یوپی کی صحت مند سیاسی روایات کو مضبوط بنائیں:صدجمہوریہ

لکھنؤ:جون۔صدر جمہوریہ رام ناتھ کوند نے اترپردیش مقننہ کے قابل افتخار تاریخ کاذک کرتے ہوئے پیر کو وھان منڈل کے دونوں ایوانوں کے اراکین سے ایوان میں ماضی کی کچھ نا شائستہ واقعات کو بھلا کر صحت مند سیاسی روایات کو مضبوط بنانے کی اپیل کی۔صدر جمہوریہ کووند نے ودھان منڈل کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اترپردیش ودھان منڈل میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان باوقار ہم آہنگی کی شاندار تاریخ رہی ہے۔ انہوں نے کہا’کبھی کبھار اس مضبوط راویت کے خلاف جو ناخشگوار واقعات پیش آئے ہیں انہیں استثنی کے طور پر بھلانے کی کوشش کرتے ہوئے آپ سب کو اترپردیش کی صحت مند سیاسی روایات کو زیادہ مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے اراکین اسمبلی کو نصیحت کرتے ہوئے کہا’جمہورت میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کی نظریات میں فرق ہوسکتا ہے لیکن دونوں میں دشمنی نہیں ہونی چاہئے۔ اس موقع پر اترپردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل، قانون ساز کونسل کے چیئرمین کنوار مانویندر سنگھ، اسمبلی کے اسپیکر ستیش مہانا،وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور قائد حزب اختلاف اکھلیش یادو موجو د تھے۔اس دوران صدرجمہوریہ نے اراکین سے عوام کی لگاتار بڑھی توقعات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ودھان منڈل جمہوریت کا مند ہوتاہے۔ عوام آپ کو اپنا مستقبل سناش مانتے ہیں۔ ریاست کی وام کو آپ سبھی سے بہت سی امیدیں و توقعات ہیں اور ان توقعات پر پورا اترنا ہی آپ سبھی کا سب سے اہم ذمہ داری ہے۔صدرجمہوریہ نے اراکین اسمبلی سے خدمت خلق کے دوران عوام کے ساتھ کسی طرح کی تفریق نہ کرنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا’ آپ کی خدمت خلق کے دائرے میں سبھی شہری شامل ہیں۔ چاہئے انہو ں نے آ پ کو ووٹ دیا ہو یا نہ دیا ہو اس لئے ہر شخص کے مفاد میں کام کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔صدر جمہوریہ نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا’ میں یہ بھی کہنا چاہونگا کہ اپنی آئینی حلف کے مطابق آپ سبھی اپنے علاقوں کے علاوے پوری ریاست ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے کام کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔مجھے یقین ہے کہ آپ سبھی کی جدوجہد سے یوپی جلد ہی’اتم پردیش‘ بن جائیگا۔اس سے پہلے صدرجمہوریہ نے ودھان منڈل کے دو ایوانوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی ضرورت پر بھی زوردیا۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش نے ملک کو پہلی خاتون وزیر اعظم دیا، پہلی خاتون وزیر اعلی اور پہلی خاتون گورنر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلی میں اب تک سب سے زیادہ 47خواتین منتخب ہوچکی ہیں۔یہ کل اراکین کی تعداد کا12فیصدی ہے۔ اسی طرح ودھان پریشد میں پانچ فیصدی خواتین ہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی نمائند گی بڑھانے کے لئے وسیع مواقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاتون باختیاری کے سمت میں اترپردیش ودھان منڈل کی تاریخ کا باب آگے بڑھاتےہوئے مقننہ میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی کوشش کی جانی چاہئے۔اس دوران صدرجمہوریہ نے ملک کو سب سے زیادہ وزیر اعظم دینے والے اترپردیش کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو، پہلی خاتون وزیر اعظم اندرا گاندھی اور وصول کی سیاست کے مشہور ہوئے وزیر اعظم لال بہادر شاستری سے لے کر چندر شیکھر تک اترپردیش کی ہی دین ہیں۔انہوں نے ملک کے ترقی کے سفرمیں پنڈت نہرو سے لے کر راجیو گاندھی اور اٹل بہاری واجپئی اور ریاست کے چہار رخی ترقی میں سابق وزراء اعلی ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی کے کردار کو بھی یاد کیا۔اس موقع پر صدرجمہوریہ نے تحریک جدوجہد آزادی میں اترپردیش کے ہیروز کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی تمام ایسے بھولے۔بسرے آزادی کے گمنام پروانے ہیں جن کی شجاعت اور بہادری کو موجودہ و آئندہ نسلوں کے سامنے پیش کرنا بقی ہے۔انہوں نے کہا کہ اترپردیش کی تاریخی ایسے انقلابیوں سے بھری پڑی ہے جسے تعلیمی اداروں کے ذریعہ نصاب کا حصہ بنا کر سماج میں مناسب مقام دیا جانا چاہئے۔

Advertisement

Related Articles