع میں کمپنیوں کی تعیناتی کی اطلاع دی ہے، لیکن لاگت کے نقطہ نظر سے مختصر مدتی، عارضی بنیادوں پر بھی یہ ناممکن لگتا ہے ۔ صرف کورٹروں اور بیرکوں کی تعمیر میں 316 کروڑ روپے خرچ کرنے کا اشارہ دیا گیا ہے اور تعمیراتی کام کی تکمیل میں بھی کافی وقت لگے گا اور 160 کمپنیوں کو عارضی بنیادوں پر رکھنا بھی ایک مشکل کام ہوگا۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ عدالت سی آر پی ایف کے بدلے سی آئی ایس ایف کی 10 کمپنیوں کو تعینات کرنا مناسب سمجھتی ہے کیونکہ مرکزی حکومت باضابطہ طور پر مطلع کرتی ہے کہ سی آر پی ایف ریاستی پولیس کے تحت کام کرتی ہے جبکہ سی آئی ایس ایف آزادانہ طور پر کام کر سکتی ہے۔

 

Related Articles