کابل میں افغان خواتین کا احتجاج، تعلیم اورکام کی اجازت دینے کا مطالبہ

کابل،مئی۔افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کی عاید کردہ سخت پابندیوں کے خلاف دو درجن کے قریب خواتین نے احتجاج کیا ہے اور’’روٹی، کام اور آزادی‘‘کے نعرے لگائے ہیں۔طالبان نے گذشتہ سال اگست میں اقتدار پرقبضے کے بعد افغانستان میں امریکی مداخلت کی دو دہائیوں کے دوران میں خواتین کوحاصل شدہ معمولی فوائد اور آزادیوں کوسلب کرلیا ہے اور ابھی تک انھوں نے لڑکیوں کو تعلیم کے لیے اسکولوں میں اورخواتین کو کام پر جانے کی اجازت نہیں دی۔طالبان کے اس سخت طرزعمل کے خلاف افغان خواتین احتجاج کررہی ہیں۔انھوں نے کابل میں وزارت تعلیم کے باہراتوارکو احتجاجی مظاہرے کے دوران میں ’’تعلیم میرا حق ہے! اسکول دوبارہ کھولیں!‘‘کے نعرے لگائے ہیں۔ان میں سے بہت سے خواتین نے چہرہ ڈھانپنے والا مکمل برقعے پہن رکھے تھے۔نامہ نگاروں کے مطابق مظاہرین نے ریلی ختم کرنے سے قبل چند سومیٹر تک مارچ کیا۔حکام نے سادہ کپڑوں میں ملبوس طالبان جنگجوؤں کو ان کی ریلی کی نگرانی کے لیے تعینات کیا تھا۔مظاہرے میں شریک ایک خاتون ڑولیا پارسی نے بتایا کہ ہم لوگ ایک اعلامیہ پڑھنا چاہتے تھے لیکن طالبان نے اس کی اجازت نہیں دی۔انھوں نے کچھ لڑکیوں کے موبائل فون لے لیے اورانھیں احتجاج کی تصاویر یا ویڈیوز لینے سے بھی روک دیا۔طالبان نے اقتدار پرقبضہ کرنے کے بعد سخت اسلام پسند حکومت کے بجائے نرم روی کا وعدہ کیا تھا۔انھوں نے 1996 سے 2001ء تک اپنے پہلے دورِاقتدارمیں سخت پابندیاں عاید کی تھیں۔اب بھی انھوں نے دوبارہ ان میں سے بعض پابندیوں کا نفاذ کیا ہے اوربالخصوص خواتین کے گھروں سے باہر کام اور لڑکیوں کے تعلیمی اداروں میں جانے پر پابندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔انھوں نے مغربی ملکوں اور تنظیموں کے ساتھ وعدوں کے باوجود ان پابندیوں کو ختم نہیں کیا ہے۔اس وقت افغانستان میں دسیوں ہزار لڑکیاں اسیکنڈری اسکولوں میں جانے سے قاصرہیں اوران کی تعلیم کا حرج ہورہا ہے جبکہ خواتین کو بہت سی سرکاری ملازمتوں پر واپس جانے سے روک دیا گیا ہے۔افغان خواتین پر اکیلے سفر کرنے پر بھی پابندی عایدہے اور وہ صرف مردوں سے الگ مخصوص دنوں میں دارالحکومت میں عوامی باغات اور پارکوں میں سیرکوجاسکتی ہیں۔رواں ماہ سپریم لیڈر اور طالبان کے سربراہ ملّا ہبۃ اللہ اخوندزادہ نے کہا تھا کہ خواتین کوعام طور پرگھرمیں رہنا چاہیے۔انھیں حکم دیا گیا تھا کہ اگرانھیں عوامی سطح پر باہرجانے کی ضرورت ہو تو وہ اپنے چہروں سمیت خودکو مکمل طور پرڈھانپ کررکھیں۔طالبان نے خواتین کے حقوق کا مطالبہ کرنے والے مظاہروں پر بھی پابندی عاید کردی ہے اور اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں واپس لینے کے مطالبے کومسترد کر دیا ہے۔کچھ افغان خواتین نے ابتدائی طوران پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیے تھے لیکن طالبان نے جلد ہی ان کی محرک خواتین کو حراست میں لے لیا تھا اوران کی محدود تحریک کو منتشر کردیا تھا۔

Advertisement

Related Articles