خیرسون ہمارا ہے‘، یوکرینی صدر کا اعلان

کییف،نومبر۔یوکرین کے جنوبی شہر خیرسون سے روسی افواج کا انخلاء ماسکو کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے خیرسون، روس کے ہاتھوں میں جانے والا یوکرین کا واحد بڑا علاقائی دارالحکومت تھا۔خیرسون سے اپنی افواج کی واپسی مکمل ہو جانے کے حوالے سے روس کے اعلان کے بعد یوکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی نے جمعے کے روز کہا کہ جنوبی شہر خیرسون ہمارا‘ ہے۔ انہوں نے ٹیلی گرام پر لکھا، ’ہمارے لوگ، ہمارا خیرسون۔‘انہوں نے مزید لکھا، آج ایک تاریخی دن ہے، ہم خیرسون کو واپس لے رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کا ایک اسپیشل یونٹ خیرسون کے اندر تھا اور یوکرین کے دیگر فوجی نواحی علاقوں سے آ رہے ہیں۔زیلنسکی نے بعد میں ایک ویڈیو خطاب میں کہا، خیرسون کے لوگ انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی ہمت نہیں ہاری۔ ان دیگر شہروں میں بھی ایسا ہی ہوگا، جو ابھی تک ہمارے واپس لینے کے منتظر ہیں۔‘‘ان کا یہ اعلان ایسے وقت پر سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مقامی لوگوں کا پرجوش ہجوم سڑکوں پر جشن منا رہا ہے۔ اور لوگ یوکرین کے فوجیوں کے شہر میں داخل ہونے پر ان کا استقبال کر رہے ہیں۔خیرسون کے مرکزی چوک پر ایک یادگار پر یوکرین اور یورپی یونین کے پرچم بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
غیر معمولی واقعہ:خبروں کے مطابق قبل ازیں یوکرین کی انٹیلیجنس کے ترجمان آندرئی یوسوف نے بتایا کہ خیرسون کو آزاد کرانے اور اسی نام کے اطراف کے علاقے کو آزاد کرانے کے لیے آپریشن جاری ہے۔‘روس کی پسپائی ماسکو کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے کیونکہ خیرسون شہر یوکرین کا واحد علاقائی دارالحکومت تھا جو جنگ کے آغاز کے بعد سے روسی ہاتھوں میں چلا گیا تھا۔ یہ خطہ کریمیا کے لیے اسٹریٹیجک لحاظ سے ایک اہم داخلی دروازہ بھی ہے، جسے روس نے سن 2014 میں غیر قانونی طور پر ضم کر لیا تھا۔یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کولیبا کا کہنا تھا، یوکرین اس وقت ایک اور اہم فتح حاصل کر رہا ہے اور یہ ثابت کر رہا ہے کہ روس خواہ کچھ بھی کہے یا کرے فتح بالآخر یوکرین کی ہوگی۔‘‘وائٹ ہاوس نے خیرسون پر دوبارہ قبضے کو یوکرین کے لیے غیر معمولی واقعہ‘ قرار دیا۔امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا، ایسا لگتا ہے کہ یوکرائنی شہریوں نے ایک غیر معمولی فتح حاصل کی ہے، ایک علاقائی دارالحکومت جس پر جنگ کے دوران قبضہ کر لیا گیا تھا، اب وہاں یوکرین کا پرچم ایک بار پھر لہرا رہا ہے۔‘‘
روسی پسپائی کے متعلق متضاد خبریں:یوکرینی فورسز کے خیرسون میں داخل ہونے سے قبل روس کی وزارت دفاع نے اعلان کیا تھا کہ تمام افواج واپس بلا لی گئی ہیں۔ اس میں کہا گیا تھا کہ 30000 فوجیوں کو دریائے دنیپرو کے بائیں کنارے پر منتقل کر دیا گیا ہے اور اس آپریشن میں روس کا نہ تو کوئی فوجی ہلاک ہوا اور نہ ہی ایک بھی فوجی ساز و سامان وہاں چھوڑا گیا۔‘لیکن یوکرین کی انٹیلیجنس یونٹ نے اس کی تردید کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ دریا کے دائیں کنارے پر تعینات روسی افواج میں سے نصف سے زیادہ اب بھی وہاں موجود ہیں۔ماسکو نے اس ہفتے کے اوائل میں اعلان کیا تھا کہ اس نے دریائے ڈنیپرو کے دائیں کنارے، جہاں خیرسون واقع ہے، سے اپنی فوج کو ہٹا لینے کا منصوبہ بنایا ہے۔یوکرینی حکام نے تاہم اس اعلان پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ خیرسون سے روسی فورسز کے مکمل انخلاء میں ہفتے نہیں تو کئی دن ضرور لگ سکتے ہیں۔

 

Related Articles