یو جی سی امتحان نوٹیفکیشن کے معاملے میں سماعت مکمل ، فیصلہ محفوظ

نئی دہلی، ملک بھر کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں انڈرگریجویٹ کورسز میں آخری سال کے امتحانات کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سپریم کورٹ نے منگل کے روز فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔
جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس ایم آر شاہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے متعلقہ فریقین کے وکلاء کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ عدالت نے تمام فریقین کو تین دن میں اس کے سامنے اپنا تحریری رخ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔
درخواست گزاروں میں سے ایک، یش دوبے کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی اور کچھ طلباء کی طرف سے سینئر ایڈووکیٹ شیام دیوان ُ پیش ہوئے، جبکہ یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یو جی سی) کی طرف سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے پیروی کی۔ درخواست گزاروں میں شیوسینا کی یوتھ ونگ یووا سینا بھی شامل ہے۔

درخواست گزاروں نے مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت کے مطابق 30 ستمبر تک آخری سال کے امتحانات منعقد کرانے کے لئے یو جی سی کے نوٹیفکیشن کو عدالت عظمی میں چیلنج کیا ہے۔
درخواست گزاروں کی جانب سے پیش وکیلوں نے کہا کہ ملک میں کورونا وبا کی شکل اختیار کرچکا ہے اور حالیہ دنوں میں یہ تعداد 27 لاکھ عبور کرچکی ہے ، ایسے میں یہ امتحانات کا انعقاد مناسب نہیں ہوگا ، جبکہ یو جی سی کا استدلال ہے کہ بغیر امتحان کے طلبہ کو سرٹی فیکٹ نہیں دیئے جاسکتے، جبکہ مختلف یونیورسٹیوں میں انرولمنٹ کا مرحلہ شروع ہونے والا ہے ، ایسے میں بغیر امتحان کے کیسے پاس کیا جائے گا۔
مسٹر سالیسیٹر جنرل نے کچھ ریاستی حکومتوں کے امتحان کو منسوخ کرنے کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت جاری کردہ احکامات یو جی سی کے نوٹیفکیشن کو کالعدم کرسکتے ہیں؟

Advertisement

Related Articles