ٹینس: سرینا ولیمز-’’کوئن آف دی کورٹ ‘‘

نئی دہلی، ستمبر۔ سرینا ولیمز امریکہ کی مشہور سیاہ فام ٹینس کھلاڑی ہیں۔ سرینا عالمی شہرت یافتہ ٹینس کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین اداکار،ایک قابل فیشن ڈیزائنر اوراپنی مدھر آوازکے اعتبار سے وائس اوور آرٹسٹ بھی ہیں۔سابق عالمی نمبر ایک امریکی ٹینس کھلاڑی سرینا ولیمزکا آج یوم پیدائش ہے۔ 26 ستمبر 1981 کو مشی گن میں پیدا ہونے والی سرینا 41 برس کی ہو گئی ہیں۔ سرینا کا پورا نام سرینا جیمک ولیمز ہے ۔ ان کے رفقا ان کو میکا، ماما سمیش کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔ ان کا آبائی شہر ساگیناو، مشی گن، امریکہ ہے۔ سرینا نے آرٹ انسٹی ٹیوٹ آف فورٹ، لاڈرڈیل کالج سے تعلیم حاصل کی۔تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد انہوں فیشن ڈیزائننگ میں بھی گریجویٹ کی ڈگری حاصل کی۔سرینا ولیمز ایک انتہائی غریب گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ سرینا کے والد رچرڈ ولیمز پیشے کے اعتبار سے ٹینس کوچ تھے۔ اسی لیے رچرڈ کی خواہش تھی کہ ان کے بچوں میں سے ایک بچہ کم از کم ٹینس کھلاڑی بن کر نام روشن کرے۔ ان کے والد نے پیدائش سے پہلے ہی اپنی بیٹی کو ٹینس کھلاڑی بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔لیکن غربت اور جدوجہد سے بھرپور زندگی کے ہوتے ہوئے ان کےوالد رچرڈ نے اپنی دونوں بیٹیوں سرینا اور وینس کو اپنے اصرار سے اتنا بڑا ٹینس کھلاڑی بنا دیاکہ آج دنیا میں ان کے کھیل کو سب سراہتے ہیں۔ ان کی دونوں ہی بیٹیوں وینس اور سرینا نے اپنے والد رچرڈ سے ٹینس کی تربیت لینا شروع کر دی۔سرینا کے والد رچرڈ ولیمز پر ’کنگ رچرڈ‘ کے نام سے بائیوپک بھی بنائی گئی ہے، جسے آسکرز میں 5 کیٹیگریز میں نامزد کیا گیا ہے۔سرینا نے صرف 3 سال کی عمر میں اپنے والد کی نگرانی میں ٹینس کھیلنا شروع کیا۔ جہاں دونوں بہنوں نے ٹینس کی باریکیاں سیکھیں۔ٹینس کے ساتھ ساتھ سرینا نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اور اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سرینا نے دی آرٹ انسٹی ٹیوٹ آف فورٹ لاڈرڈیل سے فیشن میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔اکتوبر 1995 میں، سرینا نے کیوبک میں منعقد ہونے والے بیل چیلنج مقابلے میں وائلڈ کارڈ انٹری کے طور پر حصہ لیا۔ جہاں اسے شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔سرینا نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز سال 1997 میں کیا۔ اس وقت وہ نچلے ترین رینک میں 304ویں مقام پر تھیں۔ بعد میں انہوں نے شکاگو میں منعقدہ امریٹیک کپ مقابلے میں عالمی نمبر 7کھلاڑی میری پیئرس اور عالمی نمبر4 مونیکا سیلز کو حیرت انگیز طور پر شکست دی اور وہ ایسا کرنے والی پہلی کھلاڑی بن گئیں۔ سال 2015 میں ووگ میگزین نے سرینا کو اپنے کور پیج پر جگہ دی۔ جس کے بعد سرینا ووگ میگزین کے سرورق پر نظر آنے والی پہلی سیاہ فام خاتون کھلاڑی بن گئیں۔ سریناولیمز آج یہاں جس مقام پر ہیں ، اس مقام تک پہنچنے میں ان کے والد رچرڈ نےحقیقتاً بہت ہی زیادہ سخت محنت کی ۔ وہ چھوٹی عمر میں اپنی بیٹیوں کو 6-6 گھنٹے مشق کرواتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سرینا نے اپنا پہلا ٹورنامنٹ محض ساڑھے چار سال کی عمر میں جیتا اور 10 سال کی عمر تک وہ 49 ٹورنامنٹس میں حصہ لے چکی تھیں۔سرینا ولیمز نے اپنے والدین کی خواہش پر 14 برس کی عمر میں پہلی مرتبہ پروفیشنل ٹورنامنٹ میں حصہ لیا تھا۔ اپنے پہلے ٹورنامنٹ میں سرینا ولیمز صرف دو گیمز ہی جیت سکیں۔ 1996 میں سرینا نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا شروع کیا اور انہوں نے ٹاپ 10 کھلاڑیوں کوشکست دے کر اپنے کھیل کا لوہا منوایا۔آہستہ آہستہ شہرت کی بلندیوں کو چھوتی ہوئی سرینا سال 1997 کے آخر تک ٹینس کی 99ویں رینکنگ پر پہنچ گئیں۔ 1998 میں، سرینا نے بہن وینس کے ساتھ اپنا پہلا پروفیشنل خطاب جیتا تھا۔ اوکلاہوما سٹی میں دونوں بہنوں نے مل کر ڈبلز کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔سرینا ولیمز نے سال 1995 میں بطور پروفیشنل ٹینس کھیلنا شروع کیا اور سال 1999 یو ایس اوپن میں پہلا سنگلز خطاب اپنے نام کیا۔ایک پروفیشنل کھلاڑی کے لئے اس کا قد، مضبوط جسمانی اعضا اور کھیل میں صحیح ٹائمنگ یہ سب چیزیں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ ان سب کی بنیاد پر ہی ایک کھلاڑی کسی بھی خطاب کا متحمل ہوسکتا ہے۔ ان تمام خوبیوں کی مالک سیرینا ولیمس نے اپنی بہترین کارکردگی اور پرفارمنس کے بل بوتے پر مجموعی طور پر 73 کیریئر سنگلز ٹائٹلز اور 23 کیریئر ڈبلز ٹائٹل جیتے ہیں اور ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن (WTA) کے ذریعے 319 ہفتوں تک سنگلز میں عالمی نمبر 1 کے مقام پر فائز رہیں۔سرینا ولیمز کے کیریئر میں ان کی سب سے بڑی حریف بڑی بہن وینس ولیمز ہی رہیں۔ دونوں گرینڈ سلیم فائنلز میں 9 بار مدمقابل ہوئیں جن میں سے سرینا نے 7 اور وینس ولیمز نے 2 میں کامیابی حاصل کی۔ سرینا کو مارٹینا ہنگس، جینیفر کیپریاٹی اور جسٹن ہینن سے بھی سخت مقابلہ رہا۔سال 1998 میں سرینا نے آسٹریلین اوپن گرینڈ سلیم کے ساتھ اپنے گرینڈ سلیم کا آغاز کیا۔سال 1999 میں سرینا ولیمز نے یو ایس اوپن جیتا ۔ اس فتح کے ساتھ، وہ التھیا گبسن کے بعد 1958 میں گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ جیتنے والی پہلی سیاہ فام خاتون ٹینس کھلاڑی بن گئیں۔ 2012 کے سمر اولمپکس میں انہوں نے دو گولڈ میڈل جیتے۔ جس میں ویمنز سنگلز کیٹگری میں ایک اور ویمنز ڈبلز کیٹیگری میں ایک نے کامیابی حاصل کی۔ یہ سمر اولمپکس میں ان کا پہلا انفرادی گولڈ میڈل تھا۔سریناولیمز نے تقریباً ڈھائی برس تک رینکنگ کی فہرست میں اول مقام پر رہ کر سٹیفی گراف کا ریکارڈ برابر کر دیا۔ سرینا ولیمز اپنے دور میں سب سے زیادہ سنگلز، ڈبلز اور مکسڈ ڈبلز گرینڈ سلیم جیتنے والی کھلاڑی رہیں۔ سرینا نے 23 سنگلز اور 14 ڈبلز اور 2 مکسڈ ڈبلز گرینڈ سلیم جیتے ہیں۔ سرینا خواتین اور مردوں کے دونوں زمروں میں واحد ٹینس کھلاڑی ہیں جنہوں نے 2005 میں چاروں گرینڈ سلیم ٹائٹل جیت کر گولڈن سلیم مکمل کیا۔سرینا نے اپنے کیرئیر میں کل 23 گرینڈ سلیم سنگلز ٹائٹل جیتے ہیں۔ وہ سب سے زیادہ گرینڈ سلیم جیتنے والی دوسری کھلاڑی ہیں۔سرینا ولیمز ایک ٹینس کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کاروباری خاتون بھی ہیں۔انہوں نے فیشن ڈیزائننگ کے شعبے میں اپنا کاروبار شروع کیا۔اس بارے میں سرینا کے خود کہنا ہے کہ’’میں وہ ڈیزائن کرتی ہوں، جنہیں صرف پراعتماد خواتین ہی پہن سکتی ہیں‘‘۔ایک پیشہ ور ٹینس کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہترین ادا کار بھی رہ چکی ہیں۔سرینا نے 10 سے زائد ڈراموں اور فلموں میں بھی کام کیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے 4 کارٹون کرداروں کو اپنی آواز دی ہے۔ مئی 2018 میں ایچ بی او نے ان پر ایک دستاویزی فلم بھی بنائی جس کا نام "بگ سرینا” ہے۔سرینا دو ٹی وی سیریز میں نظر آئیں۔ جو جولائی 2012 میں "ٹرسٹ یو ود یور لائف” اور "ڈراپ ڈیڈ ڈیوا” میں شائع ہوا۔سرینا نے اپنے نام سے ’’سیرینا ولیمز فاؤنڈیشن‘‘ بھی قائم کر رکھی ہے۔

 

Related Articles