دشمن احتجاجی مظاہروں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہے، ایران

تہران،جون۔ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ’دشمن‘ پر الزام لگایا ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ کو کمزور کرنے کے لیے مظاہروں کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران میں ایک مرتبہ پھر احتجاجی مظاہرے زور پکڑ رہے ہیں۔ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای عمومی طور پر دشمن‘ کا لفظ امریکہ اور اسرائیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ہفتے کے روز ان کا کہنا تھا کہ احتجاجی مظاہروں کے ذریعے ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔گزشتہ چند ہفتوں میں ایران کے کئی شہروں میں اشیائے ضرورت کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ملک میں پائی جانے والی بدعنوانی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ٹیلی وڑن پر خطاب کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا، آج دشمن اسلامی نظام پر کاری ضرب لگانے کے لیے عوامی مظاہروں پر اعتماد کر رہا ہے۔‘‘23 مئی کو جنوب مغربی شہر آبادان میں زیر تعمیر عمارت گرنے کا واقعے کے بعد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اس واقعے میں کم از کم 37 افراد کی ہلاکت کے بعد مظاہرین کا کہنا تھا کہ نااہل اہلکاروں‘ کو سزائے موت دی جائے۔سپریم لیڈر خامنہ ای کا قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا، دشمن اب انٹرنیٹ، پیسوں اور کرائے کے فوجیوں کی نقل و حرکت کے ذریعے نفسیاتی ذرائع سے لوگوں کو اسلامی جمہوریہ کے خلاف کرنے کی اْمید رکھتا ہے۔‘‘انہوں نے یہ تقریر آیت اللہ روح اللہ خمینی کے مزار پر سرکاری عہدیداروں سمیت ایک ہجوم سے کو مخاطب کرتے ہوئے کی۔ آج ایران میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کا یوم وفات منایا جا رہا ہے۔ ان کا انتقال 1989ء میں ہوا تھا۔خمینی نے 1979ء میں امریکی حمایت یافتہ شاہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کی بنیاد رکھی تھی۔خامنہ ای کا مزید کہنا تھا، امریکہ اور مغرب نے ماضی میں مختلف سوالات پر غلط اندازے لگائے اور وہ آج بھی غلط اندازے لگا رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایرانی قوم کو اسلامی جمہوریہ کی مخالفت پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔‘‘ایران سن 2018ء میں عائد ہونے والی امریکی پابندیوں کے بعد سے اقتصادی طور پر مشکل حالات سے نبردآزما ہے لیکن روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے ایرانی معیشت مزید کمزور ہوئی ہے۔ایران کو سب سے شدید احتجاجی مظاہروں کا سامنا 2019ء میں کرنا پڑا تھا، جب تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق تب ان مظاہروں میں کم از کم 400 افراد مارے گئے تھے۔

Advertisement

 

Advertisement

Related Articles