پیغمبرِ انسانیت : مطالعاتی میز سے کچھ قیمتی باتیں

ابھی بیتے چند ہی دنوں میں آپ نے راقم الحروف کی ایک تبصراتی تحریر ( ڈاکٹر غلام زرقانی کی کتاب”نقشِ خیال”_ایک علمی و فکری جائزہ ) کے تحت ڈاکٹر غلام زرقانی کی کتاب”نقش خیال” سے متعلق واقفیت حاصل کر لی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس ضمن میں آپ دوران گفتگو صاحب کتاب سے بھی روشناس ہو چکے ہوں گے۔ خیر، آج کی نشست میں بھی ڈاکٹر موصوف کی ہی ایک اور اہم کتاب یعنی” پیغمبر انسانیت” کے صفحات پر بکھرے پھول، کانٹے اور اس موضوع کی اہمیت و افادیت سے کان آشنا کرنے کے کوشش کریں گے۔ آپ کو بتا دیں کہ زیر نظر کتاب میں ڈاکٹر موصوف نے برطانیہ کی مشہور مستشرقہ، کیرن آرمسٹرانگ کی کتاب ” Muhammad A Prophet for our time” کی ملمع کاریوں اور علمی خیانتوں کا پردہ چاک کیا ہے۔ کچھ دنوں پہلے فرصت کی گھڑی میں جب ” پیغمبرِ انسانیت” کے مختلف صفحات سے میں آنکھیں دو چار کر رہا تھا اور بالکل ٹکٹکی باندھ کر سطر بسطر آگے بڑھ رہا تھا تو اس وقت کئی ایک چونکا دینے والی علمی خیانتیں، جو مغربی مصنفین کی طرف سے انجام دی گئیں ہیں، کھل کر سامنے آئیں کہ وہ کس قدر عبارتی ملمع سازی و لفظی بازیگری کے سہارے لطیف پیرائے میں شجر اسلام کی بیخ کنی پہ مصر ہیں اور کس طرح ڈھٹائی کے ساتھ دن کے اجالے میں گیہوں دکھا کر جو فروخت کرنے کا کام? کر رہے ہیں، مگر ہم جیسے قارئین ہیں کہ حقیقت جانے بغیر اسے بے تحاشا خریدتے چلے جا رہے ہیں۔ در اصل ہوتا یہ ہے کہ اس نوعیت کی اندھی محبت کے پنپنے کے پیچھے ایک عجیب سی ذہنیت کام کر رہی ہوتی ہے۔ ہم اپنی خوش فہمی کی بدولت ہر مغربی مصنفین کو روشن خیال اور علمی لیاقت و صلاحیت کا ماہر سمجھ لیتے ہیں، ہم اس دام فریب میں___کہ جب مصنف نے اس خوبصورت و اہم موضوع پر خامہ فرسائی کی ہے اور ٹائیٹل پیج و ابتدائی صفحات میں اتنی اچھی باتیں رقم کی ہے تو پھر یہ ظاہر ہے کہ اندر بھی پیمانہ انصاف اسی طرح قائم ہوگا__آ کر مزید سوچنے سمجھنے کی زحمت برداشت نہیں کرتے اور ان کی ہر بات پر آمنا و صدقنا کہتے چلے جاتے ہیں۔ مگر چند ہی ثانیے بعد معاملہ اس قدر سنگین پالیسی کا شکار ہو جاتا ہے کہ ہم برافروختہ ہوئے بنا نہیں رہ سکتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ آپ کا وہ پسندیدہ مغربی اقدار کا علمبردار مصنف اسلام دشمنی کے تحت بظاہر خوبصورت نظر آنے والے غلاف میں کوٹ کوٹ کر زہریلے مواد بھر دیتا ہے۔ ہاں! وہ شہد کی ایسی چھلکتی ہوئی پیالیاں آپ کو پیش کرتا ہے جس میں میٹھے زہر کی بھی آمیزش ہوتی ہے۔ اے کاش!!! کہ ہم پہلے ہی سوجھ بوجھ سے رشتہ جوڑ لیتے۔۔۔اگر آپ کو میری ان باتوں پہ یقین نہ آئے تو دل تھام کر بیٹھیں اور سنجیدگی و متانت کی رفاقت میں ڈاکٹر موصوف کا یہ اقتباس دیکھتے چلیں۔ کتاب میں موجود ” آغازیہ” کے تحت آپ لکھتے ہیں:
“میرے ایک دوست نے کرن آرمسٹرانگ کی لکھی ہوئی کتاب بنام” محمد ہمارے عہد کے پیغمبر” کی پذیرائی کچھ اس انداز سے کی کہ میں نے ان کے دولت خانے سے رخصت ہوتے ہوئے کچھ دنوں کے لیے وہ کتاب مانگ لی۔ اپنی عدیم الفرصت زندگی سے چند ساعت نکال کر جب اسے پڑھنا شروع کیا، تو حیرت و استعجاب سے میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور میں سکتے میں آگیا۔ کوئی شک نہیں کہ کتاب کی پشت پر لکھے ہوئے تعارفی کلمات ایسے پرکشش اور جاذب نظر ہیں کہ پڑھتے ہی دل کھینچا چلا جاتا ہے، اور ایسا محسوس ہوتاہے کہ مصنفہ کے قلم سے کوئی عقیدت کیش مصطفی جان رحمت ? کی چوکھٹ پر دست بستہ اپنے دلی جذبات کی نذریں پیش کر رہا ہے، لیکن جب بین السطور سے پھوٹنے والی زہریلی کرنوں کا سراغ لگائیے، تو یقین ہو جاتا ہے کہ بظاہر دکھائی دینے والی بہاریں کسی خطرناک طوفان کا پیش خیمہ ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ انھوں نے مستحکم بنیادیں کمزور کرتے ہوئے خوبصورت عمارت تعمیر کرنے کی کوشش کی ہے”۔
? ڈاکٹر موصوف نے اپنی پوری کتاب میں مصنفہ کی کتاب سے چنندہ زہریلی عبارتوں پر کھل کر تنقید کی ہے اور جابجا علمی وقار و تمکنت کے ساتھ مصنفہ کے مکروہ چہرے سے خوبصورتی کا غلاف الٹنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ابتدائی دور میں ڈاکٹر موصوف کا یہ علمی، تحقیقی و تنقیدی مضمون بھارت و شمالی امریکہ سے شائع ہونے والے سہ ماہی “آیات” میں قسط وار شائع ہوتا رہا، مگر آگے چل کر مولانا ڈاکٹر امجدرضا امجد (قاضی: ادارہ شریعہ پٹنہ) کی تحریک و مشورہ پر ان تمام مضامین کو یکجا کر کے ” پیغمبرِ انسانیت” کے خوبصورت نام سے کتابی شکل دے دی گئی ہے۔ (اس انتہائی مناسب نام کے انتخاب پر راقم الحروف کی طرف سے ڈاکٹر موصوف کو ڈھیروں مبارکباد۔۔۔۔۔)
زیر نظر کتاب میں ترجمان اسلام، مفکر ملت علامہ قمرالزماں اعظمی کی طرف سے مختصر مگر جامع تقدیم بھی شامل ہے۔ علامہ اعظمی نے اپنی تقدیم میں دوسری اہم باتوں کی جلو میں اس حقیقت کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ “کیرن آرم سٹرانگ کی اس زہریلی کتاب کو ایک سازش کے تحت عالمی شہرت دی گئی، مصنفہ کو بہت سے ایوارڈز سے نوازا گیا اور عالمی سطح پر بہت زیادہ اسے سراہا گیا، ٹھیک اسی طرح سے جیسے ڈاکٹر سر ولیم میور کی کتاب ” دی لائف آف محمد” کو شہرت دی گئی تھی”۔ کتاب ہذا کے ص: ۰۱ تا ۶۱ مصنفہ کا تعارف اور ان کی کتاب کے سبب وجود کو بھی بتایا گیا ہے۔ ڈاکٹر موصوف نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ کرن آرمسٹرانگ نے ویسے تو یہ کتاب بہت پہلے لکھی تھی پر ستمبر،۱۰۰۲ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد اسے ازسرنو مزید اضافے کے ساتھ شائع کیا گیا۔ مگر۔۔۔پھر بھی عدل و انصاف، تحقیق وتدقیق اور غیر جانبدارانہ اسلوب بیان کے بلند بانگ دعووں کے باوجود مصنفہ اپنے قلم کے وقار کو مجروح ہونے سے نہ بچا سکیں، کہیں وہ ثانوی درجے کے مصادر و مراجع پر انحصار کرنے کی وجہ سے حقیقت سے دور جا نکلی ہیں تو کہیں دیدہ و دانستہ حقیقت کا چہرہ مسخ کرنے کی ناپاک کوششیں کی گئی ہیں۔
مصنفہ اپنی کتاب کے ص: ۴۱، پر حدیث کی تاریخی حیثیت سے بحث کرتے ہوئے لکھتی ہیں:
” A little more than a hundred years after Muhammad’s death, as Islam continued to spread to new territories and again converts, Muslim scholars began to compile the Great collections of Mohammad’s sayings (ahadith) and customary practice (sunnah), which would form the basis of Muslim law.”
ڈاکٹر موصوف نے اس اقتباس پر، مصنفہ کی علمی خیانت تئیں اچھی گرفت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ نوک قلم کو رنگین بیانی سے بچاتے ہوئے اسے دیانت و انصاف کی روشنائی میں ڈبو کر صرف مبرہن و مدلل باتیں ہی تحریر کی ہیں۔ جتنی بھی باتیں رقم کی گئیں ہیں، ان سے یہی مفہوم مترشح ہوتا ہے کہ کتابت حدیث کا کام زمانہ رسالت ? سے ہی ہوتا چلا آ رہا ہے۔
راقم الحروف کا ماننا ہے کہ تحقیق و تدقیق کے موضوع پر جو بھی کتابیں، تحریریں اور لیٹریچز وغیرہ عام طور پر دستیاب ہیں، وہ خشک ہی ہوتے ہیں۔ زبان و بیان کے معاملے میں توجہ کا ارتکاز ادبی پہلؤوں پر زیادہ نہیں ہوتا بلکہ سہل و سادہ اندازِ بیان اختیار کیا جاتا ہے?۔ مگر ڈاکٹر موصوف کا قلمی رنگ و آہنگ یہاں بھی جدا جدا سا ہے۔ اس حوالے سے بھی وہ اپنے قارئین کا دل جیت لینے میں کامیاب ہیں۔ ہر جگہ ایسا ادبی وقار جھگکتا ہے، جو قاری کے اندر لگی ہوئی دلچسپی کی آگ میں مزید گھی ڈالنے کا کام کرتا ہے۔ بطور نمونہ یہ اقتباس دیکھتے چلیں، جسے آپ نے مصنفہ کی مذکورہ انگریزی عبارت نقل کرنے کے بعد ہی برجستہ تحریر کیا ہے، آپ لکھتے ہیں:
“اسے کہتے ہیں سونے کی پرکشش، دیدہ زیب اور مرصع پیالی میں میٹھے زہر کی ایک چسکی۔ یہ ہے تو ایک بوند مگر نتیجے کے اعتبار سے اسلامی اقدار کے گہرے سمندر کو آلودہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسلام سے تعلق رکھنے والا ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ صراط مستقیم کی تعیین میں حدیث کی اہمیت کیا ہے؟ حدیث ہی وہ قیمتی سرمایہ ہے جو نہ صرف بہت سارے معاملات میں ہماری رہنمائی کرتا ہے بلکہ وہ قرآن کریم کے کئی اہم مقامات پر مفاہیم اور مدلولات کے صحیح رخ کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ گویا سرمایہ حدیث ہی اگر تاریخی اعتبار سے کمزور ہو جائے تو پھر قرآن کے واقعی مفاہیم کی تعیین بھی خطرے کی زد پر ہو جائے گی”۔
زیر نظر کتاب ۵۸۱/صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں ان ۶۱، اہم مسائل پر، جن کا تعلق کسی نہ کسی جہت سے مصطفی کریم ? کی ذات پاک سے ہے، مصنفہ نے بڑی چالاکی سے ان کی مستند تاریخی حیثیتوں پر انگلی اٹھانے کا کام کیا ہے اور ڈاکٹر موصوف نے پوری بیدار مغزی کے ساتھ مد مقابل کی علمی خیانتوں کو بیان کرتے ہوئے تشفی بخش حل پیش کر دیا ہے۔ ساتھ ہی اپنی باتوں کو باوزن بنانے کے لیے کئی ایک مواقع پر اہم و مستند واقعات بھی پیش کیا ہے۔ سچ بتاؤں تو واقعات پڑھتے ہوئے کیف آگیں لمحات جہاں اپنی موجودگی کا احساس جمال دلا جاتے ہیں وہیں عقل و خرد اور دل و دماغ بھی علمی مہک پا کر جھومنے لگتے ہیں۔ اس حوالے سے ص:۵۲۱ تا ۳۳۱، پہ جہاں ڈاکٹر موصوف نے مصنفہ کے اس دعوی کو کہ” اسلام اھل کتاب کے لیے نہیں ہے” آئینہ دکھانے کے لیے اچھی خاصی دلیلیں پیش کی ہے وہیں ۹۲۱، ویں صفحہ پر ایک پرمغز واقعہ بھی نقل فرما دیا ہے۔ (اہل ذوق تفصیل جاننے کے لیے مذکورہ صفحہ کا مطالعہ کریں) امید ہے کہ وہ آپ کی روح و ایمان کو تازگی فراہم کرے گا۔انشاءاللہ
وہ ۶۱، مسائل و موضوعات جو اس میں زیر بحث ہیں، ان میں مسئلہ واقعہ غرانیق پر مصنفہ کی طرف سے اٹھائے گیے تمام تر الزامات کا ڈاکٹر موصوف نے خوب خبر لی ہے۔ انتہائی شرح و بسط کے ساتھ آیات قرآنیہ، احادیث مبارکہ، اقوال سلف اور عقلی براہین کی معیت میں عدل و انصاف کا علم بھی خوب بلند کیا ہے۔ اس واقعہ سے متعلق مصنفہ نے جس طرح دلسوز باتیں لکھی ہیں، میرا خیال ہے کہ انھیں پڑھتے ہوئے کسی بھی منصف مزاج شخص کی ذہنی کائینات میں ضرور بھونچال مچ جائے گا۔ اعلائے کلم? الحق کے حوالے سے مصنفہ لکھتی ہیں:
“In his desire to avoid a serious dispute Mohammad did not, at this stage, emphasize the monotheistic content of his message”.
آپ دیکھ رہے ہیں کہ مصنفہ آقا کریم ? کی ذات بابرکات پر کس طرح بیدھڑک دو دو سنگین الزامات عائد کر رہی ہیں۔ ایک یہ کہ معاذ اللہ سرکار دو عالم ? کسی ماہر سیاسی بازیگر کی طرح اپنے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے کفر و شرک کے خلاف آواز بلند کرنے سے بچتے رہے، اور دوسرا یہ کہ پیغام اسلام کے برحق ہونے کے باوجود اسے چھپاتے رہے۔
اسی طرح واقعہ حضرت ابن مکتوم رضی اللہ عنہ سے غلط نتیجہ اخذ کرتے ہوئے مصنفہ نے جس طرح سعی مذموم کا? مظاہرہ کیا ہے، اسے ڈاکٹر موصوف نے تفصیلاً بیان کرنے کے ساتھ ساتھ عمدہ جواب بھی رقم کیا ہے تا کہ قارئین اپنے سارے ذہنی خلجان بحسن و خوبی مندفع ہوتا ہوا دیکھیں۔۔۔مگر اب تک یہ ایک بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ کتاب ہذا کے ص:۷۲ تا ۵۳ پر ڈاکٹر موصوف نے مصنفہ کی کتاب کے صفحہ ۱۲، سے یہ خطرناک اقتباس ( Muhammad could only think that he was being attracted by a jinni, one of the fiery spirits who haunted the Arabian steppes and frequently lured travellers from the right path.) نقل کرنے? کے بعد بطور تردید مختلف دلیلیں پیش کی ہے، مگر آپ چند ہی سطروں بعد مولانا مودودی پر ہی آخر تک برستے چلے گیے ہیں۔ ہاں! میری ان باتوں سے ہرگز یہ نہ سمجھا جائے کہ میں اس بابت مودودی فکر سے اتفاق رکھتا ہوں، بس میری اپنی ناقص فہم کے مطابق عرض مدعا یہ ہے کہ جب زیر تبصرہ کتاب مصنفہ کی رد میں لکھی گئی ہے تو پھر قلم کی سیاہی اس پہ ہی صرف ہونی چاہیے۔ ہو سکتا ہے یہاں کوئی یہ قول کرے کہ مصنفہ اس مذکورہ اقتباس کے آئینے میں زیر بحث مسئلہ(حضور ? کو اپنے منصب نبوت پر فائز ہونے کا علم تھا یا نہیں؟) پر اسی فکر کی عکاسی کرنا چاہتی ہے جس کے داعی مولانا مودودی کے خیمے سے تعلق رکھنے والے نام نہاد “محققین” ہیں۔ اس پر بھی میرے خیال سے یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ تب تو کتاب میں جتنے بھی مسائل موضوع بحث بنے ہوئے ہیں، ان میں مصنفہ کی فکرِ غلط سے موافقت کرنے والے اور بھی ڈھیروں افراد ہیں، تو پھر زیر نظر کتاب میں ان کی تردید بھی نام بنام ہونی چاہئے۔( خیر یہ میرا ذاتی خلجان ہے، جس کی دفع کے لیے کسی رہنما خطوط کا طلبگار ہوں)

مصنفہ نے اپنی پوری کتاب میں اسی طرح قلمی پرکاری کے بدولت اپنی زہریلی تحریر کو شہد میں ملا کر اس طرح پیش کیا ہیکہ قاری لاشعوری طور پر مستشرقین کے ان تمام الزامات کو صحیح تصور کرنے لگے، جو مصطفی کریم ? کی سیرت مبارکہ پر برسوں سے لگائے جا رہے ہیں۔ پر بھلا ہو ڈاکٹر موصوف کا انھوں نے وقت کی بہتر نباضی کرتے ہوئے اس حساس موضوع کی نزاکت کو بھانپ لیا اور اپنے قلم کی کی قیمتی روشنائی میں سے کچھ ادھر بھی صرف کیا۔
جہاں تک میری قوت حافظہ کام کر رہی ہے، اس کی رفاقت میں یہ بات یقین کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ آج سے چار/ پانچ برس پہلے میں جماعت سادسہ/سابعہ کا طالب علم ہوا کرتا تھا۔روایت اشرفیہ کے مطابق اس سال منعقد ہونے والے “جشن یوم مفتی اعظم ہند” کے تحریری مسابقہ میں ہم? لوگوں کا عنوان غالباً مستشرقین کی علمی خیانتوں کو اجاگر کرنے والے مصنفین اور ان کی کتابوں کا تعارف تھا اور اس موضوع پر میں نے بھی خامہ فرسائی کی ہمت جٹائی تھی۔ اس لیے مواد کی فراہمی میں گوگل سرچنگ اور اہل علم سے رابطہ کرنے کے ساتھ ساتھ جامعہ ہی کے احاطے میں موجو امام احمد رضا لائبریری کا کتنی دفع چکر کاٹا_____یہ مجھے ٹھیک ڈھنگ سے نہیں معلوم۔ پر ہاں! یہ حقیقت گوش? ذہن میں اب بھی زندہ ہے کہ میں اپنی تلاش و جستجو کی راہ میں کما حقہ راہ یاب نہیں ہو پایا تھا۔ مگر آج جب ڈاکٹر موصوف کی یہ گراں قدر کتاب سْرمہ نگاہ بنی ہے تو دل پھولے نہیں سما رہا ہے اور بڑی خوشی کی بات تو یہ ہے کہ ابھی ان کی ایک اور کتاب بنام”ضرب قلم” مستقل اسی موضوع پر زیر تصنیف ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ موصوف کا قلم آئیندہ بھی اسی طرح سبک خیزی کے ساتھ چلتا رہے گا(انشاءاللہ)۔۔۔مذکورہ تمام خوبیوں کے باوجود ڈاکٹر موصوف سے راقم الحروف کا یہ شکوہ رہ جاتا ہے کہ جس طرح مصنفہ کی کتاب انگریزی میں ہے اسی طرح آپ کا یہ قلم برداشتہ تحفہ بھی اگر انگریزی زبان و بیان کا جامہ پہن لیا ہوتا تو پھر کمال کا لطف آتا اور قارئین کی نگاہیں مزید تازگی محسوس کرتیں۔
خیر،موصوف نے زیر نظر کتاب کو باوزن بنانے میں مصادر ومراجع کے لیے تقریباً ۴۵/ چھوٹی بڑی اہم کتابوں کو بطور حوالہ پیش کیا ہے اور اس طرح اس کا حجم ۸۸۱/صفحات تک وسیع ہو جاتا ہے۔ کتاب کے Back side پر علامہ قمرالزماں اعظمی صاحب کے جذبات دل مرقوم ہیں۔ پہلی مرتبہ اس کی اشاعت جون، ۳۱۰۲ء/ میں دارالکتاب، دہلی سے ہوئی ہے۔ مطالعہ کے شوقین اسے رضوی کتاب گھر،کتب خانہ امجدیہ و مکتبہ جام نور دہلی اور قادری کتاب گھر بریلی شریف، یوپی سے حاصل کر سکتے ہیں۔

Related Articles