بچوں میں موٹاپے کی تشویش ناک سطح سے ٹائپ ٹو ذیابیطس میں اضافہ

لندن ،جون ۔ ایک چیرٹی کا کہنا ہے کہ بچوں میں موٹاپے کی بڑھتی ہوئی تشویشناک سطح کی وجہ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کے شکار بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چیرٹی ذیابیطس یو کے نے متنبہ کیا کہ مصارف زندگی میں ہونے والے اضافے کے بحران کے نتیجے میں اگلے برسوں میں یہ صورت حال مزید مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ چیرٹی کا کہنا ہے کہ موٹاپے کی بلند سطح اور پرسنل فنانسز پر دباؤ ایک بڑا طوفان پیدا کر رہا ہے، جس سے نوجوانوں کی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ چیرٹی نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ ہمارے بچوں کو چھوڑ رہی ہے اور اس نے مطالبہ کیا کہ موٹاپے سے نمٹنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کی فوری ضروت ہے چیرٹی نے انگلینڈ اور ویلز بھر کے پیڈیاٹرک ذیابیطس یونٹس میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے شکار افراد کیلئے کیئر کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ چیرٹی کے تجزیے کے مطابق موٹاپے کی سطح میں گزشتہ پانچ برسوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ نوجوانوں میں موٹاپے کی سطح میں اضافے کی وجہ سے یہ بڑی چھلانگ کے بعد سامنے آئی ہے۔ انگلینڈ کیلئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے۔ کہ رسپشن کلاس کے بچوں، جن میں چار سے پانچ سال کے بچوں میں یہ تناسب بڑھا ہے، جن میں 2019 اور 2020 اور 2020-2021 کے درمیان 46 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ریسرچ کے مطابق 10 میں سے ایک بچہ سکول کے پہلے سال میں موٹاپے کا شکار تھا۔ چیرٹی ذیابیطس یو کے کا کہنا ہے کہ انگلینڈ ایند ویلز کے سب سے زیادہ پسماندہ اور محروم حصوں میں بچے اس بیماری سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹائپ 2 ذیابیطس کے شکار 10 میں سے 4 یعنی 40 فیصد بچے اور نوجوان غریب ترین ایریاز سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ امیر ترین علاقوں میں 19 میں سے ایک بچہ امیر ترین علاقے میں رہتا ہے۔ چیرٹی نے مزید کہا کہ یہ ڈیٹا چائلڈ ہد اوبیسٹی کے پھیلائو کی گونج ہے۔ چیرٹی ذیابیطس یو کے کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے مصارف زندگی کے بحران سے اضافی بوجھ کی روشنی میں آگلی دہائیوں میں غریب ترین بچے صحت کا مزید نقصان اٹھائیں گے۔ ذیابیطس یو کے کے چیف ایگزیکٹو کرس ایسکیو نے کہا کہ اعداد و شمار سے اجاگر ہونے والی صورت حال پر ہمیں تشویش ہے۔ چائلڈہڈ اوبیسٹی میں اضافہ آئندہ برسوں میں بچوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس میں بہت زیادہ اضافے کا سبب ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک بحران ہے جو طویل عرصے کی صحت کی سہولتوں اور دیگر عدم مساوات کی وجہ سے بڑھا ہے اور بڑھتے ہوئے مصارف زندگی کے بحران کے اثرات اس صورت حال کو مزید بد تر بنا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بچوں کی صحت کے حوالے سے اپنے تمام وعدوں اور وابستگیوں پر مکمل طور پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنی اوبیسٹی سٹریٹیجی کمٹمنٹس کو بیک ٹریک کرنے کے فیصلوں کو ریورس کر کے اس کا فوری آغاز کرنا چاہئے اور چائلڈ ہڈ اوبیسٹی کے بڑھتے ہوئے تشویش ناک مسئلے سے نمٹنے کیلئے ٹھوس اور جرات مندانہ اقدامات کرنے چاہئیں اور آئندہ ہیلتھ ڈسپریٹیز وائٹ پیپر میں پاورٹی کے شکار بچوں کی صحت کیلئے کیلئے بہتر اقدامات نظر آنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی حکومت ہمارے بچوں کو مایوس کر رہی ہے۔ بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اب موٹاپے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی شخیص ہوئی ہے۔ یہ صورت حال انتہائی تشویشناک ہے اور اس سے این ایچ ایس اور ہیلتھ سروسز پر ناصرف دبائو بڑھ رہا ہے بلکہ اس سے ہماری مستقبل کی نسلوں کی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

Advertisement
Advertisement

Related Articles