ڈی ڈبلیو کا اظہار آزادی ایوارڈ، دو یوکرینی صحافیوں کے نام

برلن،جون۔یوکرینی صحافی میٹیسلاف چیرنوف اور ایفگینی مالولیٹکا نے سال 2022 ء کے ڈی ڈبلیو کا ایوارڈ برائے آزادی اظہار جیتا ہے۔ انہیں یہ ایوارڈ روس کی طرف سے ماریوپول کے محاصرے کے دوران کے حالات کی عکس بندی پر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اور طویل عرصے سے ان کے ساتھی فوٹو جرنلسٹ ایفگینی مالولیٹکا نے رواں برس فروری اور مارچ میں ماریوپول کے حالات دنیا کے سامنے پیش کرنے پر ڈی ڈبلیو کا فریڈم آف اسپیچ ایوارڈ جیتا ہے۔ یہ ایوارڈ دو روزہ بین الاقوامی ایونٹ گلوبل میڈیا فورم 2022ء کے پہلے روز 20 جون کو ان صحافیوں کو دیا گیا۔یہ دونوں صحافی 24 فروری کو روس کی طرف سے یوکرین میں فوج کشی کے آغازسے چند گھنٹے قبل ہی اس بندرگاہی شہر پہنچے تھے۔ مارچ کے وسط میں انہیں وہاں سے بے دخل کیے جانے سے قبل تک مسلسل تین ہفتے وہاں سے رپورٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔خوفناک تفصیلات کی حامل ان کی تصاویر اور ویڈیوز اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ماریوپول کو جو کبھی ایک ترقی کرتا ہوا شہر تھا، مسلسل روسی بمباری کے ذریعے کس طرح خاک و خون میں نہلا دیا گیا اور کس طرح کھنڈر بنا دیا گیا۔ ان صحافیوں نے ان تمام خوفناک حالات کی بھی عکس بندی کی جن میں ماریوپول کے رہائشی مبتلا رہے جہاں گیس اور بجلی بند کر دی گئی اور پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔ انہوں نے ان اجتماعی قبروں کی بھی تصاویر بنائیں جو عام شہریوں اور بچوں کی لاشوں سے بھری ہوئی تھیں۔اگر چیرنوف اور مالولیٹکا کی طرف سے دنیا تک اس تمام معلومات کو نہ پہنچایا جاتا تو شاید پوری دنیا کو طویل عرصے تک یہ پتہ ہی نہ چلتا کہ ماریوپول میں روسی حملے سے وہاں کیا حالات پیدا ہوئے۔چیرنوف اور مالولیٹکا دونوں کے لیے بحران زدہ خطوں سے رپورٹنگ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ چیرنوف اس سے قبل شام، عراق اور میانمار ہیں رپورٹنگ کر چکے ہیں جبکہ مالولیٹکا یوکرین کے متنازعہ علاقے ڈونباس اور کریمیا سے رپورٹنگ کے علاوہ یوکرین کے میدان انقلاب کی بھی رپورٹنگ کر چکے ہیں۔ مگر ان دونوں کے لیے ماریوپول سے رپورٹنگ ایک بالکل ہی الگ تجربہ تھا۔چیرنوف کے مطابق، یہ شاید اب تک کی سب سے زیادہ خطرناک اور سخت ترین اسائنمنٹ تھی، جس پر میں نے کیا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں، یہ جنگ انتہائی خطرناک اور ناقابل پیشگوئی تھی جس میں انتہائی جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ لہٰذا آپ کو اپنی زندگی سے متعلق پریشانی لاحق ہوتی مگر ساتھ ہی اس معاملے کی اہمیت کے پیش نظر آپ کو میٹیریل حاصل کرنے اور اسے بھیجنے کا دباؤ بھی ہوتا ہے۔‘‘چیرنوف اور مالولیٹکا کو ماریوپول سے بے دخل کیے جانے کے قریب دو ہفتے بعد روسی فوجیوں نے لیتھوانیا کے ڈاکومنٹری فلم میکر مانتاس کویڈاراویچیوس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

Advertisement

 

Advertisement

Related Articles